سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(140) تراویح میں ایک شخص تو حافظ قرآن سناتا ہے، لیکن سامعین جماعت میں..الخ

  • 4103
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-14
  • مشاہدات : 362

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تراویح میں ایک شخص تو حافظ قرآن سناتا ہے، لیکن سامعین جماعت میں کوئی حافظ سامع نہیں۔ اگر ایسے وقت کوئی ناظرہ قرآن شریف صف اول میں بیٹھ کر سنتا رہے، اور ٹوکتا بتاتا رہے، اور وقت رکوع و سجود شریک جماعت ہو جایا کرے،تو ازرائے شرح جائز ہے، یا ناجائز؟ (محمد عثمان ماستی)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تراویح میں ایک شخص تو حافظ قرآن سناتا ہے، لیکن سامعین جماعت میں کوئی حافظ سامع نہیں۔ اگر ایسے وقت کوئی ناظرہ قرآن شریف صف اول میں بیٹھ کر سنتا رہے، اور ٹوکتا بتاتا رہے، اور وقت رکوع و سجود شریک جماعت ہو جایا کرے،تو ازرائے شرح جائز ہے، یا ناجائز؟ (محمد عثمان ماستی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام تراویح میں امام ہوتا تو قرآن مجید دیکھ کر پڑھتا تھا۔ اور حضرت ممدوحہ اس کی اقتداء میں نماز پڑھتی تھیں، اس واقعہ پر قیاس کیا جائے تو صورت مرقومہ جائز ہے۔ واللہ اعلم

(۳۰ جنوری ۱۹۳۱ئ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد ۱ ص ۴۱۳)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 329

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ