سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(659) جس آدمی میں قربانی کی استطاعت نہ ہو وہ چاند دیکھنے کے بعد ناخن..الخ

  • 5026
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-28
  • مشاہدات : 501

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سنا ہے جس آدمی میں قربانی کی استطاعت نہ ہو وہ چاند دیکھنے کے بعد ناخن اور بال نہ کٹوائے اور عید کی نماز پڑھ کر کٹوائے تو اسے بھی قربانی جتنا ثواب ملے گا اور کیا یہ پابندی تمام گھر والوں کے لیے ہے یا صرف ایک آدمی کے لیے ہے؟     (ظفر اقبال ، نارووال )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چاند دیکھ کر قربانی کرنے تک حجامت نہ بنوانے کی پابندی قربانی کرنے والوں پر ہے ۔ رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اِذَا رَاَیْتُمْ ھِلَالَ ذِی الْحِجَّۃِ وَاَرَادَ اَحَدُکُمْ اَنْ یُّضَحِّیَ فَلْیُمْسِکْ عَنْ شعرِہٖ وَاَظفَارِہٖ))3 [’’جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال اور ناخن یونہی رہنے دے۔‘‘]

جنہوں نے قربانی نہیں کرنی ان پر یہ پابندی نہیں وہ چاہے حجامت بنوائیں چاہے نہ بنوائیں۔ البتہ ایک صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم ! میرے پاس دودھ دینے والا جانور ہے تو رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: حجامت بنوالے یہ تیری پوری قربانی ہے ۔ یہ روایت حسن درجہ کی ہے۔ 1

جس گھر نے قربانی کرنی ہے اس گھر کے تمام افراد پر حجامت نہ بنوانے کی پابندی ہے۔۲۰؍۱۳؍۱۴۲۲ھ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

3 صحیح مسلم؍کتاب الاضاحی؍باب نہی من دخل علیہ عشر ذی الحجۃ وھو یرید التضحیۃ ان یاخذ من شعرہ وأظفارہ شیئاً۔


 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 653

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ