سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(200) زید شعبان و رمضان میں بعض امراض کی وجہ سے بے ہوش پڑا رہا..الخ

  • 4163
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-15
  • مشاہدات : 313

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
 زید شعبان و رمضان میں بعض امراض کی وجہ سے بے ہوش پڑا رہا۔ صرف نبض چلتی رہی۔ پھر قدرے ہوش آہا۔ اب بھی مرض کا حمہ ہوتا رہتا ہے، صحت کی امید کم ہے، فوت شدہ نمازوں و روزوں کی کیا صورت۔ اور آئندہ نماز کس طرح پڑھے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 زید شعبان و رمضان میں بعض امراض کی وجہ سے بے ہوش پڑا رہا۔ صرف نبض چلتی رہی۔ پھر قدرے ہوش آہا۔ اب بھی مرض کا حمہ ہوتا رہتا ہے، صحت کی امید کم ہے، فوت شدہ نمازوں و روزوں کی کیا صورت۔ اور آئندہ نماز کس طرح پڑھے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بے ہوشی کے زمانے کی فوت شدہ نمازیں و روزے زید پر معاف ہیں۔ ان کی قضاء اس پر نہیں۔ {لَا یُکَلَِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا} ’’نہیں تکلیف دیتا ہے، اللہ کسی جی کو مگر طاقت اس کی۔ ۱۲۔‘‘روضۃ الندیہ میں ہے۔ ((وکذالک عمن اقغمی علیہ حتی خرج وقتہا فلا وجوب علیہ لانہ غیر مکلف فی الوقت)) ’’اور اسی طرح اس شخص سے جو غشی ڈالی گئی۔ اس پر یہاں تک کہ نکل گیا وقت اس کا پس اس پر قضا واجب نہیں۔ اس لیے کہ ہو مکلف نہیں۔۱۲‘‘

ہاں زید آئندہ نماز لیٹے۔بیٹھے یا اشارہ سے جس طرح بھی ممکن ہو پڑھتا رہے، اگر آیندہ رمضان تک زید تندرست نہ ہوا۔ اور مرض کی یہی حالت رہی۔ اور صحت کی امید منقطع ہو جائے تو بموجب آیت {وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُْوْنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنِ}’’اور اوپر ان لوگوں کے جو طاقت دور کر چکے ہیں۔ اس کی۔ پس بدلہ ہے، کھانا ایک مسکین۔۱۲‘‘ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔

(اہل حدیث گزٹ دہلی جلد ۹ شمارہ ۲)

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 435

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ