سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(277) عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے؟

  • 4708
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-25
  • مشاہدات : 412

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آپ کہتے ہیں کہ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے، جبکہ بخاری شریف میں حدیث ہے… حمران بن ابان سے سنا وہ معاویہ بن ابوسفیان  رضی الله عنہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا تم ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ  صلی الله علیہ وسلم کی صحبت میں رہے، ہم نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے اس سے منع کیا۔ یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے۔[بخاری کتاب مواقیت الصلوٰۃ] (محمد یونس شاکر)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انہوں نے نہیں دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہما نے آپ  صلی الله علیہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا یہ ان کا علم ہے۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ رہا آپ کا عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع فرمانا تو وہ درست ہے، لیکن اس منع والی حدیث سے جو نمازیں آپ نے عصر کے بعد پڑھیں یا ان کے پڑھنے کی اجازت دی وہ اس حدیث سے مستثنیٰ ہیں منع نہیں۔ تفصیل کے لیے اس فقیر إلی اللہ الغنی کے رسالہ ’’ تعداد رکعات ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔                                                                        ۳۰ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ