سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(954) روایات سے کیا مراد ہے ؟

  • 514
  • تاریخ اشاعت : 2012-04-17
  • مشاہدات : 993

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بکر کہتا ہے کہ جو احادیث حدیث کی کتابوں میں ہمیں دکھائی دیتی ہیں- ان کو مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات تو کہہ سکتے ہیں۔ مگر ان کو سنت یعنی طریقہ نبویہ نہیں کہہ سکتے۔ اور نہ سنتِ صحابہ رضی اللہ عنہم۔ کیا اس قسم کے الفاظ سے احادیث کا انکار لازم آتا ہے؟ ایسے شخص کا کیا حکم ہے؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگر روایات کہنے سے بکر کی یہ مراد ہے کہ احادیث کے الفاظ طریقہ نبویہ کی حکایت اور بیان ہیں۔ اور طریقۂ نبویہ ان کا مبین ہے اور محکی عنہ ہے تو مطلب صحیح ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ یہ الفاظ طریقۂ نبویہ کا بیان نہیں اور نہ صحابہ رضی اللہ عنہم  کے طریق کا ان سے پتہ لگتا ہے تو یہ غلط ہے اور یہ شخص گمراہ ہے۔ اس کو فوراً امامت سے الگ کردینا چاہیے اس طرح تو قرآن مجید بھی کوئی شے نہیں رہتا۔ 

 


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ