سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(914) اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کا نور اپنےنور سے جدا کیا؟

  • 5480
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-04
  • مشاہدات : 1132

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں: علمائے دین اس عقیدہ میں  کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کا نور اپنےنور سے جدا کیا اور اس کانام محمدﷺ رکھا،پھر اس نور کو حکم کیاکہ تو مخلوقات کو پیداکر چنانچہ اس نور  کے ہر ایک عضو و پسینہ سے آسمان  و زمین و عرش و کرسی و لوح و قلم وغیرہ پیدا ہوئیں، بلکہ بہشت و دوزخ وفرشتے وغیرہ سب اس نور سےظاہر ہوئے، جیسا کہ مفصل رسالہ معروف نور نامہ میں  مذکور ہے۔دلائل واضح سے بیان فرمائیں: بینوا بالایات والحدیث توجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات بالکل غلط اور خطا ہے اور مخالفت اس کی نصوص سے ظاہر ہے کیونکہ نصوص ظاہرہ اس پردلالت کرتی ہیں کہ سب سے پہلے  عرش اور پانی پیدا ہوئے، بعد اس کے پیدائش زمین و آسمان اور سب چیز کی ہوئی، جیساکہ قرآن مجید میں  ہے: وھو[1] الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایامروکان عرشہ علی الماء۔ کمالین حاشیہ جلالین میں  ہے۔

ای [2]  فوقہ یعنی ما کان تحتہ قبل خلق السموات والارض الا الماء و فیہ دلیل علی ان العرش والماء کانا مخلوقین قبل خلق السموات والارض۔

اور امام بخاری نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کی ہے۔   جئناک [3] لنتفقہ فی الدین والنسالک عن اوّل ھذا لا مرما کان قالکان اللہ ولم یکن شئ قبلہ وکان عرشہ علی الماء ثم خلق السموات والارض رواہ البخاری۔مشکوۃ باب بدء الخلقکہا  شیخ عبدالحق نے لمعات میں  دل[4] الحدیث علی ان العرش والماء کانا مخلوقین قبل السموات انتہی۔

وعن [5] عائشہ رضی اللہعنہا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال خلقت الملٰئکۃ من نور و کلق الجان من مارج من نارو خلق ادم مما وصف لکم رواہ مسلم مشکوۃ باب بدئ الخلق۔یہ حدیث صاف دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہﷺ مٹی سے پیدا ہوئے نہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نور سے جدا کیا، کیونکہ آپ اولاد آدم علیہ السلام میں  سے ہیں اور آدم علیہ السلام کی پیدائش اور چیز کی پیدائش سے پیچھے ہے، جیسا کہ حدیث میں   وارد ہے۔عن[6]  ابی ھریرۃ قال اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدی فقال خلق اللہ التربۃ یوم السبت و کلق فیھا الجبال یوم الاحد و خلق الشجر یوم الاثنین  وخلق المکروہ یوم الثلثاء و خلق النور یوم الاربعاء و بث فیھا الدواب یوم الخمیس و کلق ادم بعد العصر من یوم الجمعۃ فی اخر الخلق واخر ساعۃ من النھار فیما بین العصری الی اللیل رواہ مسلم۔ مشکوۃ باب بدء الخلق۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدم علیہ السلام اور چیزوں سے پیچھے مخلوق ہوئے اور حضرت ﷺ آدم علیہ السلام سے پیدا ہوئے جیسے اور تمام آدمی ان سے پیدا ہوئے، پس  ثابت ہوا کہ کوئی چیز حضرت ﷺ سے نہیں پیدا ہوئی اور نہ آپ سب چیز سے پہلے پیدا ہوئے بلکہ سب سے پہلے پانی اور عرش عظیم پیداہوئے بعد ان کے اور سب چیزیں پیدا ہوئیں اور نہ حضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے بنایا،ایساعقیدہ رکھنا جیساکہ نورنامہ والے نے لکھا ہے۔ نہایت  برا اور سخت گندہ ، مخالف کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ ﷺ کے ہے، ہرمسلمان کو ایسے عقیدہ سے دو رہونا اور بھاگنا چاہیے اورنورنامہ والا بہت بڑا جاہل، کندہ ناتراش ناواقف قرآن مجید اور حدیث شریف سے ہے۔ اس کی باتوں کو ہرگز نہیں تسلیم کرنا چاہیے بلکہ اس کو جھوٹا کہنا مناسب ہے۔ حررہ العبد الضعیف الراجی رحمۃ ربہ الحنان المنان المسمی بعبد الرحمن الفنجابی۔

الجواب  صحیح  والراوی نجیح                      سید محمد نذیر حسین

  الجواب صحیح                              سید محمد عبدالسلام، سید محمد ابوالحسن

واضح ہو کہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلق ارواح و اشیماء جو عالم الغیب کے اندر ہوا ہے اس میں  آپ کے خلق کاتقدم تمام مخلوقات سےمعلوم ہوتا ہے اور اس مضمون پر حدیث  اول ما خلق اللہ نورسے  استدلال کرتے ہیں تو ماہران اصول حدیث و فقہ پرمخفی نہیں کہ حدیث معلق بلا سند قابل استدلال و احتجاج کے ہرگز نہیں ہوسکتی، کیونکہ  یہ اقسام مردود سے ہے کذا فی النخبۃ و شرحھا اوراسی طرح سے حدیث مروی راویان مجہول سے لائق  تسلیم نہیں۔ اس صورت میں  حدیث اوّل ما خلق اللہ نوریکا  متصل مرفوع اور صحیح ہونا حسب قواعد محدثین صاحبان تخریج کے تحریر فرما دیں تو مقبول ہوگی، بلا ریب اور مشکوۃ میں  خلاف اس حدیث مشہور بافواہ عوام کے مذکور ہے۔  عن[7]  عبادۃ بن الصامت قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اوّل ما خلق اللہ القلم فقال لہ اکتب قال ما اکتب قال اکتب القدر فکتب ما کان وما ھو کائن الی الا بد رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث غریب اسناد انتہی ما فی المشکوۃ اور بعض مداحین اپنے ذوق و شوق میں  جو تاویلات بعیدہ خلاف مسلک محدثین متقدمین و متاخرین صاحبان تخریج کررہے ہیں۔ قابل اعتبار نہیں۔

پائے چوبیں سخت بے تمکین بود

وما علینا الا البلاغ۔ حررہ السید محمد نذیر حسین



[1]   اور اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں  پیدا کیا اور اس کاعرش پانی پر تھا۔

[2]   یعنی اس کے اوپر تھی یعنی عرش الہٰی کے نیچے آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے پانی کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ اس میں  دلیل ہےکہ عرش اور پانی کی تخلیق آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پہلے ہوچکی تھی۔

[3]    ہم آپ کے پاس دین سمجھنے کے لیے آئے ہیں، اور یہ بھی  معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس دنیا کی ابتداء کس طرح ہوئی؟ آپ نے فرمایا سب سے پہلے اللہ تعالیٰ ہی تھے۔ ان سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور اس کا عرش پانی پر تھا، پھر اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس کو بخاری نے روایت کیا۔

[4]   حدیث دلالت کرتی ہے کہ  عرش اور پانی آسمانوں کی پیدائش سے پہلے پیدا شدہ ہیں۔

[5]    حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہےکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا، فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور جنوں کی تخلیق آگ کےشعلہ سے ہوئی اور آدم کی پیدائش تم کو پہلے بتا دی گئی ہے اس کو مسلم نے روایت کیا۔

[6]    حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا اللہ نے ہفتہ کے روز مٹی کو پیدا کیا اور اتوار کے دن اس میں  پہاڑ بنائے اور سوموار کے روز سبزیاں اور درخت پیدا کیے اور تمام بُری چیزیں منگل کے روز پیدا ہوئی اور نور کی پیدائش بدھ کو ہوئی اور دیر کے روز تمام جانور اس میں  پھیلا دیئے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد آدم کو پیدا کیا گیا یہ خدا کی آخری مخلوق تھی جو آخری وقت میں   پیدا ہوئی یعنی عصر سے لے کر رات تک ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا۔

[7]  عبادہ  بن صامت سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا کہ ’’لکھ‘‘ اس نےعرض کیا کیا لکھوں؟ حکم ہواکہ تقدیر کو لکھ سو اس نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو ہوچکا ہے اور جو کچھ ہمیشہ تک ہونے والا ہے۔ اس کو ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث سند کے لحاظ سےغریب ہے۔ انتہی۔

 


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ