سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(122) وقت ظہر کا اصح مذہب پر کہاں سے کہاں تک ہے؟

  • 5629
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 1126

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وقت ظہر کا اصح مذہب پر کہاں سے کہاں تک ہے۔بینوا توجروا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ظہر کاوقت اصح مذہب پر آفتاب کے ڈھلنے سے اس وقت تک  ہے کہ ہر شئے کا سایہ اس کے برابر ہو۔ علاوہ سایہ اصلی کے، صحیح  مسلم میں ہے۔ عن[1] عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال وقت الظہر اذا زالت الشمس وکان ظل الرجل تطولہ سالم تحضر العصر الحدیث ،اور ابوداؤد و ترمذی میں ہے : عن[2] ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امنی جبریل عند البیت مرتین فصلی بی الظہر حین زالت الشمس وکانت قدر الشراک وصلی بی العصر حین صار ظل کل شئ مثلہ الحدیث، طحطاوی حاشیہ درمختار میں ہے : (و وقت[3] الظہر من زوالہ)  ای میل ذکاء عن کبد السماء رالی بلوغ الظل مثلیہ) وعنہ مثلہ وھو قولھما و زفروائتہ الثلاثۃ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین قال الامام الطحاوی وبہ ناخذ وفی غر رالا فکار وھو الما خوذبہ وفی البرھان وھو الاظہر لبیان جبریل علیہ السلام وھو نص فی الباب وفی الفیض و علیہ عمل الناس الیوم وبہ یفتی(سوی فی) یکون للاشیاء قبیل (الزوال) ویختلف باختلاف الزمان والمکان ولو ولم یجد ما یغرز اعتبر بقامتہ وھی ستۃ اقدام و نصف بقدمہ من طرف ابہامہ (ووقت العصر منہ الی) قبیل (الغروب) انتہی واللہ اعلم۔ حررہ محمد ابوالحسن عفی عنہ (سید محمدنذیرحسین)



[1]   آنحضرتﷺ نے فرمایا: ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے لے کر سایہ کے  ایک مثل ہونے تک  ہے، جب تک کہ عصر کا وقت نہیں ہوتا۔

[2]   رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے دو دفعہ بیت اللہ کے پاس میری امامت کرائی۔ ظہر کی نماز، اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور ایک تسمہ کے برابر سایہ تھا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ ہرچیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۔

[3]   ظہر کاوقت سورج کے نصب النہر سے ڈھلنے سے لے کر دو مثل تک ہے اور امام صاحب سے ایک مثل بھی مروی ہے  اور امام ابویوسف ، محمد، زفر ،امام مالک، شافعی اور احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے (یعنی ایک  مثل طحاوی کہت ےہیں، ہمارا عمل اسی طرح ہے کیونکہ جبریل کی حدیث اس معاملہ میں نص ہے ، فیض میں ہے ، آ کل عمل اسی پر ہے ، اسی پرفتوی ہے یعنی ایک  مثل اصلی سایہ کے بعد جو کہ مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے اگر کوئی چیز گاڑنے کے لیےنہ مل سکے تو آدمی اپنا سایہ ماپ لے اور وہ ساڑھے چھ قدم ہے،انگوٹھے کی جانب سے۔


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ