سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(117) فاتحہ بعد جنازہ محققین علمائے احناف کی نظر میں

  • 4307
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-16
  • مشاہدات : 1164

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تکبیرات جنازہ و تکبیرات عیدین میں رفع الیدین کرنا چاہیے یا نہیں، ایک صاحب نہایت سختی سے فرماتے ہیں، کہ ان تکبیرات میں رفع الیدین کرنا ناجائز ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ دو رواج جو مروج خاص و عام ہیں، یعنی نماز جنازہ پڑھتے ہی گردا گرد میت کے کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں، اور دووسرا رواج بعد فن میت کے چند قدم جا کر پھر متوجہ قبرستان ہو کر فاتحہ پڑھتے ہیں، اس کا بھی کچھ ثبوت سلف میں پایا جاتا ہے، یا نہیں، جہاں تک غور و تفحص کیا جاتا ہے، زمانہ حضرت سید الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام و قرون ثلاثہ میں جس کے متعلق حضرت محمد مصطفی ﷺ نے خیرت کی خوشخبری دی ہے، اس طرح کا کوئی عمل بعد نماز جناہ دفن میت نہیں پایا جاتا، ہاںمطلق استغفار و دعا زندوں کی مردوں کے لیے بعد دفن میت ثابت ہے، فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے بعد دفن میت قبر پر تم اتنی دیر تک کہ اُونٹ ذبح ہو کر تقسیم کر دیا جائے، کھڑے ہو کر دعا کرو، اور اس کے لیے خدا سے ثبت مانگو۔ ((فَاِنَّہٗ اَلْاٰنَ یُسْئَالُ)) ’’کیونکہ اس وقت اس سے سوال ہو رہا ہے۔‘‘اور بموجب حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ بعد دفن سرہانے میت کے اوائل سورہ بقرہ اور پائتی خواہ تم سورہ بقر پڑھنا بھی ثابت ہے، اور یہ طریقہ و رواج جو مروج زمانہ ہے، اس کی محدث فی الدین ہونے میں کچھ شک نہیں، پھر اس کو ضروری اور واجب جاننا ((یَقُوْلُ عَلٰی مَا قال اللّٰہ وقَال الرَّسول)) ہے، کسی کتاب غیر معتبر میں بھی اس کا ثبوت نہیں ملتا، چہ جائیکہ کتب معتبرہ میں اس کا ذکر ہو، رد المختار میں علامہ ابن عابدین نے آخر باب جنازہ میں فرمایا ہے۔

((الاختصار علی ما ذکر من الوارد اشارۃ الی انہ لا یسن الاذان عند ادخال المیت فی قبرہٖٖ کما ھو معتاد العام وقد صرح ابن حجر فی فتواہ انہ بدعۃ سیئۃ الیٰ اٰخر مَا قال))

’’یعنی اختصار کرنا فقہاء کا ذکر مسائل میں اس پر جو وارد ہوا ہے، دلیل ہے، اس بات پر کہ اذان وقت دفن میت کے مسنون نہیں، جیسے عام رواج ہے، اور ابن حجر رحمۃ اللہ نے اپنے فتویٰ میں تصریح کی ہے، کہ یہ بدعت ہے۔‘‘

پس اسی استدلال سے فاتحہ جو فراغ نماز جنازہ میت گرداگرد کھڑے ہو کر کرتے ہیں، اور وہ فاتحہ جو بعد دفن میت چند قدم چل کر پڑھتے ہیں، مثل اذان عند الدفن کے بدعت و مستحدث ہے، صاحب کبیری نے سراجیہ میں ممانعت صریح اس فاتحہ کی نقل کی ہے، چنانچہ فرمایا:

((وفی السراجیۃ اذا فرغ من الصلوٰۃ لا یقوم بالدعاء کذا فی الکبیری))

’’جب فارغ ہو نماز جنازہ سے تو دعاء کے لیے نہ کھڑتے ہو۔‘‘

اور اجناس الوقت میں ہے۔

((واذا دفن المیت رجع اھل الجنازۃ عن القبر او انفک من منع الدفن بقدر مأتہ خطوۃ او اکثر او اقل فقاموا وینظرون ای قبر المیت ویدعون فھو لا یجوز لان النبی ﷺ نہٰی عن ھٰذہ الافعال انتہی))

’’اور جب دفن ہو جائے مردہ تو لوٹتے ہیں، جنازہ والے قبر سے یا الگ ہوتے ہیں، مع منع دفن سے مقدار سو قدم کے یا کم و زیادہ پھر کھڑے ہوتے ہیں،اور قبر میت کو دیکھتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں، پس یہ جائز نہیں ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے منع کیا ہے، ان کاموں سے۔‘‘

 رسالہ تجہیز و تکفین مؤلفہ محمد عمران میں بعد نقل حدیث صحیح کہا ہے، پس اس سے معلوم ہوا، بعضے دیار کی اس زمانہ میں رسم ہے کہ میت کو دفن کرکے چالیس قدم چلے جاتے ہیں، پھر وہاں سے پلٹ کر قبر پر فاتحہ پڑھتے ہیں، بدعت مخالفت سنت کے ہے، اور محض بدخواہی میت کی ہے، اس مسئلہ کو یاد رکھنا چاہیے۔ انتہی

ما قالہ رحمۃ اللہ تعالیٰ مولانا عبد العلی صاحب اپنے فتویٰ میں لکھتے ہیں، سنت ایں امرین مسطورین از معتبرے بخیر ثبوت نرسیدہ پس التزام بہ آن واصرار بر آن خالی از احداث فی الدین نیست وملتزم ومصر در عموم ((مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا لِہٰذا)) مندرج است ((واللّٰہ اعلم وعلمہ اتم)) یعنی سنت ان دونوں کاموں کی یعنی دعا بعد نماز جنازہ فاتحہ چالیس قدم کا کسی معتبر شخص و کتاب سے پایہ ثبوت کو نہ پہنچا ہے، پس اس کا التزام اور اس پر اڑے رہنے والا عموم حدیث ((من احدث فی اَمْرِنَا ھٰذا مَا لیس منہ فھو رد)) میں داخل ہے یعنی بدعتی اور ایسا ہی اس میں لکھا ہوا ہے کہ نہیں جائز ہے، دعا بعد نماز جنازہ کے کیونکہ نماز جنازہ خود دعا ہے، دعا کے بعد دعا زائد ہے، مشکوٰۃ شریف مطبوعہ مطبع احمد دہلوی رحمہ اللہ فی باب الجنازہ صفحہ نمبر ۱۳۹ سطر نمبر ۱۹ برحاشیہ حدیث مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ کے تحت لکھا ہے۔

((لا یدعوا للمیت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوٰۃ الجنازۃ ذکرہ ملا علی القاری فی شرح للمشکوٰۃ))

’’اور نہ دعا کرے، میت کے لیے بعد نماز جناز کے کیونکہ وہ مشابہ ہے، زیادہ کے نماز جنازہ میں ذکر کیا، اس کو ملا علی قاری نے اپنی شرح مشکوٰۃ میں۔‘‘

الحاصل یہ طریقہ فاتحہ کا بھی نہایت مذموم و قابل ترک ہے۔

((فلیتحرا المؤمن الموحد عن الاعمال بما فیھا مَا ھو ثابت صحیح صبر من کل شک وشبھۃ واکتفی بما ورد من السنۃ ومن حام حول الحمٰی یوشک ان یقع فیہ فینبغی التجنب من ھذہ الرسوم المروجہ ومَا یشبہ ذلک۔ وَمَا وَعَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِیْنَ))

(اہل حدیث گزٹ دہلی جلد نمبر ۱۵، شمارہ نمبر۱۱ )

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 05 ص 205-208

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ