سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(889) حضرت علی سوال نے ایک جنگ میں تقسیم ہونے سے پہلے
  • 5456
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1522

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے تو بخاری شریف میں دیکھی نہیں ویسے میرا خیال ہے کہ حدیث ہے اس میں ہے کہ حضرت علی سوال نے ایک جنگ میں تقسیم ہونے سے پہلے ہی اپنے لیے ایک لونڈی علیحدہ رکھ لی تو ایک صحابی نے اعتراض کیا کہ علی سوال نے ناانصافی کی ہے تو حضور  صلی الله علیہ وسلم نے اس صحابی کو ڈانٹ دیا کہ تم علی سوال کی شکایت کیوں کرتے ہو معترض اس پر بھی اعتراض کرتا ہے کہ حضرت نے ایسا نہیں کیا ہو گا حدیث ہی غلط ہے ۔چوہدری عبدالرحمن مہار ستراہ سیالکوٹ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح بخاری جلد دوم کتاب المغازی باب بعث علی بن ابی طالب ص ۶۲۳ کی زیر بحث حدیث میں صراحت موجود ہے کہ وہ لونڈی خمس (مال غنیمت کے پانچویں حصہ) سے حضرت علی سوال نے لی اور اعتراض کرنے والے صحابی سے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ’’علی سے ناراض نہ ہو کیونکہ علی کا خمس میں حصہ اس (لونڈی) سے کہیں زیادہ ہے‘‘  لہٰذا اس حدیث پرکوئی اعتراض نہیں۔ قرآن مجید کے دسویں پارے کی پہلی آیت مبارکہ میں خمس غنیمت میں رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے قرابتداروں کے حصہ کی تصریح موجود ہے اور حضرت علی سوال نبی کریم  صلی الله علیہ وسلم کے قرابتدار ہیں تو آپ اس حدیث پر خواہ مخواہ نکتہ چینی کرنے والوں سے پوچھیں قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کے متعلق ان کا کیا نظریہ ہے ؟ آیا اس کو بھی غلط یا جھوٹی کہنے کو تیار ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک           

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

 

جلد 01 ص 568

محدث فتویٰ

تبصرے