سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(862) اہل حدیث کے اُصول کیا ہیں

  • 5230
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-01
  • مشاہدات : 1659

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہل حدیث کے اُصول کیا ہیں جیسا کہ احناف کے اُصول یعنی ادلۃ شرعیۃ ، کتاب و سنت ، اجماع ، قیاس اور استحسان وغیرہ ۔ اس طرح اہل حدیث کے اصول کیا ہیں؟     (محمد بشیر الطیب ، کویت )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ میں ان اصولوں کو تفصیل سے ذکر فرمایا ہے ، آپ حجۃ اللہ سے المبحث السابع کا باب الفرق بین اہل الحدیث و أصحاب الرأی پڑھ لیں ، اطمینان ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ۔

اہل حدیث اور اہل رائے کے درمیان فرق

تو جان لے کہ بے شک سعید بن مسیب زہری اور ابراہیم کے عہد میں اور مالک ، سفیان ثوری کے زمانہ میں اور ان کے بعد بھی ایسی قوم تھی کہ وہ دینی مسائل میں خوض بالرائے کو براسمجھتے تھے اور فتویٰ دینے اور مسئلہ کا استنباط کرنے میں بہت خائف رہتے تھے ، جب نہایت ہی ضرورت پیش آتی اور کوئی چارہ کار نہ ہوتا تو پھر استنباط کرتے تھے اور ان کا سب سے بڑا اہتمام یہ تھا کہ وہ حدیث کو روایت کر دیں۔

رائے کے بارے سلف کے اقوال:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بار کسی چیز کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایسی چیز کو تیرے لیے جائز کر دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حرام کیا ہو یا کسی ایسی چیز کو حرام کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حلال کی ہو۔1

 

معاذ بن جبل  رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! آزمائش کے آنے سے پہلے اس کی تفتیش نہ کرو ، مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جب ان سے سوال کیا جائے گا اس کا مسکت جواب دیتے رہیں گے۔2

اور اس کے قریب قریب عمر ، علی ، ابن عباس اور عبداللہ بن مسعودرضوان اللہ علیھم اجمعین سے ایسے مسائل میں گفتگو کرنا جو ابھی نازل نہیں ہوئے کراھت مروی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن دارمی،باب من ھاب الفتیا وکرہ التنطع والتبرع۔            2 سنن دارمی،باب من ھاب الفتیا وکرہ التنطع والتبرع۔

 

اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ نے جابر بن زید سے کہا تھا تو بصرہ کے فقہاء سے ہے ہمیشہ فتوی قرآن ناطق یا سنت ماضیہ کے مطابق دینا اگر تو ایسا نہ کرے گا تو خود بھی ہلاک ہو جائے گا او روں کو بھی ہلاک کر دے گا۔ 1

ابو نضرہ کہتے ہیں جب ابو سلمہ بصرہ آئے تو میں اور حسن بصری ان کی ملاقات کے لیے گئے ، انہوں نے حسن بصری کے لیے فرمایا: حسن بصری آپ ہیں؟ بصرہ میں تیری ملاقات سے زیادہ مجھے کسی کی ملاقات کا شوق نہیں تھا۔ اور یہ شوق اس لیے تھا کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ تو اپنی رائے سے مسئلہ کا جواب دیتا ہے آئندہ قرآن و حدیث کے علاوہ اپنی رائے سے فتویٰ نہ دینا۔2

ابن منکدر فرماتے ہیں کہ عالم اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے پس اسی لیے وہ اپنی نجات کا کوئی طریقہ تلاش کرے۔ 3

رائے سے فتویٰ دینے کی کراہت:

امام شعبی سے سوال کیا گیا جب تم سے مسائل پوچھے جاتے تو تم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے اس کے واقف سے یہ بات دریافت کی ہے جب کسی شخص سے سوال کیا جاتا تھا تو وہ اپنے پاس والے عالم سے پوچھ لیتا تھا اس کا جواب دے ایسے ہی وہ شخص دوسرے کو کہتا اور آہستہ آہستہ پہلے عالم کی طرف انتہا ہو جایا کرتی تھی۔4

امام شعبی کا قول ہے یہ علماء جو بات رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے تجھے بیان کریں اس پر عمل کرو اور جو کچھ اپنی رائے سے کہیں اسے پائخانہ میں پھینک دو۔ 5ان تمام آثار کو دارمی نے نقل کیا ہے۔

حدیث و آثار کی کتابت:

اسی اہتمام حدیث کی وجہ سے بلاد اسلام میں حدیث و آثار کی تدوین شروع ہو گئی اور جا بجا کتابیں اور نسخے مرتب ہونے لگے ، اہل روایت میں سے کم ہی ایسے علماء تھے جن کی کوئی تصنیف نہ ہو اس وقت کی ضرورت نے ایسی حالت پیدا کر دی تھی کہ اس وقت کے بلند پایہ علماء نے تمام ممالک حجاز ، شام ، عراق ، مصر ، یمن اور خراسان میں سفر کیا اور کتابوں اور نسخوں کو متفرق موقعوں سے فراہم کیا ، غریب احادیث اور آثار نادرہ کی تلاش میں کافی خوض کیا ان کے اس اہتمام سے وہ احادیث اور آثار مجتمع ہو گئے جو اس سے پہلے جمع نہ ہو سکے تھے اور ان کے لیے وہ سامان مہیا ہو گیا جو ان سے پہلے کسی کے لیے مہیا نہ ہوا تھا اور بہت سی حدیثیں ان کے پاس کثرت طرق سے جمع ہو گئیں حتی کہ ان کے پاس ایسی حدیثیں بکثرت تھیں جو سو سو طریقوں سے مروی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بعض طریقوں سے ان اُمور کا انکشاف ہو گیا جو دوسرے طرق میں نا معلوم تھے اور ان علماء نے ہر ایک حدیث کا درجہ معلوم کر لیا کہ کونسی حدیث غریب ہے اور کونسی مستفیض ہے اور حدیث کے متابعات اور شواہد میں غور کرنے کا انہیں خوب موقعہ میسر آیا اور انہیں بکثرت صحیح حدیثوں کا پتہ چل گیا جو پہلے اہل فتویٰ کے دور میں ظاہر نہ ہوئی تھیں۔

 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن دارمی،باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔                       2 سنن دارمی،باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔

3 سنن دارمی،باب من ھاب الفتیاء و کرہ التنطع والتبرع۔    4  سنن دارمی،باب من ھاب الفتیاء و کرہ التنطع والتبرع۔

5 سنن دارمی،باب فی کراھیۃ أخذ الرأی۔

 

زیادہ علم رکھنے والے اہل حدیث ہیں:

امام شافعی نے امام احمد سے کہا کہ صحیح حدیث کا علم تمہیں ہم سے زیادہ ہے جو حدیث صحیح ہو وہ ہمیں بتا دیا کریں تاکہ میں اسی کو اپنا مذہب قرار دوں چاہے وہ حدیث کوفی ہو شامی ہو یا بصری ، اسے ابن ہمام نے نقل کیا ہے۔ امام شافعی نے امام احمد کو یہ بات اس لیے کہی کہ بہت سی احادیث ایسی ہی تھیں جسے صرف ایک ایک شہر کے راوی نقل کیا کرتے تھے۔ مثلاً وہ احادیث جنہیں صرف شام اور عراق کے محدثین روایت کیا کرتے ہیں بعض ایسی احادیث بھی تھیں جنہیں صرف ایک خاندان کے لوگ روایت کرتے تھے جیسے بریدہ کا نسخہ ابو بردہ کی روایت سے ابو بردہ نے اسے ابوموسیٰ سے روایت کیا ہے اور عمرو بن شعیب کا نسخہ اپنے باپ کی روایت سے اور ان کے باپ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اور بعض صورتیں ایسی تھیں کہ بعض صحابہ قلیل الروایت اور گمنامی کی حالت میں تھے ان سے بہت کم لوگوں نے حدیث کو روایت کیا ، اس لیے ایسی حدیثوں سے عام مفتی غافل رہے تھے۔

اور ان کے پاس تمام شہروں کے فقیہ صحابہ و تابعین کے آثار جمع ہو گئے اور متقدمین کی حالت ہی یہ تھی کہ وہ صرف اپنے شہر اور اپنے درجہ کے لوگوں کی حدیثیں جمع کر سکتے تھے ، نیز پہلے علماء اسماء الرجال اور راویوں کے درجۂ عدالت کا اندازہ ان اُمور سے کر لیا کرتے تھے جو ان کو حالت کے مشاہدہ اور قرائن کے تتبع سے معلوم ہو جایا کرتے تھے لیکن اب اس طبقہ کے علماء نے اس فن میں نہایت غور کیا اور اسے مدون کر کے اور بحث و تفتیش کر کے ایک مستقل فن بنا دیا اور احادیث کے صحیح اور غیر صحیح قرار دینے میں باہم مناظرے کیے گئے اس طرح اس تدوین اور مباحث کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حدیثوں کا فیصلہ ہو گیا جن کا متصل یا منقطع ہونا پہلے مخفی تھا۔

کبار محدثین کا طبقہ:

اور اب اس طبقہ میں محدثین تقریباً چالیس ہزار احادیث کی روایت کرتے تھے ۔ امام بخاری کی نسبت یہ امر درست ہے کہ انہوں نے چھ لاکھ احادیث سے صحیح بخاری کو مختصر کیا ہے اور ابو داؤد کی نسبت بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ پانچ لاکھ احادیث سے انہوں نے اپنی سنن کو مرتب کیا ہے اور امام احمد نے اپنی مسند کو احادیث نبویہ کے پہچاننے کے لیے میزان قرار دیا ہے کہ جو حدیثیں اس مسند میں موجود ہیں اگرچہ ان کی روایت ایک ہی طریقہ سے ہو ان کے لیے کوئی نہ کوئی اصل ہے اور جو اس میں نہیں اس کی کوئی اصل نہیں۔

اس طبقہ کے نامور علماء یہ ہیں:

عبدالرحمن بن مہدی ، یحییٰ بن سعید قطان ، یزید بن ہارون ، عبدالرزاق ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، مسدد ، ہناد ، احمد بن حنبل ، اسحاق بن راھویہ ، فضل بن دکین ، علی بن مدینی اور ان کے دیگر ہم رتبہ محدثین۔

طبقات محدثین میں پہلا نمونہ:

طبقات محدثین میں یہ پہلا نمونہ ہے جب محققین اہل حدیث نے فن روایت اور درجات حدیث خوب مکمل کر لیے تو اس کے بعد ان کی توجہ فقہ کی طرف مائل ہوئی ، انہوں نے جب دیکھا کہ بہت سی احادیث اور آثار فقہاء کے ہر ایک مذہب کے مخالف ہیں اسی وجہ سے متقدمین نے کسی خاص امام کی تقلید پر اتفاق نہیں کیا بلکہ انہوں نے احادیث نبوی صحابہ ، تابعین اور مجتہدین کے آثار کو تلاش کیا اور اوروں کے لیے انہوں نے ایسے قواعد کی بنیاد رکھی جن کو اپنے ذہنوں میں انہوں نے خوب راسخ کر لیا تھا ، میں تیرے لیے ان قواعد کو چند آسان تقریروں میں بیان کرتا ہوں:

ترجیحی بنیادوں پہ اتباع کیے گئے قواعد:

ان کا مسلک یہ تھا کہ جب تک کسی مسئلہ کا حکم قرآن سے ثابت ہو تو کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے اور اگر قرآن میں مسئلہ کا حکم مختلف الوجوہ ہو تو اس کا فیصلہ احادیث سے کرنا چاہیے اور جب قرآن میں انہیں کوئی حکم نہیں ملتا تھا تو حدیث رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم پر عمل کرتے تھے ، خواہ وہ حدیث مستفیض ہوتی جس پر فقہاء عمل کر چکے ہوتے یا کسی خاص شہر کے علماء یا کسی خاندان کے علماء یا کسی خاص طریقہ سے وہ مروی ہوتی ، خواہ صحابہ و فقہاء نے اس پر عمل کیا ہوتا یا نہ کیا ہوتا کسی مسئلہ میں جب انہیں کوئی حدیث مل جاتی تو اس کے بعد پھر اس کے مخالف کسی اثر یا کسی اجتہاد کا اتباع نہیں کیا کرتے تھے۔

جب کسی مسئلہ میں کتاب و سنت سے نص نہ ملے:

جب نہایت کوشش اور تتبع احادیث کے بعد اس مسئلہ میں حدیث نہیں ملتی تھی تو اس وقت صحابہ یا تابعین میں سے ایک جماعت کی اقتداء کرتے تھے اس میں انہیں کسی قوم یا کسی شہر کی قید نہ تھی جیسا کہ ان کے قدماء کا طریقہ تھا ایسی صورت میں اگر جمہور خلفاء اور فقہاء کا اتفاق تھا تو وہ اطمینان کافی کے قابل تھا اور اگر وہ مسئلہ مختلف فیہ ہوتا تو ایسے شخص کے قول کو ترجیح دیتے تھے جو علم و ورع ، کثرت ضبط یا اسے ان میں شہرت کی وجہ سے فوقیت ہوا کرتی تھی۔

اور اگر اس مسئلہ میں ایک ہی قوت کے دو قول ہوا کرتے تو وہ مسئلہ ذات القولین رہا کرتا تھا اور اگر ان اُمور کی تتبع متعذر ہوتی تھی تو اس وقت کتاب و سنت کی عام تعبیروں میں ان کے ایماء و اقتضاء میں غور کیا کرتے تھے اور جب دو مسئلوں میں ایک جیسی حالت ہوتی تھی تو مسئلہ کو نظیر مسئلہ پر محمول کر لیا کرتے تھے اس میں قواعد اُصولی کے پابند نہ تھے بلکہ جس طریقے سے اطمینانی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی اسی سے فیصلہ کر لیا کرتے تھے جیسا کہ تواتر کے لیے راویوں کی تعدادمیزان نہیں ہے بلکہ اس کے لیے میزان وہ یقین ہے جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جایا کرتا ہے صحابہ کے حالات میں ہم اُس معیارکا ذکر کر چکے ہیں۔

یہ اصول متقدمین کے برتاؤسے مستخرج ہیں:

اور یہ تمام اُصول متقدمین کے برتاؤ اور ان کی تصریحات سے مستخرج تھے۔ میمون بن مہران سے منقول ہے کہ ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ قرآن میں اس کے دعوے کا جواب تلاش کیا کرتے تھے اور اگر قرآن میں اس کا جواب نہ ملتا اور اس کے متعلق ان کو کوئی حدیث معلوم ہوتی تو ویسا ہی فیصلہ کرتے اور اگر قرآن و حدیث سے وہ مسئلہ کا حل معلوم نہ کر سکتے تو باہر جا کر مسلمانوں سے دریافت کرتے کہ ایسا ایسا دعویٰ میرے سامنے پیش ہوا ہے تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کیا تھا؟کبھی کبھا ایسا ہوتا کہ تمام لوگ بول اُٹھتے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کا یہ فیصلہ فرمایا تھا تب وہ فرماتے الحمد للہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جن میں نبی  صلی الله علیہ وسلم کے اقوال محفوظ ہیں اور جب کسی طرح حدیث سے بھی مسئلہ کا حل معلوم نہ ہوتا تب معتمد اور عمدہ لوگوں کو جمع کرتے ان سے مشورہ لیتے جب کسی مسئلہ پر تمام کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کے موافق فیصلہ کرتے تھے۔1

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن دارمی،باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔

قاضی شریح کی طرف عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ کا مکتوب:

قاضی شریح سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ نے ان کو تحریر کیا تھا کہ قرآن میں سے جو حکم تجھے معلوم ہو تو اس کے موافق فیصلہ کرنا ایسا نہ ہو کہ لوگ تجھے اس سے دور رکھیں اور اگر ایسا مسئلہ پیش ہو جس کا حکم قرآن میں نہ ملے تو حدیث کی تلاش کر کے اس کے موافق فیصلہ کرنا اور اگر قرآن و حدیث میں اس کا حکم نہیں ہے تو اس قول کی طرف دیکھنا جس پر لوگوں نے اتفاق کیا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور اگر قرآن و حدیث میں اس مسئلہ سے خاموشی ہے اور تم سے اگلے لوگوں نے بھی اس میں سکوت کیا ہے تو دومیں سے ایک کو اختیار کرنا اگر چاہو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرنا اور اگر چاہو تو اجتہاد کرنے میں تاخیر کرنا اور میں تمہارے لیے اس تاخیر کو پسند کرتا ہوں۔

قضاۃ کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نصیحت:

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ ہم کسی مسئلہ میں فتویٰ نہیں دیتے تھے نہ ہی ہم اس درجہ تک پہنچے تھے ، اللہ نے مقدر کیا تھا کہ ہم کو اس درجہ تک پہنچا دیا۔جسے تم دیکھتے ہو اس لیے آج سے جس کے سامنے کوئی فیصلہ پیش ہو تو وہ کتاب اللہ کے موافق ا سکا فیصلہ کرے ، اگر کتاب اللہ میں اس کا جواب نہ ہو تو جیسے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا ہو اس کے موافق حکم دے ، پس اگر کتاب و سنت میں اس کا فیصلہ نہ ہو تو جیسا صالحین اُمت نے حکم دیا ہو اس کے مطابق حکم دے اور اپنی طرف سے نہ کہے کہ میں اس میں خوف کھاتا ہوں اور میں اسے پسند کرتا ہوں اس لیے کہ حرام و حلال واضح ہیں اور حلال اور حرام کے درمیان متشابہ اُمور ہیں اس لیے مشتبہ کو ترک کر کے یقینی کو اخذ کرے۔1

ابن عباس رضی الله عنہ کا فتویٰ دینے کا انداز:

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ کا قاعدہ تھا جب ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا اور اس کا حکم قرآن میں ہوتا تو اسی کے موافق فیصلہ کرتے تھے ، اگر قرآن میں اس کا حکم نہ ملتا او ررسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے اس کا حکم ثابت ہوتا تو وہی بیان کر دیتے ورنہ جو ابو بکر اور عمر رضی الله عنہ نے حکم دیا ہوتا وہ بیان کر دیتے اور اگر ان سے بھی کوئی حکم ثابت نہ ہوتا تو تب جا کر اپنی رائے سے اس کا جواب دیتے ۔2عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے یا زمین میں دھنسا دے تم کہتے ہو رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے یوں فرمایا اور قتادہ سے روایت ہے کہ ابن سیرین نے ایک شخص کے سامنے حدیث بیان کی تو اس نے کہا فلاں صاحب یوں کہتے ہیں تب ابن سیرین نے کہا میں تمہیں رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم اس پر کہتے ہو فلاں نے یوں کہا۔ فلاں شخص نے یوں فرمایا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن دارمی،باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔                  

2 سنن دارمی،باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔

 

جہاں قرآن آجائے وہاں کسی کی رائے کی کوئی قدر نہیں:

اوزاعی سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ دیا تھا کہ کتاب اللہ میں کسی کو رائے دینے کا حق نہیں ہے ، ائمہ صرف ان ہی اُمور میں رائے دے سکتے ہیں جن کا حکم قرآن میں نازل نہ ہوا ہو اور نہ ہی حدیث میں اس کا حکم ہو جس کو رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے مقرر کیا ہو ، اس میں کسی رائے کو دخل نہیں ہے ۔ اعمش نے کہا ابراہیم کا یہ قول تھا کہ مقتدی امام کی بائیں جانب کھڑا ہو اکرے، میں نے سمیع زیّات سے بروایت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے مقتدی کو دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ ابراہیم نے اسی کو اختیار کر لیا ، شعبی سے منقول ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر مسئلہ دریافت کیا ، یحییٰ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہاس کا یہ جواب دیا کرتے تھے ، اس نے کہا: آپ مجھے اپنی رائے بتائیں۔ شعبی نے کہا تم اس شخص پر تعجب نہیں کرتے ۔ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے خبر دے رہا ہوں اور یہ مجھ سے میری رائے کے بارے میں سوال کر رہا ہے ۔ اللہ کی قسم !! مجھے راگ کا گانا اس سے بہتر لگتا ہے کہ میں اپنی رائے ظاہر کروں۔ 1یہ تمام آثار دارمی نے بیان کیے ہیں۔

پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کی بات کی موجودگی میں کسی کی رائے کا اعتبار نہیں:

ترمذی 2نے ابو سائب سے روایت کی ہے کہ ہم امام وکیع کے پاس تھے ، انہوں نے ایک شخص کو کہا جورائے کو دخل دیتا تھا کہ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے اشعار کیا۔ اشعار اونٹ کی دائیں جانب کوہان کو لوہے کی چیز سے زخمی کرنا ہے۔ اور ابو حنیفہ کہتے ہیں اشعار مثلہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ اشعار مثلہ ہے ۔ ابو سائب کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ وکیع یہ سنتے ہی اس شخص پر غصہ میں آگئے اور کہا : میں تجھے کہتا ہوں رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور تو کہتا ہے ابراہیم کا یہ قول ہے تو اس قابل ہے کہ تجھے قید کر دیا جائے اور جب تک اپنے قول سے باز نہ آئے رہا نہ کیا جائے۔ اور عبداللہ بن عباس  رضی الله عنہ، عطاء ، مجاہد اور مالک بن انس  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے قول کو اختیار اور رد نہ کر سکیں ، محمد رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے قول کے علاوہ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 سنن دارمی،باب التورع عن الجواب فیما لیس فیہ کتاب ولا سنۃ۔

2 جامع ترمذی،ابواب الحج،باب ما جاء فی اشعار البدن۔

 

کوئی مسئلہ واقع نہیں ہو امگر اس طبقہ نے اس کے لیے حدیث یا اثر کو پا لیا:

جب علماء نے فقہ کو ان قواعد کے لحاظ سے مرتب کر دیا تو ان مسائل میں سے جن میں قدماء نے کلام کیا تھا یا جو اس موجودہ زمانے میں پیش آئے تھے کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق کوئی حدیث مرفوع ،متصل ، مرسل یا موقوف صحیح یا حسن یا قابل اعتبار بہم نہ پہنچی ہو یا شیخین اور دیگر خلفاء یا قضاۃ اور فقہاء بلاد کے کسی اثر کا پتہ نہ لگایا ہو یا عموم و ایماء و اقتضاء سے اس کا سراغ نہ لگایاگیا ہو ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے علماء کے لیے سنت پر عمل کرنا آسان کر دیا۔

روایت و علم کے اعتبار سے احمد بن حنبل کا مقام اس طبقہ میں سب سے بڑا ہے:

اس زمانہ کے علماء میں سے نہایت عظیم المرتبت اور وسیع الروایت حدیث سے سب سے زیادہ واقف فقہ میں سب سے زیادہ غائر النظر امام احمد بن حنبل تھے رحمہ اللہ تعالی۔امام احمد بن حنبل کے بعد اسحاق بن راھویہ کا مرتبہ ہے ۔ اس طریق پر فقہ کو ترتیب دینے کے لیے بکثرت احادیث و آثار جمع کرنے کی ضرورت تھی یہاں تک کہ امام احمد سے دریافت کیا گیا کہ فتویٰ دینے کے لیے ایک لاکھ حدیثیں کافی ہو سکتی ہیں انہوں نے کہا: نہیں ۔ پھر کہا گیا : پانچ لاکھ کفایت کر سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھ کو اُمید ہے کہ اتنی کفایت کر سکیں۔ غایت المنتہی میں اس کو ذکر کیا ہے ۔ امام احمد کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ فقاہت کے ساتھ فتویٰ دینے کے لیے اتنی حدیثیں کافی ہیں۔

جمع حدیث کا دوسرا دور:

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا دور پیدا فرمایا۔ انہوں نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ حدیث کی محنتوں سے انہوں نے اور لوگوں کو فارغ کر دیا ہے ۔ فقاہت کا سامان کر چکے ہیں ، تفقہ میں انہی کے قواعد کا لحاظ رکھا اس لیے ان پچھلے لوگوں نے دوسرے فنون کا رُخ کیا ، صحیح حدیثوں کو بالکل ممیز کر دیا ، جو کبرائے اہل حدیث کے نزدیک متفق علیہ صحیح ہے ، مثلاً یزید بن ہارون ، یحییٰ بن سعید قطان ، احمد ، اسحق اور ان کے ہم رتبہ لوگوں نے ان کو صحیح مانا ۔ فقہ کے متعلق ان احادیث کو جمع کیا جن پر بلاد اسلامی کے علماء و فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی بنیاد قائم کی تھی اور جو حدیث جس درجہ کی مستحق تھی اس پر وہی حکم لگایا اور شاذ ونوادر حدیثوں کو جمع کیا جنہیں سابقین نے روایت نہیں کیا تھا اور ان طرق کا انکشاف کیا جنہیں قدماء نے طرق کے انداز میں بیان نہیں کیا تھا ، ایسی احادیث میں وہ حدیثیں بھی ظاہر ہوئیں جن میں اتصال یا علو اسناد کاوصف تھا یا ان کی روایت فقیہ نے فقیہ سے یا حافظ حدیث نے حافظ حدیث سے کی تھی یا اس کے علاوہ اور مطالب علمی ان میں مندرج تھے ، اس منصب کے محدثین میں ، بخاری ،مسلم ، ابو داؤد، عبد بن حمید ، ابن ماجہ ، ابو یعلیٰ ، ترمذی ، نسائی ، دار قطنی ، حاکم ، بیہقی ، خطیب ، دیلمی ،ابن عبدالبر اور ان کے ہم مثل لوگ ہیں۔

مصنفین میں سب سے زیادہ عالم اور مشہور:

میرے نزدیک وسعت علمی میں سب سے زیادہ نافع مصنف اور سب سے زیادہ مشہور تر چار اشخاص ہیں جن کا زمانہ قریب قریب ہے۔

ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری:

سب سے اوّل ابو عبداللہ بخاری ہیں ان کی غرض یہ تھی کہ تمام ایسی احادیث کا مجموعہ خالص کر دیں جن میں صحیح ، مستفیض اور متصل ہونے کے اوصاف ہیں اور ان احادیث سے فقہ ، سیرت اور تفیسر کو مستنبط کریں ، اس لیے انہوں نے اپنی جامع صحیح کو تصنیف کیا اور جس شرط پر تصنیف کی تھی اس کو پورا کر دیا ، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایک صالح شخص نے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو محمد بن ادریس کی فقہ میں مشغول ہو گیا ہے اور میری کتاب کو تو نے چھوڑ رکھا ہے۔ اس شخص نے رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ! آپ کی کونسی کتاب ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: صحیح بخاری اور مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ صحیح بخاری کی مقبولیت اور شہرت ایسی ہوئی ہے کہ اس سے زیادہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔

مسلم بن حجاج نیشا پوری:

دوسرے مصنف مسلم نیشا پوری ہیں۔ انہوں نے بھی یہی قصد کیا کہ متفق علیہ حدیثوں کو خالص کر دیں ، جن پر محدثین نے اتفاق کیا ہو اور وہ متصل مرفوع کے درجہ کی ہوں ، ان سے دینی احکامات مستنبط ہوسکیں اور یہ بھی انہوں نے قصد کیا کہ احادیث کو قریب الفہم کر دیں اور استنباط مسائل میں ان سے آسانی ہو سکے اس لیے انہوں نے نہایت مکمل ترتیب دی اور ایک ہی موقع پر ہر حدیث کے تمام طرق کو جمع کر دیا تاکہ نہایت صراحت کے ساتھ اختلاف متون اور تفرق اسانید کا اظہا رہو جائے تمام مختلف احادیث کو یکجا کر دیا تاکہ عربی زبان کے واقف کے لیے عذر کا کوئی موقع نہ رہے تاکہ وہ حدیث سے اعراض کر کے دوسری طرف متوجہ نہ ہو سکے۔

ابو داؤد اشعث بن سلیمان سجستانی:

تیسرے مصنف ابو داؤد سجستانی ہیں۔ ان کا قصد یہ تھاکہ ایسی احادیث جمع کی جائیں جن سے فقہاء استدلال کرتے ہیں ، فقہاء میں ان کا تذکرہ رہتا ہے اور علماء بلاد نے ان احادیث کو احکام کی بنیاد قرار دیا ہے ، اس مقصد کی بناء پر انہوں نے اپنی سنن کو تصنیف کیا اور اس میں صحیح ، حسن ، لین اور قابل عمل حدیثیں جمع کر دیں۔

ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب میں ایسی کوئی حدیث جمع نہیں کی ہے جس کے ترک کرنے پر سب کا اتفاق ہو جو حدیث ضعیف تھی اس کا ضعف اور جس حدیث میں کوئی خدشہ یا علت کی بات تھی اس کی وجہ علت ، صاف بیان کر دی ۔ حدیث میں خوض کرنے والا اس وجہ کو خوب سمجھ سکتا ہے ، ہر حدیث میں انہوں نے اس مسئلہ کو بیان کر دیا جسے کسی عالم نے مستنبط کیا تھا اور کسی کا وہ مذہب قرار پایا تھا اسی لیے غزالی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ مجتہد کے لیے ان کی کتاب کافی ہے۔

ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی:

چوتھے مصنف ابو عیسیٰ الترمذی ہیں ، انہوں نے شیخین بخاری و مسلم کے طریقوں کو پسندیدہ صورت میں جمع کر دیا جہاں ان دونوں نے صاف صاف بیان کیا یا ابہام رکھا تھا ، دونوں کو عمدہ شکل میں کر دیا اور اس لیے کہ ہر ایک صاحب مذہب کے مسائل کو مفصل بیان کر دیا اور ابو داؤد کے مقاصد کی بھی تکمیل کر دی ہے ، دونوں طریقوں کی جامعیت کے بعد ان پر یہ اضافہ کر دیا کہ صحابہ، تابعین اور فقہاء امصار کے مذاہب کو پورا پورا بیان کر دیا ، اس لیے ایک جامع کتاب کو انہوں نے ترتیب دے دیا اور لطیف انداز میں طرق حدیث کو مختصر کر دیا ، ایک طریقہ کا ذکر کر کے دوسرے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہر ایک حدیث کی حالت بتا دی ہے کہ کونسی صحیح اور حسن ہے اور کونسی ضعیف یا منکر ہے اور ہر ایک حدیث کی وجہ ضعف بیان کر دی ہے تاکہ طالب حدیث کو اپنے مقصود میں پوری بصیرت حاصل ہو جائے اور جو احادیث قابل اعتماد نہیں ان کا پورا اندازہ کر سکے اور حدیث مستفیض اور غریب کی تصریح کر دی ، ہر ایک صحابی اور فقیہ کا مذہب نقل کر دیا ہے اور جس شخص کا نام معلوم کرنے کی ضرورت تھی اس کا نام بتا دیا اور جس کی کنیت کی ضرورت تھی اس کی کنیت بتا دی اور علماء میں سے کسی کی نسبت کوئی امر پوشیدہ نہیں رکھا ، اس واسطے علماء کا قول ہے کہ یہ کتاب مجتہد اور مقلد دونوں کو کفایت کرتی ہے۔

محدثین کے مقابلہ میں ان علماء کا پیدا ہونا جو روایت حدیث سے تو ڈرتے تھے لیکن فتویٰ  دینے میں نہیں گھبراتے تھے:

امام مالک، سفیان ثوری اور ان کے بعد ان محتاط لوگوں کے مقابلہ میں ایسے علماء بھی تھے جو مسائل بیان کرنے کو ناپسند نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی فتویٰ دینے میں ان کو کوئی باک تھا ، وہ کہتے تھے کہ دین کی بناء فقہ پر ہی ہے ، اس لیے اس کی اشاعت ضروری ہے ، یہ علماء حدیث بیان کرنے اور رسو ل اللہ  صلی الله علیہ وسلم تک سلسلہ روایت پہنچانے سے خوف کھاتے تھے ، یہاں تک کہ شعبی نے کہا: رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے ورے کے لوگ روایت کے لیے مجھے زیادہ اچھے معلوم ہوتے ہیں اگر حدیث میں کوئی کمی و بیشی ہو گی تو اس کے ذمہ دار وہی لوگ رہیں گے جو نبی صلی الله علیہ وسلم سے ورے ہیں۔

ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں کہوں عبداللہ نے یہ کہا اور علقمہ کا یہ قول ہے ،اور ابن مسعود جب رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تو ان کا چہرہ بدل جاتا تھا ۔ اس وقت وہ کہتے تھے نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایسا ہی یا اس کی مثل فرمایا ہے اور عمر  رضی اللہ عنہ نے جب انصار کی ایک جماعت کو کوفہ بھیجا تو ان سے فرمایا تم کوفہ کو جاتے ہو وہاں تم ایسے لوگوں سے ملو گے جوقرآن کو رقت سے پڑھتے ہیں ، وہ تمہارے پاس آ کر کہیں گے کہ محمد رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ آئے ہیں ، تب وہ تم سے حدیثیں دریافت کریں گے ، تم رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلمسے احادیث کی روایت بہت کم کرنا ۔ ابن عون کہتے ہیں شعبی کے پاس جب کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو وہ بہت ہی احتیاط کیا کرتے تھے اور ابراہیم برابر اس میں گفتگو کرتے تھے ۔ ان تمام آثار کو دارمی نے روایت کیا ہے۔

احادیث کے ساتھ قلت اہتمام کا سبب:

اس وجہ سے حدیث ، فقہ اور مسائل کو مدون کرنے کی دوسری طرز کی ضرور ت پڑی ، ا ن کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے وہ لوگ فقہ کو ان اصولوں کے موافق مستنبط کر سکتے جن کو اہل حدیث نے پسند کیا تھا اور علمائے بلاد کے اقوال میں غور اور بحث میں ان کو کشادہ دلی نہ تھی اور اپنے اپنے اماموں سے متعلق ان کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ تحقیق کے بلند مقام پر فائز ہیں اور سب سے زیادہ ان کا میلان اپنے اساتذہ کی طرف تھا جیسے علقمہ کا قول ہے کہ کوئی عالم عبداللہ سے زیادہ قابل اعتماد نہیں اور ابو حنیفہ کا قول ہے کہ ابراہیم سالم سے زیادہ فقیہ ہیں اور اگر صحابیت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں کہتا کہ علقمہ ابن عمر رضی الله عنہ سے زیادہ فقیہ ہیں۔

تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی ترتیب:

لیکن ان علماء کے ذہن میں فطانت اور سرعت انتقال ایسی تھی جس سے وہ مسائل کا استخراج بخوبی کرتے تھے اور اپنے اصحاب کے اقوال سے اسے خوب پیوند لگاتے تھے اور جو چیز جس کی پیدائش میں ہوا کرتی ہے وہی اس کے لیے آسان ہو جایا کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے:

{کُلُّ حِزْبٍ م بِمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْنَ}  [الروم:۳۲]

’’ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔‘‘

اس طرح ان علماء نے تخریج کے قاعدہ پر فقہ کی ترتیب دی ہر شخص اس کی کتاب کو محفوظ رکھتا تھا جو ان کے اصحاب کی زبان اور اقوال علماء کا زیادہ واقف اور ترجیح میں زیادہ درست رائے ہوا کرتا تھا ، اس لیے ہر مسئلہ میں وہ حکم کی وجہ میں غور کر سکتا تھا جب کسی عالم سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا تو وہ اپنے اصحاب کے واضح اقوال میں غور کرتا جو اسے حفظ ہوتے تھے اگر ان میں جواب مل جاتا تو فبھا ورنہ ان کے عموم کلام کو دیکھتا اور اس عموم سے مسئلہ کا حکم اخذ کر لیتا یا کسی کلام کے اشارۂ ضمنی سے حکم کو مستنبط کر لیتا ۔

کبھی کبھار بعض کلام میں کوئی اشارہ یا اقتضاء ہوا کرتی تھی اس سے امر مقصود سمجھ آجایا کرتا تھا۔ اور کبھی کسی مصرح مسئلہ کی کوئی نظیر ہوا کرتی تھی اسی نظیر پر اصل مسئلہ کو حمل کر لیا کرتے تھے۔ اور کبھی انہوں نے مصرح حکم کی علت میں غور کیا اور اسی علت کو غیر مصرح حکم میں ثابت کر دیا۔

اور کبھی اس عالم کے اس مسئلہ میں دو قول ہوا کرتے تھے اگر ان کو قیاس اقترانی یا شرطی کے ہم شکل کر لیتے تو مسئلہ کا جواب اس سے حاصل ہو جاتا تھا۔

اور کبھی ان کے کلام میں ایسے اُمور ہوتے جو مثال اور تقسیم سے معلوم ہوتے تھے لیکن ان کی تعریف جامع اور مانع معلوم نہ ہوتی اس لیے ان فقہاء نے اصل زبان کی طرف رجوع کیا اور ا س چیز کے ذاتیات معلوم کرنے کی کوشش کی اور ان کی تعریف جامع و مانع مرتب کر دی اور ان میں جو ابہام تھا اسے ضبط میں لے آئے اور مشکل کو ممیز کر دیا۔

اورکبھی ان کی کلام میں چند وجوہ کا احتمال ہوتا انہوں نے دو احتمالوں میں سے ایک کو متعین کر دیا اور کبھی دلائل کا انداز ایسا نہ ہوتا جس سے نتیجہ صاف نکلتا ، انہوں نے ان دلائل کو بخوبی بیان کر دیا اور کبھی بعض اصحاب التخریج اپنے ائمہ کے فعل اور سکوت وغیرہ سے استدلال کیا کرتے تھے۔

مذہب میں مجتہدین :

ان طرقِ مذکورہ کا نام تخریج تھا اور اسی کے متعلق کہا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے قول کو اس طرح خارج کیا ہے یا فلاں مذہب کے موافق یا فلاں قاعدہ کے موافق یا فلاں شخص کے قول کے موافق مسئلہ کا جواب اس اس طرح ہے اور ان کے تخریج کرنے والوں کو مجتہدین فی المذہب کہتے تھے اور جس کا یہ قول ہے کہ جس نے مبسوط کو یاد کر لیا وہ مجتہد ہے اس سے وہی اجتہاد مراد ہے جو تخریج سے تعلق رکھتا ہے ۔ اگرچہ ایسے شخص کو روایت کا علم بالکل نہ ہو اور ایک حدیث بھی اس کو نہ آتی ہو اسی طرح ہر ایک مذہب میں تخریج واقع ہوئی اور اس کی کثرت ہو گئی ، اس کے بعد جس مذہب کے پیرو کار زمانہ میں مشہور ہو گئے اور قضاء اور فتویٰ ان پر مفوض ہوا ۔ ان لوگوں میں ان کی تصانیف مشہور ہو گئیں ۔ انہوں نے عام مواد پر درس دینا شروع کیا ، وہ مذہب اطرافِ عالم میں پھیل گیا اور ہمیشہ اس کی شہرت بڑھتی گئی اور جس مذہب کے پیرو گم نام ہوئے اور قضاء اور فتویٰ کی خدمت ان میں نہ رہی لوگوں نے ان میں رغبت نہ کی وہ چند روز بعد نابود ہو گیا۔

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 814-837

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ