سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(198) مال زکوٰۃ میں سے صاحب زکوٰۃ تجارت کر سکتا ہے، یا نہیں ۔

  • 3971
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-12
  • مشاہدات : 360

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مال زکوٰۃ میں سے صاحب زکوٰۃ تجارت کر سکتا ہے، یا نہیں جبکہ وہ حصہ رسدی کے طور سے حصہ بھی لیتا ہے، اور زمانہ خیر القرون میں بیت المال سے تجارت کرنا ثابت ہے، یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیلکم السلام ورحمة اللہ وبرکا
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکوٰۃ میں سے صاحب زکوٰۃ تجارت کرنا اس کی دو صورتیں ہیں:
نمبر۱: ایک یہ کہ سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ نکال کر اس میں تجارت کرے، اور جب زکوٰۃ کا وقت آئے تو اصل زکوٰۃ ادا کرے، اور منافعہ میں تجارت کرتا رہے، اس میں اور تو کوئی خرابی معلوم نہیں ہوئی، صرف اتنا خدشہ ہے کہ زکوٰۃ کا منافعہ بھی زکوٰۃ کا حکم رکھتا ہے، اور اپنا صدقہ انسان کو کھانا منع ہے، یہاں تک کہ خرید کر بھی استعمال نہیں کر سکتا، تو تجارت میں حصہ رسدی لینا کیوں کر جائز ہو گا۔
نمبر۲: دوسری صورت یہ ہے کہ سال پورا ہونے کے بعد زکوٰۃ روک رکھے اور اس میں تجارت کرے، تواس میں گزشتہ خطرہ کے علاوہ زکوٰۃ کو روک رکھنے میں بھی خرابی ہے،  اگر ادا نہ کی، اور پہلے مر گیا تو مجرم ہو گا، ہاں صاحب زکوٰۃ کے علاوہ اور کوئی تجارت کرے، تو اس کا کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیت المال کے لیے بصرہ سے مال بھیجا تھا، جس میں ان کو تجارت کی اجازت دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ کے مشورہ دینے پر اس کو مضاربت یعنی منافعہ میں حصہ رسدی پر تجارت بنا لیا۔
(عبد اللہ امر تسری) (تنظیم اہل حدیث جلد نمبر ۱۳ شمارہ نمبر ۲۱ ، ۱۹۶۰ئ)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 7 ص 301۔302

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ