سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(592) ایک آدمی رقم بینک میں رکھتا ہے وہ سود دیتے ہیں..الخ

  • 4959
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-27
  • مشاہدات : 383

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی رقم بینک میں رکھتا ہے وہ سود دیتے ہیں وہ اسے لے کر کسی قرض دار کا قرضہ ادا کرتا ہے آیا وہ مجرم ہو گا یا نہیں؟ (عبدالرحمن)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اپنے اصل پیسے لے سکتا ہے سود وصول نہ کرے اگر اس نے کر لیا ہے تو خزانہ میں جمع کروایا جائے جس کے وہ پیسے ہیں اپنی کسی ضرورت پر اسے صرف نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی کی ضرورت پر صرف کر سکتا ہے کیونکہ سود حرام ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَحَرَّمَ الرِّبٰوا} [البقرۃ:۲/۲۷۵][’’اور حرام کیا سود کو‘‘]

          اس لیے سود کی رقم سے بیوت الخلاء تعمیر کرنے ، کسی غریب کی امداد کرنے اور کسی کا قرض اُتارنے والے نظریات غلط و بے بنیاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُئُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ} [البقرۃ:۲/۲۷۹]

 [’’اور اگر توبہ کر لو تو تمہار ا اصل مال تمہارا ہی ہے نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘]     ۸/۱۰/۱۴۲۰ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 496

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ