سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(203) اگر قرضہ آدمی کے مال سے زیادہ ہو تو اس پر زکوٰٰٰٰٰۃ فرض ہےیا نہیں۔

  • 3976
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-12
  • مشاہدات : 367

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید کے پاس زمین مال مویشی پیدائش، زمینداری زیورات وغیرہ ملکیت میں ہیں، اور اس پر قرضہ بھی ہے، اگر زمین (غیر متحرک ملکیت) علیحدہ کر دی جائے، تو قرضہ زیادہ ہو جاتا ہے، اگر زمین ساتھ ملا لی جائے، تو ملکیت زیادہ ہو جاتی ہے، کیا ایسی حالت میں زید پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کے پاس زمین مال مویشی پیدائش، زمینداری زیورات وغیرہ ملکیت میں ہیں، اور اس پر قرضہ بھی ہے، اگر زمین (غیر متحرک ملکیت) علیحدہ کر دی جائے، تو قرضہ زیادہ ہو جاتا ہے، اگر زمین ساتھ ملا لی جائے، تو ملکیت زیادہ ہو جاتی ہے، کیا ایسی حالت میں زید پر زکوٰۃ فرض ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکا
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بہتر یہی ہے کہ زمین کو الگ رکھ کر اس کی زکوٰۃ عشر یا نصف عشر ادا کی جائے، باقی کو قرضہ میں محسوب کر لو، جو مناسب سمجھو، ایسے امور کے متعلق حدیث شریف میں آیا ہے:  ((استفت قلبک)) ’’اپنے دل سے فتویٰ پوچھ لو۔ ‘‘ اللہ اعلم
(اہل حدیث ۱۹ جون ۱۹۴۵ئ) (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۴۷۰)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 304

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ