السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نمازِ تراویح ادا کرنے کے بعد صبح تک آدمی نوافل ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟ وتر پڑھنے کے بعد یا وتر پڑھنے کے بغیر؟ (ظفر اقبال ، نارووال)
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی رات کی نماز (صلاۃ اللیل ) زیادہ سے زیادہ پندرہ رکعات ہے ، اگر کسی نے نمازِ تراویح و تر سمیت گیارہ رکعات پڑھی ہے تو اس کے بعد طلوع ِ فجر سے پہلے چار رکعات تک نماز پڑھ سکتا ہے وتر پہلی رات پڑھ لیے ہیں تو پچھلی رات وتر نہ پڑھے ، پہلی رات والے وتر ہی کافی ہیں۔ رمضان یا غیر رمضان میں صرف تین وتر پڑھ کر سو گیا ہے درمیانی یا پچھلی رات جاگ اُٹھا ہے ، اب نماز پڑھنا چاہتا ہے تو بارہ رکعات تک نماز پڑھ سکتا ہے ۔ مشکاۃ میں ہے: (( وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ صلی الله علیہ وسلم قَالَ : إِنَّ ھٰذَا السَّھْرَ جُْھْدٌ وَ ثِقْلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ ، فَإِنْ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ ، وَإِلاَّ کَانَتَا لَہٗ )) 2
2 رواہ الدارمی ؍باب الوتر :۱؍۴۰۱