السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص سے ایک جمعہ جماعت کی غیر حاضری ہوگئی۔ بسبب نہانے دھونے کپڑے وغیرہ کے اور نہ اذان کی آواز سنی جاتی تھی۔ اس جگہ جہاں مذکورہ بالا کام میں مشغول تھا۔ لہٰذا اپنے وقت کے اندازے پر بہت کچھ دوڑا بھاگا۔ جمعہ نہیں آیا ہاتھ۔ اب شریعت محمدیہ اس شخص کے حق میں کیا حکم عنایت کرتی ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وسعت ہو تو تین روپے ورنہ ڈیڑھ روپیہ کفارہ دے۔
(فتاویٰ ستاریہ جلد اول ص۶۷)