السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک ملازم ہے، اس کی تنخواہ دو ہزار 2000روپے ہے، جس کے پاس وہ ملازم ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ زکوٰۃ کا مستحق ہے۔ وہ ہر مہینے اس کو زکوٰۃ کی رقم سے تنخواہ کے ساتھ ایک ہزار روپے دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہاری امداد کررہا ہوں ، کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟ (محمد یونس شاکر، نوشہرہ ورکاں)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ملازم صدقہ و زکوٰۃ کے آٹھ مصارف سے کسی مصرف میں شامل ہے، اور زکوٰۃ دینے والے کی غرض صرف زکوٰۃ ادا کرنا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں تو یہ معاملہ درست ہے۔ ۲۰ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۱ھ