سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(227) ٹھیکہ کےزمین سے عشر نکالنا واجب ہےیا نہیں ۔

  • 4000
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-12
  • مشاہدات : 465

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کی کچھ زمین اپنی مملوکہ ہے، لیکن وہ تھوری ہے، اس کی پیدوار سے نصاب عشر پورا نہیں ہوتا، نیز اس نے کچھ زمین اجارہ پر لی ہوئی ہے، اس کی پیداوار کے صرف اپنے حصے کو اگر پہلی زمین کی پیداوار سے ملا دیا جائے تو نصاب پورا ہو جاتا ہے، تو کیا ایسی صورت میں دونوں زمینوں کی پیداوار کو ملا کر عشر نکالنا ہو گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکا
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عشر نکالنا پڑے گا، کیونکہ قرآن مجید میں ہے: {وَأْاتُوْ حَقَّه یَوْمَ حَصَادِہِ} اس میں اجارہ اور غیر اجارہ کا فرق نہیں کیا، اس لیے جب نصاب پورا ہو جائے، خواہ دوسرے کا حصہ ملا کر پورا ہو پھر بھی عشر دینا پڑے گا، اگر دوسرا نہ دے تو اپنے حصے کا نکال دیا جائے۔
اتنا ہو سکتا ہے کہ اجارہ کے پیسے کاٹ کر باقی کاعشر دیا جائے، کیوں کہ یہ درحقیقت اس کی چیز نہیں، بلکہ غیر کی ہے، فقط عبد اللہ امر تسری روپڑی (۱۳۸۰۔ ۵۔۹ھ ، ۱۹۶۰۔۱۰۔۳۰ئ) لاہور) (ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث لاہور ۴ دسمبر ۱۹۶۴ء شمارہ ۲۰ جلد ۱۷)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 331

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ