سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(216) زکوٰۃ کے نکل جانے پر کتنے دن کے اندر تقسیم کرے۔

  • 3997
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-12
  • مشاہدات : 870

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زکوٰۃ کے نکل جانے پر یعنی مال سے علیحدہ حساب کر لینے پر کتنے دن کے اندر تقسیم کر دے ، زیاد ہ سے زیادہ کتنے دن رکھ سکتا ہے، اور ایک آدمی کو کم از کم کتنا دے، اور سیدوں کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے، اور دوسرے گاؤں میں بھیج سکتا ہے، یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 کتنے دنوں میں تقسیم کرے، اس کی بابت کوئی حدیث یاد نہیں، البتہ قیاس چاہتا ہے کہ آئندہ سال کے اندر اندر تقسیم کر دے، جتنا مناسب ایک آدمی کو دے، چاہے اس کے گزارے جتنا دے چاہے اتنا دے کہ آئندہ سوال کرنے سے مستغنی ہو جائے، سید بلکہ بنی ہاشم سب کو دینا منع ہے، جس کا حال معلوم نہ ہو، دریافت کرلے، اپنی گاؤں سے زیادہ ہوتو دوسرے میں بھی بھیج دے جائز ہے۔ (۲۹ ذیقعد ۳۹ھ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۷۹)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاوی علمائے حدیث

جلد 7 ص 324

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ