سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(466) کیا اس دکان کے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے؟

  • 4834
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-26
  • مشاہدات : 451

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حافظ صاحب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک دکان ہے، جس میں جو سامان ہے وہ خرید و فروخت ہونے کی وجہ سے کم زیادہ ہوتا ہے تو اس طرح اس مال پر پورا سال بھی نہیں گزرتا ہے۔ کیا اس دکان کے مال سے زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے؟ اور اگر ہے تو کیا دکان کی ہر چیز کی قیمت لگا کر حساب کرکے ادا کی جائے یا ویسے ہی اندازے کے ساتھ زکوٰۃ نکال دے، جبکہ کچھ قرض لینے اور دینے بھی ہیں۔          (کلیم انور، ہزارہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو ماہ آپ نے زکوٰۃ کے ادا کرنے کے لیے متعین فرمایا ہے اس ماہ جتنا سودا برائے فروخت دکان میں موجود ہے۔ خواہ اس پر سال گزرا ہے یا نہیں۔ اس کی حالیہ قیمت لگالیں ، لاوکس ولا شطط۔پھر جتنی رقم آپ کے پاس نقد موجود ہے یا آپ نے لوگوں سے لینی ہے وہ دونوں اس سودے کی قیمت میں جمع کرلیں اور جو قرض آپ نے دوسروں کو دینا ہے وہ اس میزان سے نکال لیں، جو باقی بچے اس کی زکوٰۃ ادا کردیں۔

[رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے تھے ہم اس مال کی زکوٰۃ ادا کریں جو ہم نے تجارت کے لیے تیار کررکھا ہے۔]                                                                      ۱۶ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ

 

 

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 407

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ