سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(917) نجیاں رزق مخلوقات کی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے تفویض کردی؟

  • 5483
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-04
  • مشاہدات : 835

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کہتا ہے  کہ کنجیاں رزق مخلوقات کی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے تفویض کردی ہیں ، جس کو جتنا چاہیں دیں ، عمرو اس کے خلاف ہے  ، وہ کہتا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے ، کسی کو ایک ذرہ بھر اختیار نہیں دیا ، سب کچھ اللہ واحد لاشریک لہ کے قبضہ میں  ہے ، جس کو جو چاہے دیوے نہ چاہے نہ دے ، ان دونوں میں  کون سچا ہے۔

سوال دوم:

روح مبارک ﷺ کی سب گھروں اور مقاموں میں  گشت اور دورہ کرتی ہے ، آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رزق مخلوقات کی کنجیاں آنحضرت ﷺ کے سپرد ہونے کی یوں بات ہے کہ اس امر میں  زید کا قول بالکل غلط ہے۔ زید مذکور نے یا قرآن و حدیث کو دیکھا سنا نہ ہوگا یا جان بوجھ کر ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ قرآن و حدیث نے تو بڑے زور سے اس بات کی تردید کردی ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود کے پہلے رکوع میں   وما من دابۃ  فی الارض الا علی اللہ رزقھا۔یعنی کوئی نہیں چلنے والا زمین  پر ، مگراللہ پر ہے روزی اس کی  یعنی چلتا پھرتا  ، جیتا جاگتا ، جو کوئی ہے سب کو اللہ ہی رزق دیتا ہے اور سورہ فاطر کےپہلے رکوع میں  ہے ۔  ھل من خالق غیر اللہ یرزقکم من السماء والارض یعنی کوئی ہے بنانے والا اللہ کے سوا جو روزی دیتا ہے تم کو آسمان اور زمین سے  اور سورہ شوریٰ رکوع دوم میں  ہے: لہ مقالید السموات والارض  یبسطالرزق لمن یشاء و یقدرانہ بلکل شئ علیم یعنی اللہ ہی کے ہاتھ میں  ہیں کنجیاں آسمانوں کی اور زمین کی ، پھیلا دیتا ہے روزی واسطے جس کے چاہے اور ماپ دیتا ہے وہ ہر چیز کی خبر رکھتا ، مطلب یہ ہوا کہ نہ تو رزق کی کنجیاں کسی اور کے ہاتھ میں  ہے اور نہ کسی کو یہ خبر ہےکہ کس کو روزی زیادہ ملنی چاہیے اور کس کو کم اور سورِ ہ ذاریات کے تیسرے رکوع میں  ہے۔ ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین یعنی اللہ جو ہے وہی ہے روزی دینے والا زور آور مضبوط اور سورہ ذاریات کے پہلے رکوع میں  ہے۔ وفی السماء رزقکمیعنی اور آسمان میں  ہے روزی تمہارے یعنی رزق کا خزانچی اور کفیل اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے  ، سب کی روزی آسمان سے اللہ تعالیٰ اتارتا ہے۔

اور مشکوۃ باب الاستغفار میں  مسلم کی روایت سے آیا ہے  ، فرمایا اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں  یا عبادی کلکم جائع الامن اطعمتہ باستطعمونی اطعمکم یاعبادی کلکم عارا لامن کسوتہ فاستکسونی اکسکم یعنی  اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے  ، کہ اے میرے بندو! تم سب کے سب بھوکے ہو ، مگر جس کومیں  کھلا دوں ، پس تم مجھ سے روزی مانگو ، میں  تم کو روزی کھلاؤں گا اور اے میرے بندو! تم سب کے سب ننگے ہو مگر جس کو میں  پہنا دوں ، پس تم مجھ سے کپڑا مانگو ، میں  تم کو کپڑا دوں گا ، پس قرآن و حدیث میں  صاف صاف بیان ہوگیا کہ روزی رزق کی کنجیاں محض اللہ پاک کے واسطے خاص ہیں ، ان میں  کسی کا دخل یا تعلق سمجھنا شرک ہے ،ایسے عقیدے سےبہت بچنا چاہیے۔

اور یہ قول  بھی بالکل غلط ہے کہ روح مبارک رسول اللہﷺ کی سب گھروں میں  اور مقاموں میں  گشت اور دورہ کرتی ہے ، اس لیے کہ مشکوۃ باب الصلوۃ علی النبی ﷺ میں  حضرت ابن مسعودؓ سے مرفوعاً روایت ہے، ان للہ ملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی من امتی السلام (رواہ النسائی والدارمی)یعنی نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ کچھ فرشتوں کو اللہ نے اس کام پر تعینات کردیاہے کہ وہ دنیا میں  پھرتے رہتے ہیں ، جوکوئی شخص میری اُمت سے میرے اوپر درود و سلام پڑھتا ہے ، وہ فرشتے اس درود کو میرے پاس پہنچا دیتے ہیں اور حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً یہ لفظ آئے ہیں۔ من صلی  عند قبری سمعتہ ومن صلی علی نائیا ابلغتہ (رواہ الببیہقی فی شعب الایمان)یعنی فرمایا نبی ﷺ نے جو کوئی شخص میری قبر کے پاس مجھ پر درود و سلام پڑھتا ہے اس کو میں  خود سن لیتا ہوں اور جو کوئی شخص دور کا رہنے والامیرے اوپر درود و سلام پڑھتا ہے وہ میرے پاس پہنچایا جاتا ہے یعنی فرشتے لاتے ہیں ، پس اگر روح مبارک رسول اللہﷺ کی سب گھروں اور سب مقاموں پر گشت کرتی ہوتی تو حدیثوں ميں  یوں بیان آتاکہ جہاں کہیں میرا ذکر ہوتاہے یا درود و سلام پڑھا جاتاہے میں  سن  لیتا ہوں یاموجود ہوجاتا ہوں اور فرشتوں کے پہنچانے کی حاجت نہ ہوتی۔

افسوس! کہ مسلمان کہلاتے ہیں اور عقیدے ایسے رکھتے ہیں جو قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں ، یادر کھنا چاہیے کہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا اورہر چیز کی ہر وقت خبر رکھنا خاص ذات وحدہ لاشریک لہ باری تعالیٰ کے واسطے ہے کسی دوسرے کے واسطے اس صفت کولگانا یا سمجھنا کھلا ہوا شرک ہے  ، اس سے بہت بچنا اور پرہیز کرنا چاہیے۔ واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم واخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ و علی الہ و اصحابہ و سائر عباداللہ الصالحین۔حررہ حمید اللہ عفی عنہ 20ذی الحجہ1316ھ                                                                   سید محمد نذیر حسین


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ