سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(146) سنن رواتب کہ وہ نماز پنجگانہ میں معمول ہیں عوام کے ذہن میں..الخ

  • 4577
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-20
  • مشاہدات : 434

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سنن رواتب کہ وہ نماز پنجگانہ میں معمول ہیں عوام کے ذہن میں اس قدر مستحکم ہے کہ عوام سمجھتے ہیں کہ مجموعہ رکعات سنت و فرض اصل نماز میں داخل ہیں۔ حالاں کہ سنت فجر کے سوا اور جو باقی نماز سنت ہے اس کی اس قدر تاکید حدیث میں نہیں اور اکثر مسلمان مرد عورت بسبب زیادتی رکعات نماز کے پابندی نماز کی دشوار جانتے ہیں۔ تو رات دن میں جو سترہ رکعت فرض ہے اگر صرف وہی ادا کرنے کے لیے حکم دیا جائے تو لوگ آسانی سے پابندی نماز کی کرسکیں گے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو نماز سنت ہے اُس کے بارہ میں علماء ماوراء النہر نے سختی کی ہے۔ حتیٰ کہ جہال عوام نے سنتوں کو قریب فرض کے سمجھ لیا ہے اور اس قدر احادیث سے ثابت نہیں اور یہی تحقیق ہمارے حضرت والد مرحوم کی ہے۔ اور احادیث و آثار صحیحہ سے یہی ثابت ہے۔ اور تشدد کنندگان علماء ماوراء النہر نے اس قدر تاکید نماز سنت کی فرمائی ہے کہ یہ نمازیں جو سنت ہیں عوام کے عقیدہ میں فرض کے مانند قرار پائی ہیں اور ہمارے والد مرحوم فرماتے تھے کہ یہ شریعت میں ایک طرح کی تحریف ہے۔ یعنی سنت کے بارہ میں یہ عقیدہ کرا دینا کہ یہ فرض ہے شریعت میں ایک طرح کی تحریف ہے۔

(فتاویٰ غزنویہ جلد ۲، ص ۲۷۸)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 04 ص 236

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ