سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(470) ایک ملازم ہے، اس کی تنخواہ دو ہزار 2000روپے ہے

  • 4838
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-26
  • مشاہدات : 454

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک ملازم ہے، اس کی تنخواہ دو ہزار 2000روپے ہے، جس کے پاس وہ ملازم ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ وہ ہر مہینے اس کو زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہ کے ساتھ ایک ہزار روپے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہاری امداد کررہا ہوں ، کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟        (محمد یونس شاکر، نوشہرہ ورکاں)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ملازم صدقہ و زکوٰۃ کے آٹھ مصارف سے کسی مصرف میں شامل ہے، اور زکوٰۃ دینے والے کی غرض صرف زکوٰۃ ادا کرنا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں تو یہ معاملہ درست ہے۔   ۲۰ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۱ھ


قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 409

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ