سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(148) نماز جمعہ کی فرض اور سنت مؤکدہ رکعتیں

  • 4579
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-20
  • مشاہدات : 3068

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز جمعہ کی فرض اور سنت مؤکدہ رکعتیں اور نفل سنت غیر مؤکدہ کی کتنی رکعت ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جمعہ کے دن جمعہ کے لیے مسجد میں آئے تو جب تک امام منبر کی طرف نہ آئے نوافل پڑھ سکتا ہے۔ اگر خطبہ کی حالت میں ہے تو دو رکعت پڑھے اور جمعہ کے پہلے چار پڑھے اگر جمعہ سے پہلے نہیں پڑھ سکا تو ظہر کی سنتوں کی طرح پڑھے کیوں کہ جمعہ کی پہلی سنتوں کا حکم ظہر کی پہلی سنتوں کا ہے۔  مولانا حافظ عبداللہ روپڑی

(تنظیم اہل حدیث جلد ۲۰ ش، ۲۷؍۲۸)

مسئلہ

ظہر اور مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد چار چار رکعت نماز پڑھنی حدیثوں سے ثابت ہے اس فعل کو بدعت کہنا اور اس کے کرنے والے کو روکنا نادانی ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص چار رکعت نمازِ ظہر سے پہلے اور چار اس کے بعد پر نگہبانی کرے اس پر اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ حرام کرے گا اس حدیث کو امام احمد اور ابوداؤد اور نسائی اور ابن خزیمہ اور ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور مکحول سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص مغرب کی نماز کے بعد بات چیت کرنے سے پہلے دو رکعت اور ایک روایت میں ہے۔ چار رکعت نماز پڑھے تو اس کی نماز مقام علیین میں پہنچائی جاتی ہے۔ روایت کیا اس کو رزین نے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اُس نے کہا نبیﷺ کبھی عشاء نماز پڑھ کر میرے پاس نہیں آئے مگر چار رکعت یا چھ نماز پڑھتے۔ اس حدیث کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔ اور عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت نماز پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں چنانچہ اُن میں سے ایک حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی ہے جو نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو کوئی عشاء نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر مسجد سے نکلنے سے پہلے چار رکعت نماز ادا کرے تو وہ اس کے لیے لیلۃ القدر میں جاگنے کے برابر ہوں گی۔ اس حدیث کو طبرانی نے کبیر میں بیان کیا ہے۔ اور عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز پڑھنے کے بارے میں سو ایک حدیث صحیح کے (جو آپ نے فرمایا کہ درمیان ہر اذان اور اقامت کے نماز ہے۔) اور کوئی حدیث اس وقت مجھے یاد نہیں۔

حررہ عبدالجبار بن عبداللہ الغزنوی عفی اللہ عنہما

(فتاویٰ غزنوی ص ۳۰)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04 ص 238

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ