سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(31) بیوی سے ملاپ اور بیٹی سے بوسہ کی صورت میں روزہ کا حکم

  • 4034
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-13
  • مشاہدات : 1204

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رمضان میں زید خشکی کے راستے جا رہا تھا۔ چار پانچ کوس تک ایسے پہاڑ پر ہو کر راستہ تھا جہاں بحز پتھر کے دوسری چیز گھاس مٹی نہ تھی۔ جس سے افطار کرے زید نے اپنی رائے سے بیو ی سے ملاپ کیا، اور بیٹی کا بوسہ لیا۔ سوال یہ ہے کہ تینوں کا روزہ ہوا یا نہیں؟ اور شرعاً تینوں پر کیا حکم صادر ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جماع اکل و شرب کی طرح مفطر ہے، اس لے کوئی حرج نہیں بیٹی کا بوسہ اگر شفقت پدری سے لیا تو خیر اگر بدنیتی سے لیا تو سخت مجرم ہے روزہ صحیح ہو گا۔ (۲ محرم ۱۳۳۶ھ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد ۱ ص ۴۱۳)


 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 06 ص 105

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ