سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(63) ہندہ کا زنا کا پیشہ ہے، چنانچہ مرنے تک یہ پیشہ رہا..الخ

  • 4254
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1219

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ہندہ کا زنا کا پیشہ ہے، چنانچہ مرنے تک یہ پیشہ رہا، آخر بیماری میں اُس نے توبہ کی آیا یہ توبہ اس کی قبول ہے یا نہ اور اس کا جنازہ جائز ہے یا نہ ایک عالم نے اس کے جنازہ سے منع کیا، دوسرے عالم نے اس مانع پر کفر کا فتویٰ لگا دیا کیا یہ فتویٰ لگانے والا اپنے فتویٰ میں صواب پر ہے یا خطا پر، بینواتوجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہندہ نے اگر نزع سے پہلے توبہ کی ہے، تو اس کی توبہ منظور ہے، اور اگر عین حالت نزع میں توبہ کی ہے تو توبہ قبول نہیں۔

((کَمَا قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰٰی وَلَیْسَتِ التّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیَّئَات حَتّی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنَّیْ تُبْتُ الْاٰنَ الاٰیة۔ وَفِی الْکَمَالَیْنَ لِاَنَّه حَالُ مُشَاھِدَةِ مَلَك الْمَوْتِ وَالْعَذَابِ فَہِیَ حَالَةُ اِضْطِرَارِ لَا اِخْتِیَارِ وَالْمَشْھُوْرُ اِنَّ تَوْبَةَ الْبَاسِ مَقْبُوْلَة وَاِنْ لَمْ یَکُنْ اِیْمَانُه مَقْبُوْلًا کَذَا فِی الْخُلَاصَةِ وَغَیْرِھَا لِکِنْ وَقَعَ فِی جَامِعِ الْمُضْمِرَاتِ خِلَافُه وَھُوَا الصَّحِیْحُ وَالْوَارِدُ فِیْ اَحَادِیْثِ الصَّحِیْحَةِ انتہی))

’’جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اور ان لوگوں کی توبہ نہیں جو کرتے جاتے ہیں برے کام جب تک سامنے آئے ایسے کسی کو موت کہنے لگا، میں نے توبہ کی اب اور ان کو جو مرتے ہیں کفر میں ان کے واسطے ہم نے تیار کی دکھ کی مار، اور کمالین میں ہے، اس واسطے کہ یہ حال ملک الموت اور عذاب کے حاضر ہونے کا وقت ہے، اور یہ حالت اضطراری ہے، نہ اختیاری مشہور ہے کہ اس کی توبہ مقبول ہے، اگرچہ اس کا ایمان قبول نہیں، اور خلاصہ وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے، لیکن جامع المضمرات میں اس کا خلاف ہے، اور وہی صحیح ہے، احادیث بھی اسی پر دال ہیں۔ انتہیٰ‘‘

((وَفِی الْاِکْلِیْلِ تَحْتَ ھَاتَیْنِ الاٰیَتَیْنِ فِیْهِ بَیَانُ الْوَقْتِ الَّذِیْ تُقْبَلُ فِیْهِ التَّوْبَة وَھُوَ مَا لَمْ یَصِل ِ الْاِنْسَانَ اِلَی الْگَرْ غَرَةِ وَمُشَاھِدَةِ مَلَك الْمَوْتِ وَالْعَذَابِ اِذَا وَصَلَ ذٰلِكَ لَمْ تُقْبَلْ لَه تَوْبَة وَلَا یُصِیّحُ مِنْه اِیْمَانٌ))

’’اور اکلیل میں ان دونوں آیتوں کے نیچے لکھا ہے کہ ان میں اس وقت کا بیان ہے، کہ اس میں (اگر توبہ کرے) توبہ قبول ہو جاتی ہے، اور وہ وقت غرغرہ کی حالت سے اور ملک الموت اور عذاب کے حاضر ہونے سے پہلے ہے، اور جس وقت انسان ان حالتوں کو پہنچ جاوے، تو اس وقت نہ توبہ مقبول ہے، اور نہ ایمان صحیح ہے۔’’

((اَخَْرَجَ بْنُ اَبِیْ حَاتِم عَن ابْنِ عَبَّاسٍ فِیْ قَوْلِه تَعَالٰی ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبِ قَالَ اَلْقَرِیْبُ مَا بَیْنَه وَبَیْنَ اَنْ یَنْظُرُ اِلَی مَلَكِ الْمَوْتِ وَعَنِ الْحَسَنِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ وَاَخْرَجَ اَحْمَدُ وَالتَّرْمذِیْ عَنِ بْن عُمَر رضی اللہ عنه مَرْفُوْعًا اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْعِرْ))

’’ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے اس قول باری تعالیٰ ﴿ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْب﴾ کی تفسیرمیں نقل کیا ہے کہ قریب سے مراد وہ وقت ہے جو درمیان اس کے اور درمیان حاضر ہونے ملک الموت کے ہے، اور اس کی تفسیر میں سج سے منقول ہے کہ جب تک حالت غرغرہ نہ لاحق ہو اور احمد و ترمذی نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے، کہ حالت غرغرہ کے لاحق ہونے سے پہلے پہلے اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔۱۲۔‘‘

اور جو لوگ اس طرح علانیہ فسق و فجور میں مبتلاہوں، اور ارتکاب کبائر ایسے آزاد اور بے باک ہوں، ان کا جنازہ امام اور مقتداء اگر زجراً و توبیخاً نہ پڑھے، تو اس میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ ازروئے فتویٰ ان پر نماز پڑھنی جائز ہے، چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اسی غرض سے کئی ایک ہسیتوں پر نماز جنازہ نہیں پڑھی، اور عام لوگوں کو رخصت دی، یا منع نہ کیا جیسا کہ ذیل کی احادیث سے ظاہر ہے۔

((اَخْرَجَ التَّرْمَذِیْ عَنْ اَبِیْ قَتَادَةَ اَنَّ النَّبِی ﷺ اُتِی بِرَجْلِ لِیُصَلِیْ عَلَیْه فَقَالَ صَلُّوْا عَلٰی صَاحِبِکُمْ فَاِنَّ عَلَیْهِ دَیْنًا الحدیث))

’’ترمذی نے ابن قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا آپ اس پرنماز جنازہ پڑھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کہ تم ہی اپنے صاحب پر نماز پڑھ لو، کیونکہ اس کے ذمہ قرض ہے۔‘‘

حاشیہ میں ہے۔

((قَالَ الطِیْبِیْ لَعَلَّه ﷺ اِمْتَنَعَ عَنِ الصَّلٰوة عَلَی الْمَدْیُوْنَ الَّذِیْ لَمْ یَدَعْ وَفَاء تَحْذِیْرًا عَنِ الدَّیْمنِ وَزَجْرًا عَنِ الْمَمَاطَلَةِ وَالتَقْصِیْرِ فِی الْاَدَاءِ الخ واخرج ایضاً عَنْ جَابِرِبْنِ سَمْرَةَ اَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَه فَلَمْ یُصَلَّی علیه النبی ﷺ وَاَخْرَجَ اَبُوْ دَاؤدَ عَنْ اَبِیْ بَرْزَةَ الْاَسْلَمِیَّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ عَلٰی مَا عِزِبْنِ مِالِك وَلَمْ یَنْه عَنِ الصَّلٰوةِ عَلِیْهِ))

’’طیبی نے کہا، کہ شاہد رسول اللہ ﷺ نے اس قرض دار پر جس نے قرض کے ادا کرنے کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو، اس واسطے نماز نہیں پڑھی، تاکہ لوگوںکو قرض کی جلدی نہ ادا کرنے میں تنبیہ اور زجر، ترمذی نے جابر بن سمرہ سے بھی روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے خود کشی کی، (یعنی اپنے آپ کو مار ڈالا) تو نبی ﷺ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، اور ابو داؤد نے ابی برزہ سلمی سے روایت کی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے نہ تو ماعز بن مالک پر نماز پڑھی، اور نہ نماز پڑھنے سے منع کیا۔ ۱۲‘‘

دلائل مذکورۃ الصدر سے واضح ہو گای کہ عمرو اپنے دونوں قولوں میں حق پر ہے، اس پر تکفیر کا حکم لگایا، اس کی امامت کو ناجائز کہنا محض بے دلیل اور بے اصل ہے اور زید کا قول عمرو کے حق میں صریح ظلم اور تعدی ہے۔

(حررہ عبد الجبار بن عبد اللہ الغزنوی عفی اللہ عنہما) (فتاویٰ غزنویہ ص ۱۰۶،۱۰۷)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 05 ص 132-135

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ