سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(124) متون میں ظہر کے وقت میں روایت مثلین درج ہے

  • 5631
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-06
  • مشاہدات : 476

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ فقہ کی تمام کتابوں کے متون میں ظہر کے وقت میں روایت مثلین درج ہے اور شارح اپنی تمام کتابوں میں روایت مثل بیان کرتے ہیں ­ ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ان دونوں میں سے روایت مثلین کےاختیار کرنے کی کوئی وجہ تو ضرور ہوگی ، صاحب درمختار ن ےمثل کی روایت  پر فتویٰ دیا ہے اور قاضی ثناء اللہ نے روایت مثلین کو ترجیح دی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے مثلین کی روایت سے رجوع کرلیا تھا۔ آپ کی اس بارے میں کیا تحقیق ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صاحب قدوری و ہدایہ و وقایہ و شرح وقایہ و کنز وغیرہ سب علاقہ ماورا النہر کے رہنے والے ہیں ، ان کا مذہب یہ تھا کہ مقلد کو اپنے مجتہد کے قول کے کسی طرح انحراف نہیں کرنا چاہیے اور دوسرے مقلدوں کا یہ مذہب ہے کہ دلیل کے ضعف وقوت کو ملحوظ رکھنا چاہیے اور صاحب درمختار  اور چند ایک اور فقہاء جن کے نام در مختار میں موجود ہیں، عراق کے رہنے والے ہیں، ان کا مسلک یہ ہے کہ جس مسئلہ میں دلیل واضح موجود ہو، اس پر عمل کرلینا چاہیے اور  جہاں ایسا نہ ہو،وہاں اپنے مجتہد کے قول پر عمل کرنا چاہیے، چنانچہ اسی  نظریہ کے اختلاف کے سبب اکثر اصحاب متون نے روایت  مثلین کو قبول کرلیا اورعلمائے عراق کہ ان کے اندر اتنا تعصب نہیں تھا، انہوں نے روایت مثل کو اختیار کیا، حادی قدسی عراقی نے لکھا ہے کہ اگر صاحبین امام صاحب کے مخالف ہوں تو بعض امام صاحب کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور بعض اختیار کے قائل ہیں کہ جس کے قول پر چاہے عمل کرے اور صحیح بات یہ ہے کہ دلائل کا جائزہ لیا جائے، جس کی دلیل قوی ہو، اس کے قول کو ترجیح دی جائے۔ پس  اسی اصول کے مطابق صاحب درمختار نے ایک مثل والی روایت کو قبول کیا ہے اور ملا عابد سندھی نے مواہب لطیفہ شرح مسند ابی حنیفہ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ’’عصر کی نماز سویرے پڑھا کرو‘‘ عصر کا وقت شروع ہونے میں علماء کا اختلاف ہے ، جمہو رکا مسلک یہ ہے کہ ایک مثل کے  بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور پھر اس پر چند ایک حدیثیں نقل کرکے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے عصر کے وقت کے متعلق صاحبین کے قول کی طرف رجوع کرلیا تھا اور صاحب ’’فتاوی الثانی‘‘ صاحب ’’کتاب الانیس‘‘ صاحب ’’جوہر منیر‘‘ نے بھی امام صاحب کا رجوع نقل کیا ہے اور زیادات الہندوانی علی المستدرک الشیبانی نے بھی بات  ’’مایحل اکلہ وملا یحل‘‘ میں امام صاحب کا رجوع نقل کیا ہے۔ اور صاحب ’’الصراط القویم‘‘ نے امام صاحب کا رجوع نقل کرکے لکھا ہے کہ اگر امام صاحب ایک طرف ہوں اور صاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے ، چاہے تو امام صاحب کا مسلک اختیارکرے اور چاہے تو صاحبین کا ۔

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ سایہ کے ایک مثل ہوجانے پر ظہر کا وقت نکل جاتا ہے اور عصر کا شرو ع ہوجاتا ہے اور امام ابوحنفیہ سے مشہور روایت یہ ہےکہ ظہر کا وقت ایک مثل پر ختم ہوجاتا ہے اور عصر کا وقت دو مثل کےبعدشرو ع ہوتا ہے اور درمیانی وقت نہ ظہر کا ہے نہ عصر کا، قرطبی نے کہا امام صاحب کے اس قول کی مخالفت ساری دنیا نے کی ہے ،حتیٰ کہ آپ کے تمام شاگردوں نے بھی ، اور باقی تینوں امام بھی اس کے قائل ہیں کہ ایک مثل کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور یہی صحیح ہے اور ظہر کی نماز کو ایک مثل کے بعد ٹھنڈا کرنا ممنوع ہے بلکہ ابراد ایک اضافی امر ہے کیونکہ گرمی کی شدت دوپہر کے وقت زیادہ ہوتی ہے اور ایک مثل سایہ ہونے تک نسبتہ کم ہوجاتی ہے، قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں ، جن علاقوں میں دوپہر کی نسبت سہ پہر کو گرمی زیادہ ہوجاتی ہے انہیں چاہیے کہ وہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز اوّل وقت میں پڑھیں تاکہ ابراد حاصل ہو، اس مسئلہ کی پوری تحقیق معیار الحق میں لکھی گئی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں اور یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ تین کی روایت صحیح اور مفتی  بہ ہو، دیکھئے اکثر کتب فقہ میں لکھا ہے کہ نمازی اپنے کام سے نماز سے باہر آئے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، چنانچہ تبیین اور اکثر کتب میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ واللہ اعلم


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ