سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(144) مولوی نے ایک وقت میں دو جماعت کے ساتھ امامت کرائی

  • 5651
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-06
  • مشاہدات : 417

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مولوی نے ایک وقت میں دو جماعت کے ساتھ امامت کرائی نماز جماعت ثانیہ خلف اس کے رواد صحیح ہے یا نہیں۔ بینواتوجروا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رواد صحیح ہے بموجب ان حدیثوں کے کہ جو بخاری و مسلم وغیرہ میں مذکور ہیں۔

’’معاذ بن جبلؓ نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھاکرتے تھے پھر اپنی قوم میں آئے اور ان کو نماز پڑھاتے۔ حضرت معاذ نبیﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے پھر اپنی قوم میں واپس آتے اور ان کو آکر عشاء کی نماز پڑھاتے اور یہ نماز ان کی نفل ہوتی اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز ہوجاتی ہے ۔ امام شافعی کا یہی مذہب اور اس کے برخلاف جو دعاوی تاویلات پیش کیے جاتے ہین ان کاکوئی اصل نہیں ہے ۔ حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خوف کے وقت بطن نخلہ میں لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر دیا پھر دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیردیا۔ملا علی قاری نےکہا ہے کہ امام شافعی کے مذہب پرتو اس میں  کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ فعل کے پیچھے فرض کی نیت صحیح جانتے ہیں اور آنحضرت قصر کی حالت میں تھے پچھلی دو رکعت جو آپ نے دوسری جماعت کو پڑھائیں وہ آپؐ کی نفل نماز تھی۔ حسن بصری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی مذہب  ہے۔‘‘                                             (سیدمحمد نذیر حسین)

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ