سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

جلسہ استراحت کی تحقیق

  • 428
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-08
  • مشاہدات : 984

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا جلسہ استراحت صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟ کتنی احادیث ملتی ہے اس عمل کے متعلق ؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا جلسہ استراحت صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟ کتنی احادیث ملتی ہے اس عمل کے متعلق ؟ ازراہِ کرم کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دیں جزاكم الله خيرا

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!  

جلسہ استراحت مسنون و مشروع عمل ہے۔اس عمل کی مشروعیت پر درج ذیل احادیث دال ہیں۔

۔مالک بن حویرث ﷜ سےروایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو نماز ادا کرتے دیکھا ،چنانچہ

’’ فَإِذَا كَانَ فِى وِتْرٍ مِنْ صَلاَتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِىَ قَاعِدًا‘‘

جب آپﷺ طاق (پہلی یا تیسری) رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک برابر نہ بیٹھتے۔(صحیح بخاری:823،سنن ابوداود :844،جامع ترمذی:287)۔

فقہ الحدیث

1۔امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ پہلی اور تیسری رکعت میں دوسرے سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد اور دوسری اور تیسری رکعت کے لیے اٹھنے سے قبل جلسہ استراحت مشروع فعل ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ  اور بعض محدثین بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔(نیل الاوطار:2/270)۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں اس حدیث پر یہ باب

’’باب من استوی قاعدا فی وتر من صلاتہ ثم نھض‘‘

(اس شخص کا بیان جو نماز کی طاق(پہلی اور تیسری )رکعت میں(دوسرے سجدہ کے بعد )برابر بیٹھ کر پھر کھڑا ہوتا ہے) قائم کر کے جلسہ استراحت کی مشروعیت پر استدلال کیا ہےاور حافظ ابن حجررحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں کہ مذکورہ حدیث کی ترجمۃ الباب سے مطابقت بالکل واضح ہےنیز حدیث الباب میں جلسہ استراحت کے مشروع ہونے کابیان اور امام شافعی رحمہ اللہ اورمحدثین کی ایک جماعت کا بھی یہی مذہب ہے۔(فتح الباری:3/384)۔

ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے( غلط نماز ادا کرنے والے سے ) کہا:

’’ثم ارفع حتي تطمئن جالسا‘‘

پھر(دوسرے سجدے سے سر) اٹھا اورمطمئن ہو کر بیٹھ۔(صحیح بخاری :6252)

اس حدیث میں جلسہ استراحت کی تاکید بیان ہوئی ہے ،جو کم از کم استحباب کی دلیل ہے۔

ابوحمید ساعدی﷜ سے مروی معروف روایت ،جس میں انہوں نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں نبوی طریقے کے مطابق نماز ادا کی اور حاضرین مجلس نے ان کے طریقہ نماز کی تصدیق کی ۔اس روایت کے آخر میں جلسہ استراحت کابیان ہے،چنانچہ و ہ بیان کرتے ہیں۔

’’ثم يهوي الي الارض فيجافي يديه عن جنبيه  ثم يرفع راسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليهاويفتح اصابع رجليه اذا سجد ثم يسجد ثم يقول الله اكبر ويرفع راسه ويثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى يرجع كل عظم الى موضعه‘‘

پھر آپ ﷺ سجدہ کے لیے زمین کی طرف جھکتے اور دونوں ہاتھوں کو پہلؤوں سے دور رکھتے پھر آپ اپنا سر اٹھاتے بائیں پاؤں کو موڑتے اوراس پر بیٹھتے۔آپﷺ سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھولا کرتے تھے۔ پھر آپ سجدہ کرتے اس کے بعد اللہ اکبر کہتے سجدہ سے سر اٹھاتے اوراپنے بائیں پاؤں کو موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی۔(سنن ابوداود:730،جامع ترمذی:304،سنن ابن ماجہ:1061)۔اسنادہ صحیح 

درج بالا دلائل اس بات کی دلیل ہیں کہ جلسہ استراحت مسنون فعل ہے اور اسے خلاف سنت گرداننا قطعا درست نہیں۔

وباللہ التوفیق

فتویٰ کمیٹی


محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ