سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(152) روزوں کے مسائل

  • 48
  • تاریخ اشاعت : 2011-09-21
  • مشاہدات : 402

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
  ہمارے ایک دوست انڈیا سے سعودیہ آئے ہیں۔ وہاں انڈیا میں ان کا چوتھا روزہ تھا، یہاں آئے تو  چھٹا روزہ چل رہا تھا۔ اب اگر ٢٩ ویں کا مہینہ ہوا، تو ان کے ٢٨ روزے ہی ہونگے ۔ایسے میں یہ کیا کریں عید کے دن بھی روزہ رکھیں، یا عید کے بعد، یا پھر ٢٨ پر ہی اکتفاء کر لیں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

  ہمارے ایک دوست انڈیا سے سعودیہ آئے ہیں۔ وہاں انڈیا میں ان کا چوتھا روزہ تھا، یہاں آئے تو  چھٹا روزہ چل رہا تھا۔ اب اگر ٢٩ ویں کا مہینہ ہوا، تو ان کے ٢٨ روزے ہی ہونگے ۔ایسے میں یہ کیا کریں عید کے دن بھی روزہ رکھیں، یا عید کے بعد، یا پھر ٢٨ پر ہی اکتفاء کر لیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب انسان کسی ملک میں وہاں کےباشندوں کودیکھےکہ انہوں نےروزوں کی ابتدا کردی ہےتواس پر بھی ان کےساتھ روزے رکھناواجب ہےکیونکہ اس کاحکم وہاں کےرہائشی لوگوں کاہوگااس لئےکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

’’ روزہ اس دن ہےجس دن تم روزہ رکھواورعیدالفطراس دن ہےجس دن تم افطارکرو اورعیدالاضحی اس دن ہےجس دن تم عیدالاضحی مناؤ ‘‘ (سنن ابوداوودمیں اسےجیدسند کےساتھ روایت کیا گیاہے۔ابوداوود میں اوراس کے علاوہ بھی شواہد موجودہیں ۔)

اوربالفرض اگروہ اس ملک سےجہاں اس نےاپنےگھروالوں کےساتھ روزوں کی ابتداکی اوردوسرےملک میں منتقل ہواتواس کاروزے رکھنےاورافطارکرنےمیں حکم اس ملک کے باشندوں کےساتھ ہی ہوگاجہاں وہ منتقل ہواہےتووہ عیدالفطران کےساتھ ہی کرےگااگرچہ وہ اس کےملک سےپہلےہی عیدکریں لیکن اگراس نےانتیس دن سےپہلےعیدکرلی تواس کے ذمہ ایک دن کی قضالازم ہوگی کیونکہ مہینہ انتیس دن سےکم نہیں ہوتا .

ھذا   ما عندی  واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ