السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید کہتا ہے کہ جس وقت کوئی مسلمان مسجد میں وضو کرکے آئے تو بغیر پڑھے دو رکعت کے نہ بیٹھے۔ بکر کہتا ہے کہ بیشک افضل بہتر یہی ہے لیکن اگر بغیر پڑھے دو رکعت کے بیٹھ جائے تو اس کے لیے کوئی جرم و وعید نہیں نہیں ہے۔ ہاں اگر جمعہ کے دن آئے توبغیر پڑھے دو رکعت کے نہیں بیٹھ سکتا گو امام خطبہ ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو۔ الغرض زید اس کا مخالف ہے اب آیا زید کا قول صحیح ہے یا بکر کا؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
دونوں میں سے بکر کا قول ہے صحیح ہے۔ (فتاویٰ ستاریہ جلد اوّل ص ۸۴،۱)