سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(38) اگر کوئی بے روز روزہ دار کے سامنے کھائے پیئے تو اسے ثواب ہوتا ہے..کیا یہ صحیح ہے؟

  • 4041
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-13
  • مشاہدات : 579

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کہتا ہے کہ اگر کوئی بے روز روزہ دار کے سامنے کھائے پیئے تو اسے ثواب ہوتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غلط ہے، اور دین سے استہزاء ہے، اگر اسلامی حکومت ہو تو اسے سزا ملے۔ (اہل حدیث سوہدرہ ج ۶ ۲۱۔ جون ۱۹۵۴ئ)

توضیح:

… محترم مفتی صاحب سائل کا سوال صحیح نہیں سمجھ سکے، دراصل اس کا مقصد یہ تھا۔ صورت مسئولہ میں روزے دار کو ثواب ہوتا ہے یا نہیں؟ مفتی صاحب نے جواب اس کھانے والے کے بارے میں دیا۔ حالانکہ اس کے سوال کی ضرورت ہی کیا ہے۔ واضح ہے کہ وہ غلط کرتا ہے، اگر رمضان ہے تو اس کا ترک روزہ کا جرم ناقابل معافی ہے، جہاں تک روزے دار کا تعلق ہے تو اس کے متعلق حدیث میں ثواب کا ذکر ہے، چنانچہ ترمذی شریف میں ہے ام عمارۃ بنت کعب انصاریہ آنحضرت سے روایت کرتی ہیں۔ ((الصائم اذا اکلت عندہ المفاطیر صلت علیہ الملائکۃ))ترمذی مع تحفۃ الاحوذی ج۲ ص ۶۷ طبع اول یعنی روزے دار کے پاس جب بے روز کھائیں تو اس کے لیے فرشتے رحمت کی دعا کرتے ہیں، اسی طرح بریدہ کی روایت ابن ماجہ میں ۱۲۶ میں ہے آنحضرت نے فرمایا بلال کے لیے اے بلال آئیے ناشتہ کریں۔ بلال کا رزق جنت میں ہے، اے بلال کیا تجھے معلوم ہے کہ جب روزے دار کے پاس کھایا جائے تو اس کی ہڈیاں تسبیح پڑھتی ہیں۔ اور فرشتے اس کے لیے مغفت کی دعا کرتے ہیں۔ اصل الفاظ یہ ہیں۔

((قال النبی ﷺ لیلال الغداء یا بلال فقال انی صائم قال ﷺ نأکل ارزقنا وفضل رزق بلال فی الجنۃ اشعرت یا بلال ان الصائم تسبح عظامہ وتستغفر لہ الملائکۃ ما کل عندہ))

اس کا مطلب یہ ہے کہ روزے دار کے پاس کھانا غیر رمضان میں گناہ نہیں ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے کھایا صرف رمضان میں جرم ہے۔ بذا واللہ اعلم بالصواب (علی محمد سعیدی)

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم۔ اما بعد پس مخفی نہ رہے کہ رمضان کا روزہ رکھنے والی عورت کو حیض شروع ہو جانے کی صورت میں بقیہ یوم اکل و شرب وغیرہما سے پرہیز رکھنے کی ضرورت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کی مدد نہ کبری ص ۸۴ ج۱ میں ہے۔

 

((قلت فان کانت صائمۃ فحاضت فی رمضان اتدع الاکل والشرب فی قول مالک فی بقیۃ یومھا فقال لا قلت وھذا قول مالک قال نعم انتہیٰ))

بلکہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ حائض کے نہار میں طاہرہ ہو جانے کی صورت میں اس پر امساک کو ضروری نہیں قرار دیتے۔ مؤطا امام مالک ص ۹۰ میں ہے۔

((قال الشافعی وان قدم مسافعر فی بعض الیوم وقد کان فیہ مفطر او کانت امرأتہ حائضا افطھرت فجا معہا لم اربأساً وکذالک ان اکلا و شربا وذالک انھما غیر صائمین انتہیٰ))

اور رد المختار میں حائض پر امساک کے عدم وجوب کی نسبت اجماع نقل کیا ہے، ((واجمعوا علی انہ لا یجب (ای الامساک) علی الحائض والنفساء والمریض والمسافر انتھیٰ))

واللہ اعلم نقلہ احقر رحمت اللہ عفی عنہ زیروی (المفتی العاجر یوسف بھگیلوی عفی عنہ)

منقول از فتاویٰ مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ تلمیذ میاں صاحب مرحوم قلمی ص ۲۲

توضیح:

… جو مریض روزہ نہ رکھ سکتا ہو، وہ نہ رکھے، اور جو رکھ سکتا ہو، وہ رکھے، اور انجیکشن افطار کے بعد لگوائے روزہ کی حالت میں احتیاط افضل ہے۔ واللہ اعلم۔ (الراقم علی محمد سعیدی خانیوال)


 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 107

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ