السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک گاؤں میں تین جگہ جمعہ پڑھنا جائز ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
گاؤں اگر اچھا قصبہ ہے اور مساجد فاصلہ پر ہیں تو تعدد کی گنجائش ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور اگر گاؤں چھوٹا ہے تو پھر ضد لگانے، نفسانیت کا معاملہ ہے۔ ضد سے تعدد ٹھیک نہیں بلکہ تعدد کی رخصت ضرورت کی بنا پر ہے۔ مثلاً مساجد ذرا فاصلہ پر ہوں۔ ایک مسجد میں سب کی گنجائش نہ ہو، کمزوروں کو وہاں پہنچنا تکلیف دہ ہو، وغیرہ وغیرہ۔ ویسے تعدد اور نفسانیت کی وجہ سے اچھا نہیں۔
مولانا عبداللہ امرتسری
(فتاویٰ اہل حدیث ص ۳۶۶)