سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(30) دولہا کے سر پر پھولوں کا سہراباندھنا

  • 5537
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-05
  • مشاہدات : 591

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دولہا کے سر پر پھولوں کا سہراباندھنا مباح اور جائز ہے یاغیر مباح و ناجائز؟ بینوا توجروا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سہرہ باندھنا جائز ہے کیونکہ اکثر علماء کے نزدیک اصل اباحت ہے لیکن بہتر ہے کہ نہ  باندھا جائے کیونکہ صحابہ تابعین اورتبع تابعین کے زمانہ میں  اس کاوجود نہیں تھا۔لہٰذا بدعت میں  مثال ہے جیسے کہ تسبیح وغیرہ ، البتہ اس کامرتکب صغیرہ یاکبیرہ کامرتکب نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔     (حاجی قاسم)

سہرے کو تسبیح پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے کسی کام کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ یہ اہل سنت کے افعال میں  سے ہے یا اہل بدعت و اہل کفر کے شعار سے اور یہ تو ظاہر بات ہے کہ سہرہ  ہندوؤں کی رسم ہے اور تسبیح مسلمانوں کاشعار ہے اور ہم کو اہل بدعت و اہل کفر کے شعار کے ساتھ تشبہ کرنے سے روک دیا گیا ہے، چنانچہ  ملاعلی قاری نے شرح فقہ اکبر میں  اس کی تصریح کی ہے۔

ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ اصل اشیاء میں  اباحت ہے لیکن کوئی چیز جب اہل کفر کے ساتھ  مشابہ ہوجائے تو وہ ممنوع ہوجاتی ہے اور یہ جو اشیاء میں  اباحت کو اصل قرار دیا گیا ہے یہ بھی متفق  علیہ نہیں ہے بلکہ اکثر کے نزدیک اصل اشیاء میں  توقف ہے، اگرچہ بعض حنفی اباحت کے قائل ہیں ۔ کرخی ،ابو بکر رازی اورمعتزلہ اشیاء میں  اباحت کے قائل ہیں اوراہل حدیث اشیاء میں  اصل ممانعت سمجھتے ہیں اور اکثر احناف توقف کے قائل ہیں ۔ شرح المنار میں  ایسا ہی لکھا ہے اور صاحب درمختار نے کتاب  الطہارت وغیرہ میں  اشیاء کے لیے اصل توقف قرار دیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔                    (سیدمحمد نذیر حسین)

مسئلہ: شریعت کے واقف لوگوں پر مخفی نہ رہے کہ سہرا و کنگنہ باندھنا مسلمانوں میں  ہندوؤں کی رسوم سے آیا ہے اور جو کفار کی رسوم کو اختیارکرے وہ اللہ کے نزدیک مبغوض ترین آدمی ہے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے: ’’تین آدمی خدا کے نزدیک بدترین آدمی ہیں۔ حرم میں  الحاد کرنےوالا، اسلام میں  جاہلیت کی رسمیں  اختیارکرنے والا اور کسی مسلمان آدمی کاناحق خون کرنے والا۔‘‘

 اور سہرا کنگن کی مذمت آدم  بنوری مجدد الف ثانی کے مرید نے خلاصۃ المعارف میں  لکھی ہے اورمراۃ الصفا السنۃ المصطفیٰ وغیرہ میں  اس کو کفار اور مجوس کی رسم کہا گیا ہے ، لہٰذا اس سے پوری پرہیز  کرنی چاہیے۔                              الراقم العاجز محمد نذیر حسین عفی عنہ


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ