سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(590) بینک میں کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں شریعت..الخ

  • 4957
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-27
  • مشاہدات : 635

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بینک میں کرنٹ اکاونٹ کے بارے میں شریعت اور علماء کرام کیا امر فرماتے ہیں وضاحت سے آگاہ کرنا۔ عنداللہ ماجور ہونا۔         (محمد بشیر الطیب ،کویت )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ سودی بینکوں میں کرنٹ اکاونٹ والے سودی کاروبار میں بینک کے معاون ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے :{وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ}[المائدۃ:۲] [’’نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔‘‘]گناہ کے کام میں تعاون بھی حرام، ممنوع اور گناہ ہے ۔


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 496

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ