سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(149) حق مہر کے بغیر بیوی سے تعلق

  • 45
  • تاریخ اشاعت : 2011-09-21
  • مشاہدات : 2404

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 کوئی آدمی اگر اپنی بیوی کو حق مہر ادا نہیں کرتا، اور اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر لیتا ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔؟   کیا وہ زنا تو نہیں کر رہا، کیونکہ حق مہر کا ادا کرنا ضروری ہے۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کوئی آدمی اگر اپنی بیوی کو حق مہر ادا نہیں کرتا، اور اپنی بیوی سے تعلقات قائم کر لیتا ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے۔؟   کیا وہ زنا تو نہیں کر رہا، کیونکہ حق مہر کا ادا کرنا ضروری ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حق مہر کی ادائیگی نکاح کی شرائط میں سے ایک  ہے لیکن حق مہر معجل اور غیر معجل یعنی مؤجل دونوں طرح ہو سکتا ہے یعنی نکاح کے موقع پر بھی دیا جا سکتا ہے اور زوجین کی باہمی رضامندی سے بعد میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پس حق مہر شوہر کے ذمہ قرض رہتا ہے جو وقت مقررہ یا عند الطلب یعنی بیوی کے مطالبہ کے وقت واجب الادا ہے۔

ھذا   ما عندی  واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ