السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کوئی شخص منگل یا بدھ وغیرہ دنوں میں مر جائے تو اس کی قبر پر کسی آدمی کو قرآن پڑھنے کے لیے جمعرات کی مغرب تک بٹھانا اس نیت سے کہ یہ شخص جمعہ میں مل جائے گا، جائز ہے یا نہیں اور یہ کہ جب تک قرآن قبر پر بآواز بلند پڑھا جائے تب تک اس کو پوچھ نہیں ہوتی ہے۔
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں۔ پیٹ پرستوں کے حیلے ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ جلد ۱ ص ۵۴۴)