السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آنحضرت ﷺ و حضرت ابو بکر صدیق و دیگر صحابہ کرام کا تیجا، دسواں، چالیسواں و عرس سالانہ ہوا تھا یا نہیں۔ کیا کسی معتبر کتاب سے اس کا ثبوت ملتا ہے؟
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ ساری بدعتیں پیٹو ملا نے بدعتیوں کی ایجاد ہیں۔ نہ آنحضرت ﷺ کا تیجا، دوجہ و عرس ہوا نہ صحابہ کرام کے متعلق کچھ ثبوت ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے: ((اَللّٰھُمَّ لَا تجعل قبری عیدا)) ’’یعنی یا اللہ! میرے قبر پر نہ میلہ لگے نہ عرس کیا جاوے۔‘‘چنانچہ اللہ نے آ پ کی دعا قبول فرمائی۔آج تک آپ کی قبر مبارک پر یہ خرافات نہیں ہوئے۔
(مولانا) محمد یونس دہلوی۔ (اہل حدیث گزٹ دہلی جلد ۹ ش ۹)