سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(184) زید کہتا ہے کہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر..الخ

  • 4187
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-15
  • مشاہدات : 448

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کہتا ہے کہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کے لیے جاگنا سنت ہے خواہ وعظ کی مجلس میں شریک ہو کر جاگے یا گھر میں عبادت کرے وعظ بھی عبادت ہے، بکر کہتا ہے، کہ شرع اسلام نے ہر وقت کے لیے ایک عبادت اور ہر عبادت کے لیے ایک طرز مقرر کیا ہے، لہٰذا ہر عبادت اپنے مقرر طرز پر ادا کی جائے تو عبادت ہے ورنہ بدعت۔ سنت نبوی اور آثار صحابہ رضی اللہ عنہ سے کہیں ثبوت نہیں ملتا کہ ان راتوں میں رات رات بھر وعظ ہوئے ہوں۔ ہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو فرمایا کہ اٹھو اور اللہ کی عبادت کرو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ راتوں کو ضرورت کے وقت بات کرنا جائز ہے، نہ کہ وعظ کا ثبوت نکلتا ہے ہم بھی اگر اپنے اہل بیت کو ان راتوں میں اٹھا کر عبادت کرنے کو کہیں تو سنت نبوی پر عمل ہوتا ہے،اور موجودہ مجالس وعظ اس رات کی عبادت نہیں بلکہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان ایک حجاب ہے جو لیلۃ القدر کی برکتوں سے محروم رکھتا ہے، ان مجلسوں میں جاگنے والوں سے پوچھو کہ کبھی کسی نے لیلۃ القدر دیکھی! براہ مہربانی کتاب و سنت کی روشنی میں بتایا جائے کہ ان دونوں میں کون حق پر ہے؟ (محمد رفیع از دہلی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وعظ کہنا یا عظ سننا بھی عبادت ہے، حدیث شریف میں ہے۔ ((تدارس ساعة من الَّیْل خَیْرٌ مِنْ اِحیائِه))’’بوقت شب ایک گھڑی علمی بات چیت کرنا ساری رات کی عبادت سے اچھا ہے۔‘‘ اس حدیث سے ہمارا دعویٰ ثابت ہے کہ وعظ گوئی یا وعظ شنوی سب عبادت ہے، پس زید کا قول صحیح ہے۔ واللہ اعلم

(اہل حدیث ۳۰ رمضان ۱۳۵۱) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۱۲)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 470

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ