سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(221) صاحب مال اپنےمال کی زکوٰۃ خود تقسیم کرسکتا ہے یا نہیں۔

  • 3994
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-12
  • مشاہدات : 490

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مال کی زکوٰۃ اور عشر اور عید کا صدقہ ہر نکالنے والا اپنے طور پر غرباء ومساکین کو بانٹ دے یا اپنے سردار کے حوالہ کر دے یا خود سردار طلب کر کے اپنے طور پر تقسیم کرے، یا اس کا نائب طلب کر کے اس کے مصارف میں خرچ کرے، رسول اللہﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد شریف میں کیا دستور تھا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکا
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 زکوٰۃ اورعید کا صدقہ دینے والا اور زکاۃ نکالنے والا اپنے طور پر غرباء و مساکین وغیرہ کو نہ بانٹے بلکہ واجب ہے کہ اپنے سردار یا اس کے نائب کے حوالے کر دے یا سردار و نائب خود طلب کر کے اپنے طور پر تقسیم کرا دے، رسول اللہﷺ اور خلفاء راشدین کے عہد شریف میں یہ دستور تھا، مشکوٰۃ شریف کی کتاب الزکوٰۃ کی فضل اول میں ہے،ا بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب کے پاس جاتے ہو، پہلے ان کو ہدایت کرنا کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ خدا کے سوا کوئی پوجنے کے قابل نہیں، اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ اس کو مان لیں، تو ان کو یہ تعلیم کرنا کہ اللہ نے ان پر رات اور دن میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہا س کو بھی مان لیں تو ان کو یہ سکھلانا کہ اللہ پاک نے زکوٰۃ بھی فرض کی ہے، کہ ان کے مالداروں سے لی جائے اور ان کے فقیروں میں بانٹی جائے، آخر حدیث تک متفق علیہ۔
اور فتح الباری چھاپہ مصری کی تیسری جلد کے صفحہ ۲۸۴ میں ہے کہ یہ جو:
((قوله توخذ من اغنیاء سھم استدل به علیٰ ان الامام ھو الذی یتولی قبض الزکوٰة وصرفھا اما بنفسه واما بنائبه فمن امتنع عنھا اخذت فقراء وفی التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر صفحه ۱۷۸ ان سعد ابن ابی وقاص وابا ھریرة وابا سعید الخذری سئلوا عن الصرف الی الولاة الجائرین فامووا به رواہ سعید بن منصور عن عطاف ان خالد وابی معاویة وابن ابی شیبة عن بشر ابن المفضل ثلاثتھم عن سھیل ابن ابی صالح عن ابیه اجتمع نفقة عندی فیھا صدقتی یعنی بلغت نصاب الزکوٰة قالت سعد ابن ابی وقاص وابن عمر وابا ھریرة وابا سعید الخدری اقسمھا او اوفعھا الی السلطن فقالوا اوفعھا الی السلطن مان اختلف علی منھم احد وفی روایة قلت لھم وھذا السلطن یفعل ما ترون فاوفع الیه زکوٰة فقالو انعم رواہ البیھقی عنھم وعن غیرھما ایضاو روی ابن ابی شیبة من طریق قزعة قال قلت لابن عمران الی مالا فالیٰ من ادفع زکوٰة قال ادفعھا الیٰ ھولآئِ القوم یعنی الامراء قلت اِذاً یتخذون بھا ثیاباً وطیباً قال واذو عن نافع قال قال ابن عمر ارفعوا صدقة اموالکم الیٰ من ولاہ اللّٰہ امرکم فمن برلنفسه ومن اثم فعلیھا وفی الباب عندہ عن ابی بکر الصدیق وعن مغیرة ابن شعبة وعائشة واماما رواہ ابن ابی شیبة ایضا عن خیثمة قال سالت ابن عمر عن الزکوٰة قال ادفعھا الیھم ثم سالته بعد ذلک فقال لا تدفعھا الیھم قد اضاعوا الصلوٰة فھو ضیعف لانه عن روایة جابر الجعفی واصل ھذا الباب ما رواہ مسلم من حدیث جریر مرفوعاً ارضوا مصدقیکم قال مجیبا لمن قال له من الاعراب ان ناساً من المصدقین یاتوننا فیظموننا وعند ابی داؤد عن جابر ابن عتیک مرفوعا سیاتیکم ذکیب مبغضون فاذا اتوکم فرحبوا بھم وخلوا بینکم وبین ما یتبغون فان عدلوا فان نفسھم وان ظلموا فعلیھم ارضوھم فان تمام زکوٰة کم رضاھم وعند الطبرانی فی الاوسط عن سعد ابن ابی وقاص مرفوعاً ادفعوھا علیھم ما صلوا الخمس وعند احمد والحارث وابن وھب من حدیث انس قال اتی رجل من تمیم فقال یا رسول اللّٰہ اذا ادیت الزکوٰة اِلٰی رسولک فقد برئیت منھا الی اللّٰہ ورسوله قال نعم ولک اجرھا واثمھا علی من بدل لھا حدیث (نمبر۱) : ان ابن عمر کان یبعث صدقة الفطر الی الذی تجمع عندہ قبل الفطر بیومین۔ مالک فی الموطاء والشافعی بیومین او ثلاثة وروی البخاری من حدیث ابن عمر انه کان یعطیھا الذین یقبلونھا وکانوا یعطین قبل الفطر بیوم ویومین وفی المجلد الثالث من فتح الباری صفحه ۲۵۸ قوله کان ابن عمر یعطیھا الذین یقبلونھا ای الذین ینصبه الامام یقبضھا وبه جزم ابن بطال وقال الھیثمی معناہ من قال انا فقیر والاول اطھر یؤید ما دقع فی نسغة الصنعانی عقب الحدیث قال ابو عبد اللّٰہ ھو المصنف کانوا یعملون للجمع لاللفقرائ، وقد عقد فی روایة ابن خزیمة من طریق عبد الوارث عن ایوب قلت متیٰ کان ابن معر یعطی قال اذا تفد العامل قلت متی یقعد العامل قال قبل الفطر بیوم او یومین ومالک فی الموطا من نافع ان ابن عمر کان یبعث زکوٰة المال الی الذی تجمع عندہٗ قبل الفطر بیومین او ثلثة واخرج الشافعی عنه قال ھذا احسن وانا استحب یعنی تعجیلھا قبل الفطراہ ایضاً فی المجلد الثالث منه ۲۶۵ وفیه بعث العاة لاخذ الزکوٰة اھ۔ وفی التلخیص الجیر صفحه ۱۷۶ حیدث: ان رسول اللّٰہ ﷺ والخلفاء بعدہ کانوا یبعثون السعاة لا خذ الزکوٰة ھذا مشہور۔ ففی الصحیحین عن ابی ھریرة بعث عمر علی الصدقة وفیھما عن ابی حمید ان النبی ﷺ بعث ابا مسعود ساعیاً وفی مسند احمد انه بعث اباجھم ابن حُذیفة متصدقا وفیه انه بعث عقبة ابن عامر ساعیا۔ وفیه من حدیث قرة ابن وعموص بعض الضحاک ابن قیس ابن اسعد سایعاء فی المستدرک انه بعث قیس ابن سعد ساعیا وفیه من حدیث عبادة ابن الصامت انه ﷺ بعثه علی اھل الصدقات وبعث الولید ابن عقبة الی بنی المصطلق ساعیا وروی البیہقی عن الشافعی ان ابا بکر و عمر کان یبعثان علی الصدقة واخرجه الشافعی عن ابراہیم ابن سعد عن الزھری بھذا وزار لا یؤخرون خذھا فی کل عام۔ وقال فی القدیم وروی عن عمرانه اخرھا عام الرماد ثم بعث مصدقاً فاخذ عقالین عقالین۔ وفی الطبقات لا بن سعد ان النبی ﷺ بعث المصدقین الی العرب فی ھلال المحرم سنة تسع وھو فی المغازی للواقدی باسانیدہ مفسراً اہ۔ وقال الشوکانی فی سیل الجرار فقد کان الی رسول اللّٰہ ﷺ فلا شک ولا شبھة وکان یبعث السعاة لقبضھا ویامرھم علیھم الزکوٰة بدفعھا الیه وارضائھم واحتمال معوقھم وطاعتم ولم یسمع فی ایام النبوة ان رجلا او اھل قویة صرفوا زکوٰة م بغیر اذنٍ من رسول اللّٰہ ﷺ وھذا الامر لا یجحدہ من له معرفة بالسیرة النبوة والسنة المطھرة وقد انضم الی ذلک النوعُدُ علی التروک وَالْمُعَاقَبَة باخذ شرط المال وعدم الاذن لا رباب الاموال بان یکتمو بعض اموالھم من الذین یقبضون الصدقة منھم بعد ان ذکرو الدانھم یتعددون علیھم ولو کان الیھم صرف اموالھم لاذن لھم فی ذلک ایضاً جعل اللّٰہُ سبحاہٗ للعامل علی الزکوٰة جزء منھا فی الکتاب العزیز فالقول بان ولایتھا الی ربھا یسقط مصرفا من مصارفھا صرح به اللّٰہ سبحانه فی کتابه العزیز وایضا روی الشیخان عن ابی ھریرة قال بعث رسول اللّٰہ ﷺ عموم علی الصدقة فقیل منع ابن جمیل وخالد ابن الولید والعباس فقال رسول اللّٰہ ﷺ ما ینقم ابن جمیل الا انه کان فقیرا فاغناہ اللّٰہ ورسوله واما خلاد فانکم تظلمون خالد او قد احتبس ادراعه واعتدہ فی سبیل اللّٰہ وامّا العباس فھی علی ومثلھا معھا ثم قال یا عمرا ما شعرت ان عم الوجل صنوابیه۔ وھذا الحدیث ادضع الدلیل علی ان دلایة صرف الزکوٰة لیست الیٰ اربابھا بل علیھم ان یدفعوھا الی الامام او الی نائبه ولو کان الولایة الیھم لجاز لھم صرفھا الی مصارفھا یا نفسرھم ولم یتوقف فیولھا علیٰ من لم یدفعھا الیه لا حتمال انه تسمھا بنفسه فی مصار فعھاو ایجا قال الشوکانی فی سیل الجرار والحاصل انه لیس فی مقام یا یدل علی ان امر الزکوٰة الیٰ اربابھا فی زمن النبوة قسط وبه یندفع جمیع ماذکرہ الجلال فی شرحه ھھنا فانہ لم یات بشیء یعتد فی المعارضة واذا تقرر ھذا فقد ثبت ان ما کان امرہ الی رسول اللّٰہ ﷺ فھو الی الائمة من بعدہ۔ ومن ذلک ما فی الصحیحین وغیرھما من حدیث ابن مسعود وان رسول اللّٰہ ﷺ قال انھا ستکون بعدی اثرة وامور تنکونھا قالوا یا رسول اللّٰہ فما ترمرونا قال تؤدون الحق الذی علیکم وتسئلون اللّٰہ الذی علیکم۔ واخرج مسلم وغیرہ من حدیث وائل بن حجر رضی اللّٰہ عنه قال سمعت رسول اللّٰہ ﷺ ورجل یساله ارایت امراء یمنعونتا حقنا وسالونا حقھم فقال اسمعوا واطیعوا افافما علیھم ما حملوا او علیکم ما حملتم وفی الباب احادیث واذا عرفت ھٰذا عملت ان الدفع الی الامام واجب لجمیع انواع الصدقات الا ان یاذن لوب المال بالصرف جاذله ذلک انتھیٰ۔ واللّٰہ اعلم))
’’یہ جو آپ نے فرمایا کہ مالداروں سے لے جائے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سردار ہی زکوٰۃ کے لینے اور اس کے بانٹنے کا مالک ہے، خود سردار ہی تحصیل کرے، یا اپنے نائب کے ذریعے تحصیل کرا دے، تو جو شخص تحصیلدار کو نہ دے، اس سے جبراً لی جائے گی، الخ تلخیص الجیر کے صفحہ ۱۷۸ میں ہے کہ سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری سے ظالم سرداروں کو زکوۃ دینے کا فتویٰ پوچھا گیا تو ان لوگوں نے ان کے دینے کا حکم کیا، اس کو سعیدبن منصور نے عطاف بن خالد اور ابو معاویہ سے روایت کی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے بشر بن مفضل سے روایت کی ہے، اور تینوں سے ابو صالح نے روایت کی ہے، اور ابو صالح نے اپنے باپ سے کہ میرے پاس اتنا مال ہو گیا تھا جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، تو میں نے سعد بن ابی وقاص اور ابن عمر اور ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ کیا میں خود اس کو بانٹ دوں یا سردار کے حوالہ کروں، اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ سردار جو کچھ کرتے ہیں، وہ تو آپ دیکھتے ہیں ہیں، کیا ا س پر بھی زکوٰۃ ان کے حوالہ کر دوں، فرمایا: ہاں، اس کو بیہقی نے ان لوگوں سے اور نیز دیگر لوگوں سے روایت کی ہے اور ابن ابی شیبہ نے قزعہ کی سند سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں مالدار ہوں، پس اس کی زکوٰۃ کس کو دوں؟ کہا کہ ان لوگوں کے حوالہ کر یعنی سرداروں کے، میں نے کہا کہ وہ تو اس کو اپنے کپڑے اور خوشبو میں خرچ کر ڈالیں گے، کہا تمہاری بلا سے، اور ابن ابی شیبہ نے ناف کی سندسے روایت کی ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اپنے مالوں کی زکوٰۃ ان سرداروں کے حوالہ کرو جن کو اللہ تمہارے کام کا والی بنایا ہے، جو سردار نیک برتائو کرے گا، اپنا بھلا کرے گا، اور جو برا برتاؤ کرے گا، اس کا وبال اسی پر پڑے گا، اور اس باب میں ابو شیبہ رضی اللہ عنہ نے ابو بکر صدیق اور مغیرہ بن شعبہ اور عائشہ سے بھی روایت کی ہے، اور جو ابن ابی شیبہ نے خیثمہ سے روایت کی ہے کہ ابن عمر سے زکوٰۃ کے باب میں پوچھا تو کہا انہیں سرداروں کے حوالہ کر، پھر اس کے بعد ان سے پوچھا تو کہا، ان کو مت دے کیونکہ انہوں نے نماز کو ضائع کر ڈالا ہے، یہ روایت ضعیف ہے۔ اس میں راوی جابر جعفی بہت ضعیف ہے، اور اس امر کی دلیل کہ سردار کیسا ہی ہو، مگر زکوٰۃ اسی کو دینا چاہیے، وہ حدیث ہے جس کو مسلم نے جریر سے روایت کی ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا زکوٰۃ لینے والوں کو راضی رکھو، یہ اس وقت فرمایا تھا، جب بدؤں نے نالش کی تھی ، کہ زکوٰۃ لینے والے اگر ہم پر ظلم کرتے ہیں، اور ابو داؤد نے جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ قریب ہے کہ تمہارے پاس ظالم تحصیلدار آئیں گے، وہ جب آئیں تمہارے پاس تو تم خوش کیجیو،ا ور جو وہ چاہیں، ان کو لینے دیجیو اگر وہ انصاف کریں گے، تو اپنا بھلا کریں گے، اور بے انصافی کریں گے،تو اس کا وبال انہیں پر ہے، بہرحال ان کو راضی رکھو، کیونکہ تمہاری زکوٰۃ کا پورا ہونا ان کو راضی رکھنے میں ہے، اور طبرانی نے اوسط میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ اس زکوٰۃ کو سردار کے حوالہ کرو، جب تک کہ وہ پانچوں وقت کی نماز یں پڑھیں، اور احمد اور حارث ابن ابن وہب نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے آ کر عرض کی یا رسول اللہ! جب میں زکوٰۃ آپ کے تحصیلدار کے حوالہ کر دوں تو کیا میں اللہ اور رسول کے نزدیک ا س سے بری ہو جاؤں گا فرمایا، ہاں اور تیرے لیے اس کا ثواب ہے، اور اس کا گناہ اس پر ہے ، جو اس کو بدل ڈالے، ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقہ فطر دو دن پہلے اس کے پاس بھیج دیا کرتے تھیے، جس کے پاس فطرہ جمع کیا جاتا تھا، اس کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے موطا میں روایت کی ہے اور امام شافعی کی روایت میں دو دن یا تین دن سے اور بخاری کی روایت میں ابن عمررضی اللہ عنہ سے یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقہ فطر لینے والوں کو دے دیا کرتے تھے اور عید کے دو ایک دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے، فتح الباری کی تیسری جلد کے صفحہ ۲۱۱ میں ہے کہ راوی کا یہ قول کہ ابن عمر صدقہ فطر لینے والوں کو دے دیا کرتے تھے، اس کا یہ مطلب ہے کہ اس شخص کے حوالہ کر دیا کرتے تھے، جس کو امام نے فطرہ تحصیلنے کے لیے مقرر کیا تھا، اور ابن بطال نے بھی یہی معنی سمجھا ہے، اور ہثمی نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہے کہ جو اپنے کو فقیر کہتا ہو، اس کو دیتے اور پہلی بات (یعنی تحصیلدار کو دے دیا کرتا تھا) زیادہ صاف معنیٰ یہی ہے، اور وہ روایت اس معنی کی تائید کرتی ہے، جو صنعانی کے نسخہ میں اسی حدیث کے تحت ہے کہ امام ابو عبد اللہ بخاری نے کہا کہ وہ لوگ جمع کرنے کے لیے دے دیتے تھے، نہ کہ لوگ خود فقیروں کو بانٹ دیتے تھے، اور ابن خزیمہ کی ایک روایت میںہے کہ عبد الوارث کی سند سے ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے کہا کہ ان عمر کب دیتے تھے، کہا تحصیلدار جب تحصیلنے کے لیے بیٹھتا، میں نے کہا تحصیلدار کب بیٹھتا تھا۔ کہا عدی کے دن ایک دن قبل۔ اور امام مالک کی مؤطا میں نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دو تین دن پہلے ہی زکوٰۃ فطر اس کے پاس بھیج دیا کرتے تھے، جس کے پاس جمع ہوتا تھا، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی انہیں سے روایت کی ہے، اور کہا ہے کہ یہ بہتر ہے، اور ہم عید کے پہلے صدقہ فطر تحصیدار کے پاس بھیج دینے کو مستحب جانتے ہیں، اوریہی فتح الباری کی تیسری جلد کے صفحہ ۲۶۵ میں ہے، اور ا س حدیث سے امام تحصیلداروں کو زکوٰۃ تحصیلنے کے لیے بھیجنا ثابت ہے، تلخیص الجیر کے صفحہ ۱۷۶ میں ہے کہ بے شک رسول اللہﷺ اور آپ کے بعد اور آپ کے خلفاء تحصیلداروں کو زکوٰۃ تحصیلنے کے لے بھیجا کرتے تھے، یہ مشہور بات ہے، چنانچہ صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت محمدﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو صدقہ تحصیلنے کے لیے بھیجا، اور صحیحن میں ابی حمید رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ تحصیل کرنے کے لیے بھیجا، اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی سند میں ہے کہ آپ نے ابو جہم بن حذیفہ کو زکوٰۃ تحصہ کرنے کے لیے بھیجا، اور اسی میں ہے کہ آپ نے عقبہ بن عامر کو زکوٰۃ تحصیل کرنے کے لیے بھیجا، اور اسی میں قرہ بن عموس سے روایت ہے کہ آپ نے ضحاک بن قیس کو زکوٰۃ تحصیل کرنے کے لیے بھیجاج، اور اسی میں عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے ان کو زکوٰۃ دینے والے کے پاس بھیجا، اور ولید بن عقبہ کو بنی مصطلق کے پاس زکوٰۃ تحصیلنے کے لیے بھیجا، اور بیہقی نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما تحصیلدار کو زکوٰۃ تحصیلنے کے لیے بھیجا کرتے تھے، اس کو شافعی نے ابراہیم بن سعد سے انہوں نے زہری سے روایت کی ہے، اور اس قدر زیادہ کیا ہے کہ اس کی تحصیل میں کسی سال دیر نہیں کرتے تھے اور شافعی نے قدیم قول میں کہا ہے کہ عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عام الرماد میں زکوٰۃ کے لیے تحصیلدار بھیجنا اٹھا رکھا۔ پھر دوسرے سال تحصیلدار بھیج کر دونوں سال کی زکوٰۃ وصول کرائی۔ اور ابن سعد کے طبقات میں ہے، کہ نبیﷺ نے صدقہ تحصیلنے والے کو عرب کی طرف ہجرت کے نویں سال محرم کے شروع مہینے میں بھیجا اور یہ امام واقدی کے مغازی میں ان کی اسناد سے مفصل مذکور ہے، اور امام شوکانی نے سیل الجرار میں لکھا ہے کہ زکوٰۃ تحصیلنے کا حق رسول اللہﷺ کو بے شک و شبہ حاصل تھا، اور آپ تحصیلدار تحصیلنے کے لیے بھیجا کرتے تھے، اور جن پر زکوٰۃ فرض ہوتی ان کو حکم فرماتے تھے، کہ تحصیلداروں کو دو، اور ان کو راضی رکھو، اور ان کی سختی برداشت کرو، اور ان کی اطاعت کرو، اور زمانہ نبوت میں یہ بات کبھی نہیں سنی گئی کہ کسی شخص نے یا کسی بستی والوں نے بغیر رسول اللہﷺ کے زکوٰۃ خود بانڈ دی ہے۔ (؎۱) اور یہ ایسی بات ہے جس کا ایسا شخص انکار نہیں کر سکتا، جس کو سیرت نبویہ اور سنت مطرہ کی معرفت ہے،اور ایں ہمہ اس کے ترک پر آدھا مال چھین لینے کی دھمکی و سزا بھی ہے، مالک مال کو تحصیلداروں سے تھوڑا مال بھی چھپانے کی اجازت نہیں ہے، باوجودیکہ آپ سے لوگوں نے تحصیلداروں کی زیادتی بھی بیان کی، اور اگر لوگوں کو مال زکوٰۃ کے بانٹنے کا خود اختیار ہوتا تو آپ ان کو ضرور اس کی اجازت دیتے،ا ور نیز اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں زکوٰۃ میں سے اس کے تحصیلدار کا بھی ایک حصہ مقرر فرمایا ہے تو یہ کہنا کہ زکوٰۃ کے بانٹنے کا اختیار اس کے مالک کو ہے، زکوٰۃ کے مصرفوں میں سے ایک ایسی مصرف کو بے کار کر دینا ے، جس کی صراحت خود خدا نے قرآن مجید میں فرما دی ہے، اور نیز بخاری و مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ تحصیلنے کے لیے بھیجا تو پیغمبر صاحب سے عرض کیا گیا کہ ابن جمیل اور خالد بن ولید اور عباس زکوٰۃ نہیں دیتے، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابن جمیل تو زکوٰۃ دینا اس وجہ سے نامنظور کرتا ہے کہ وہ ایک غریب آدمی تھا، اللہ ورسول نے اس کو مالدار کر دیا ہے، اور خالد پر تم خواہ مخواہ زبردستی کرتے ہو، اس نے تو اپنی ساری زرہیں، اور کل اسباب فی سبی اللہ وقف کر دیا ہے، باقی عباس کی زکوٰۃ، تو وہ زکوٰۃ اور اسی قدر اور بھی میرے ذمہ ہے، پھر فرمایا اے عمر! تم کو خبر ہے، چچا باپ ہی کے مثل ہے، اور یہ حدیث اس بات کی صاف دلیل ہے کہ زکوٰۃ بانٹنے کا اختیار مالک مال کو نہیں ہے، بلکہ مالک مال پر واجب ہے کہ زکوٰۃ سردار کااس کے نائب کے حوالہ کر دے، اگر مالک نصاب کو اختیار ہوتا تو اس کو زکوٰۃ کے مصرفوں میں خود تقسیم کرنے کا ضرور اختیار ہوتا کہ جو اپنی زکوٰۃ سردار کے حوالہ نہ کر دے اس کو عتاب کرے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جس نے اپنی زکوٰۃ سردار یا ان کے نائب کو نہ دی، اس نے خود زکوٰۃ کے مصرفوں میں بانٹ دیا ہو، اور بھی امام شوکانی نے سیل الجرار میں فرمایا ہے، خلاصہ یہ کہ رسول اللہﷺ کے زمانہ میں یہ بات ہر گز دلیل سے ثابت نہیں ہے کہ مالک اپنی زکوٰۃ خود بانٹ دیا ہو، اور اس بیان سے وہ شبہ بھی دور ہو گیا، جو جلال الدین نے اسی بیان میں اس کی شرح میں لکھا ہے، کیوں کہ وہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے، جو معارضہ کے قابل ہو، اور یہ بھی سیل الجرار میں ہے کہ جب یہ ثابت ہوئی  تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جو دستور آپ کے زمانہ شریف میں تھا، آپ کے بعد بھی وہی دستور اماموں کے وقت میںبھی رہا ہے، اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم وغیرہما میں ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ میرے بعد خرابیاں اور ایسے ایسے کام ہوں گے، جن کو تم ناپسند کرو گے، لوگوں نے عرض کیایا رسول اللہ! اس وقت آپ ہم لوگوں سے کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا سرداروں کا جو حق تم پر ہے، اس کو ادا کیے جائو، اور اپنا حق سردار پر ہے، وہ خدا سے مانگو۔ دوسری دلیل یہ ہے جو مسلم وغیرہ نے وائل بن حجر سے روایت کی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ ایک شخص آپ سے پوچھتا تھا کہ جب سردار لوگ ہمارا حق ادا نہ کریں، اور اپنا حق ہم سے مانگیں تو کیا کرنا چاہیے، تو فرمایا ان کی اطاعت و تابعداری کرتے رہو، اس لیے کہ سرداروں پر جو تمہارا حق ہے، اس کی جواب دہی، ان کے ذمہ ہے، اور اس مسئلہ میں اور بھی حدیثیں ہیں، جب تم نے یہ مسئلہ جان لیا تو یہ بھی جان لیا کہ امام کو کل قسم کے صدقے حوالے کر دینے واجب ہیں، ہاں اگر سردار مالک مال کو اس کے بانٹنے کی اجازت دے، تو البتہ مالک مال کو اس کا خود بانٹ دینا درست ہے۔ ‘‘ انتہیٰ واللہ اعلم (الجمیب محمد عبد اللہ غازی فوری)
(الجواب صحیح الحقیر حسن بن محسن الانصاری الیمانی عفی عنہٗ) (الجواب صحیح محمد بشیر عفی عنہ) (الجواب صحیح سلامت اللہ عفی عنہ) (صحیفہ اہل حدیث دہلی بابت ماہ رمضان ۱۳۴۱ھ مطابق ماہ اپریل ۱۹۳۴ء جلد نمبر ۹) (فتاویٰ ستاریہ جلد نمبر ۱ ص ۳۵)
(؎۱) وفدتجیب کا واقعہ ص ۹۱ میں زاد المعاد کے حوالہ سے پڑھیں۔ (سعیدیؔ)
توضیح:… مندرجہ بالا جواب میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جب امام یا نائب امام نہ ہو جو شرعی احکام اور حدود اللہ قائم کر سکے تو اس وقت عوام صاحب نصاب اپنی اپنی زکوٰۃ کیسے ادا کریں، یا اس اصول پر عمل کریں، ((اذا فات الشرط فات المشروط)) مشکوٰۃ شریف میں مسلم شریف کے حوالہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
((قال رسول اللّٰہ ﷺ لا تقوم الساعة حتی یکثرل المال ویفض حتی یخرج الرجل زکوٰة هلا یجدا احداً یقبلھا منه)) (صفحہ ۴۷۹)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ خود بخود مصارف زکوٰۃ تک پہنچا دینے سے بھی ادا ہو جاتی ہے، ورنہ رسول اللہﷺ نہ فرماتے کہ صاحب نصاب زکوٰۃ کا مال لے کر مستحقین کو در بدر تلاش کرے گا، اس کو کوئی زکوٰۃ کا مال لینے والا نہ ملے گا، تلاش کی کیا ضرورت، سیدھا امام وقت کے پاس بیت المال میں جمع کرا دے۔ ص ۹۱ میں حافظ عبد اللہ صاحب روپڑی رحمۃ اللہ علیہ کے فتویٰ میں گزر چکا ہے کہ زاد المعاد جلد دوم سے ایک حدیث منقول ہے کہ رسول اللہﷺ کے پاس قوم تجیب کے قاصد آئے تو اپنے ساتھ مال صدقات بھی لیتے آئے، اس پر رسول اللہﷺ نے ان کی عزت کی اور فرمایا کہ ان صدقات کو اپنے فقیروں میں تقسیم کرو،ا نہوں نے گزارش کی یارسول اللہﷺ ہمارے فقیروں سے جو کچھ بچا ہے، وہی لائے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ادائیگی زکوٰۃ کے لیے امام کی شرط نہیں، اپنے ہاں کے فقیروں پر خود بھی تقسیم کر دے تو زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، اور امام کو اس کی اطلاع و ضرورت بھی نہیں، صدقہ فطر اور زکوٰۃ امام کے بغیر بھی ادا ہو سکتے ہیں، میرے ناقص علم میں جیسے صحت نماز کے لیے مسجد اور جماعت شرط نہیں، بلکہ افضل ہے، اسی طرح ادائیگی زکوٰۃ کے لیے بھی امام کی شرط نہیں، بلکہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی تہمت سے بچنے کے لیے امام ایک ذریعہ ہے۔ ((ھذا ما عندی واللّٰہ اعلم بالصواب وعندہٗ علم الکتاب)) (الراقم علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال ۷۱۔۲۔۲۸)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 312-323

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ