سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(566) میں نے اپنی بیوی کو بوجہ گھریلونا چاکی کے مؤرخہ 4/9/99 کو بذریعہ خط

  • 4934
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-27
  • مشاہدات : 546

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں نے اپنی بیوی کو بوجہ گھریلونا چاکی کے مؤرخہ 4/9/99 کو بذریعہ خط طلاق نامہ بھیج دیا۔ جس میں لکھا کہ میری طرف سے تم آزاد ہو۔
طلاق               طلاق                  طلاق
          عالیجاہ! کچھ عرصہ کے بعد لڑکی والوں نے کہا کہ ایک طلاق ہوئی ہے میں نے مؤرخہ 12/8/2000 کو اسٹام پیپر پر دوبارہ طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا اور اس کی فوٹو کاپی ایک ایک ماہ کے وقفے کے بعد تین عدد کاپیاں لڑکی والوں کو بھیج دیں۔ اشٹام کی فوٹوکاپی درخواست ہذا کے ساتھ منسلک ہے۔ محترم جناب اس خط اور اسٹام کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ آیا ایک طلاق ہوئی ہے یا تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔ آیا اب رجوع نکاح کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ہم دونوں فریق دوبارہ گھر آباد کرنے پر رضامند ہیں۔ شریعت محمدیؐ کے مطابق حکم صادر فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو بوجہ گھریلونا چاکی کے مؤرخہ 4/9/99 کو بذریعہ خط طلاق نامہ بھیج دیا۔ جس میں لکھا کہ میری طرف سے تم آزاد ہو۔

طلاق               طلاق                  طلاق

          عالیجاہ! کچھ عرصہ کے بعد لڑکی والوں نے کہا کہ ایک طلاق ہوئی ہے میں نے مؤرخہ 12/8/2000 کو اسٹام پیپر پر دوبارہ طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا اور اس کی فوٹو کاپی ایک ایک ماہ کے وقفے کے بعد تین عدد کاپیاں لڑکی والوں کو بھیج دیں۔ اشٹام کی فوٹوکاپی درخواست ہذا کے ساتھ منسلک ہے۔ محترم جناب اس خط اور اسٹام کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ آیا ایک طلاق ہوئی ہے یا تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔ آیا اب رجوع نکاح کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ہم دونوں فریق دوبارہ گھر آباد کرنے پر رضامند ہیں۔ شریعت محمدیؐ کے مطابق حکم صادر فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جناب کی صورتِ مسئولہ میں طلاق دہندہ اپنی مطلقہ بیوی سے نیا نکاح کرسکتا ہے ۔ کیونکہ اس نے جو طلاق ۴؍۹؍۹۹ء کو دی تھی وہ ایک طلاق رجعی ہے۔ صحیح مسلم جلد اول صفحہ ۴۷۷ میں ہے : عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ’’ تین طلاق رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ کے پورے دونوں دوروں میں اور خلافت عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ کے دور کے ابتدائی دو سالوں میں ایک طلاق ہوا کرتی تھیں۔‘‘ اور ایک رجعی طلاق میں عدت ختم ہوجانے کے بعد میاں بیوی نیا نکاح کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ فَـلَا تَعْضُلُوْھُنَّ أَنْ یَّنْکِحْنَ أَزْوَاجَھُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ط} [البقرۃ:۲۳۲] [’’ اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ جبکہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضا مند ہوں۔ ‘‘ ] ظاہر ہے تاریخ طلاق ۴ ؍ ۹ ؍ ۹۹ء کے بعد تین ماہواریاں گزرنے پر عدت ختم ہوچکی تھی۔ لہٰذا اب کے طلاق دہندہ اپنی بیوی کے ساتھ نیا نکاح کرسکتے ہیں۔ بدلیل آیۃ مذکورہ بالا۔

رہی ۱۲ ؍ ۸ ؍ ۲۰۰۰ء کو دی ہوئی طلاق تو وہ عدت کے بعد ہونے کی بناء پر کالعدم ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں خاوند اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کرکے اپنا گھر آباد کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔            ۲۳ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۳ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 477

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ