سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(833) ہم تین بھائی ہیں ۔ والد صاحب فوت ہو چکے ہیں..الخ

  • 5400
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-03
  • مشاہدات : 624

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہم تین بھائی ہیں ۔ والد صاحب فوت ہو چکے ہیں (اللہم اغفرلہ) والدہ صاحبہ زندہ ہیں دوسرے دو بھائی والدہ صاحبہ کو مجھ سے ملنے نہیں دیتے ۔ والدہ صاحبہ کو بڑے بھائی نے زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔ اس سلسلہ میں والدہ صاحبہ انتہائی پریشان رہتی ہیں ۔ نہ ہی ان حالات میں راقم والدہ صاحبہ کی خدمت کر سکتا ہے جبکہ والدہ صاحبہ کا مجھے اور میرے بچوں کو ملنے کو از حد دل چاہتا رہتا ہے ۔ کبھی کبھار والدہ صاحبہ چھپ چھپا کر مل جاتی ہیں ان کے اس کردار پر (ملنے نہ دینا) زار زار روتی ہیں ۔
قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ ان حالات میں راقم ان کی خدمت کس طرح کر سکتا ہے ؟ تاکہ کل قیامت کے دن اللہ کریم کے سامنے سرخرو ہو سکوں ؟ والدہ صاحبہ مجھ پر راضی ہیں ۔          22/8/97

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم تین بھائی ہیں ۔ والد صاحب فوت ہو چکے ہیں (اللہم اغفرلہ) والدہ صاحبہ زندہ ہیں دوسرے دو بھائی والدہ صاحبہ کو مجھ سے ملنے نہیں دیتے ۔ والدہ صاحبہ کو بڑے بھائی نے زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے ۔ اس سلسلہ میں والدہ صاحبہ انتہائی پریشان رہتی ہیں ۔ نہ ہی ان حالات میں راقم والدہ صاحبہ کی خدمت کر سکتا ہے جبکہ والدہ صاحبہ کا مجھے اور میرے بچوں کو ملنے کو از حد دل چاہتا رہتا ہے ۔ کبھی کبھار والدہ صاحبہ چھپ چھپا کر مل جاتی ہیں ان کے اس کردار پر (ملنے نہ دینا) زار زار روتی ہیں ۔

قرآن وسنت کی روشنی میں بتائیں کہ ان حالات میں راقم ان کی خدمت کس طرح کر سکتا ہے ؟ تاکہ کل قیامت کے دن اللہ کریم کے سامنے سرخرو ہو سکوں ؟ والدہ صاحبہ مجھ پر راضی ہیں ۔          22/8/97


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اپنے دونوں بھائیوں کو راضی کر لیں بڑے بھائی کو خوش کر لیں اپنی غلطی کی ان سے معافی مانگ لیں ان شاء اللہ المنان درست ہو جائے گا آپ کی اور آپ کی والدہ کی پریشانی دور ہو جائے گی ان شاء اللہ الحنان سبحانہ وتعالیٰ

                                                                                      ۲۷/۴/۱۴۱۸ہـ

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 ص 527

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ