سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(633) کیا آدمی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر سکتا ہے؟

  • 5000
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-28
  • مشاہدات : 738

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا آدمی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر سکتا ہے یا نہیں نیز جائیداد کی تقسیم میں بیوی کا حصہ بھی نکالا جاتا ہے تو بیوی کے مر جانے کے بعد اس کے حصہ کا وارث کون ہو گا ؟ اس کی ساری اولاد اس کے حصے میں حصہ دار ہو گی یا کہ وہ اپنا حصہ کسی اور کو دے سکتی ہے؟               (عبدالستار ولد عبدالرحمان ، نارووال)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں! تقسیم کر سکتا ہے البتہ زندگی میں تقسیم کرنے کی صورت میں لڑکی کو لڑکے کے برابردے گا۔ للذکر مثل حظ الأنثیین [النسآئ: ۱۱]’’ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘والا قاعدہ موت کے بعد ترکہ کی تقسیم میں جاری ہو تاہے ۔ بیوی کو خاوند کی جائیداد متروکہ سے جو حصہ ملا بیوی کے فوت ہو جانے کے بعد وہ بیوی کے وارثوں میں تقسیم ہو گا اس حساب سے جو کتاب و سنت میں مذکور ہے۔              

                                                ۴؍۱۲؍۱۴۲۳ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 522

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ