سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(113) امام کے ساتھ آہستہ آہستہ سورت فاتحہ پڑھتے جائیں یا نہیں؟

  • 5620
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-06
  • مشاہدات : 468

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جس وقت امام جماعت کے ساتھ نماز پڑھائے تو مقتدی لوگ اپنے امام کے ساتھ آہستہ آہستہ سورت فاتحہ پڑھتے جائیں یا نہیں اگر مقتدی اپنے دل میں آہستہ آہستہ امام کے ساتھ الحمدنہ پڑھیں گے تو ان کی نماز میں کچھ نقصان آئے گا یا نہیں۔ بینوا توجروا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام کے پیچھے مقتدی کو آہستہ آہستہ سورت فاتحہ  پڑھنا نہایت ضروری  ہے اگرمقتدی سورت فاتحہ نہیں پڑھیں گے تو ان کی نماز ہی نہیں ہوگی، صحیحین میں عبادہ بن  صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا صلوۃ الابفاتحۃ الکتاب یعنی بغیر فاتحہ کے کوئی نماز نہیں، اس حدیث میں حضرت نے عام طور پر فرما دیا کہ کوئی نماز مقتدی کی ہو یا امام کی، فرض ہو یا نفل، کوئی نماز بغیر فاتحہ کے نہیں ہوتی اور خاص مقتدیوں کے لیے فرما دیا ہے لاتفعلوا الابفاتحۃ الکتاب فانہ لاصلوۃ لمن لم یقرأ بہا ۔رواہ الترمذی وغیرہ یعنی مت پڑھو، مگر  سورت فاتحہ پڑھو، اس واسطے کہ جس نے سورت فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ­واللہ تعالیٰاعلم ۔ حررہ عبدالحق ملتانی۔                        (سید محمد نذیر حسین)


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ