سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) یہ مجالس میلاد جو ہمارے شہروں میں ہوتی ہیں

  • 5542
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-05
  • مشاہدات : 458

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ مجالس میلاد جو ہمارے شہروں میں  ہوتی ہیں جائز و مستحب ہیں یا بدعت و مکرہ؟ بیان فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ مجالس میلاد مکروہ و بدعت ہیں۔ ان کے انعقاد پر کتاب وسنت ، اجماع و قیاس سے کوئی بھی دلیل نہیں ہے اور جو کام اس طرح کا ہو، وہ بدعت سیئہ اور نامشروع ہے اور اس کا ادنیٰ درجہ مکروہ ہے۔ ابن حاج نے اپنی کتاب ’’مدخل‘‘ میں  لکھا ہے، ’’ان بدعات سے جن کو اکثر لوگ عبادت اور شعائر اسلامی سمجھتے ہیں، ربیع الاوّل کے مہینہ میں  مجالس میلاد کا انعقاد ہے اس میں  کئی طرح کی بدعتیں اور حرام امور ہیں‘‘ اور تاج الدین فاکہانی نے اپنے رسالہ میں  لکھا کہ ’’اس میلاد کا کوئی اصل نہ تو کتاب وسنت میں  ہے اور نہ سلف صالحین سے منقول ہے بلکہ یہ بدعت ہے ، جس کو باطل پرستوں اور پیٹ کی پوجا کرنے والوں نے  ایجا دکیا ہے۔ (سید نذیر حسین)

یہ جواب بالکل صحیح ہے، مجدد الف ثانی  نے اپنے مکتوب صفحہ 273 میں  مرزا حسام الدین کو لکھا ہے ’’انصاف کی نگاہ سے دیکھو اگر ایسی مجلس آنحضرتﷺ کی موجودگی میں  منعقد ہوتی تو حضور اس کو پسند فرماتے یا نہ۔ اس فقیر کا یقین ہے کہ آپ اس کوکبھی پسند نہ فرماتے بلکہ اسے رد کردیتے۔ (محمدمسعود نقشبندی)


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ