سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(175) اِتَّقُوْافِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ کا مطلب؟

  • 3957
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 3417

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حدیث میں آتا ہے:

«اِتَّقُوْافِرَاسَة الْمُؤْمِنِ فَاِنَّهُ یَنُُْرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ» ( الحدیث)

’’مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ۔‘‘

تو کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نور الٰہی کے ذریعہ سے علم مغیبات نہیں رکھتے ،حالانکہ آپ مجمع النورین تھے۔ ایک نور نبوت اور دوسرا نور الٰہی چنانچہ آپ نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو خاص بات جو انہوں نے اپنی بیوی ام الفضل سے کہی تھی بدر کے دن بتلائی جبکہ انہوں نے فدیہ یوم بدر دینے س یعذر کیا یہ واقعات بتلاتے ہیں کہ آپ علم مغیبات رکھے تھے اور آپ عالم الغیب تھے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فراست کے معنی ہیں کہ کسی کے رنگ ڈھنگ سے کسی بات کا پتہ لگا لینا سو یہ بہت محدو د علم ہے۔ پھر علم غیب کی قسم سے بھی نہیں ۔چنانچہ نمبر اول کے جواب میں علم غیب کی تعریف سے ظاہر ہے قرآن مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ارشاد ہے:

﴿وَلَتَعْرِفَنَّہُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ﴾ (پارہ ۲۶ ،رکوع ۷)

’’یعنی اے محمد! تو منافقوں کو طرز بات میں پہچان لے گا۔‘‘

دوسری آیت میں ہے:

﴿وَاِِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُہُمْ وَاِِنْ یَقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَة﴾ (المنافقون)

’’اے محمد! جب تو منافقوں کو دیکھتا ہے تو ان کے جتے تجھے تعجب میں ڈالتے ہیں اور اگر بات کرتے ہیں تو ان کی بات کو سنتا ہے ،گویا کہ وہ لکڑیاں ( دیوار سے) کھڑی کی گئی ہیں۔‘‘

تیسری آیت میں ہے:

﴿وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُہُمْ نَحْنُ نَعْلَمُہُمْ﴾ (پارہ ۱۱، رکوع۳)

’’یعنی اہل مدینہ سے کئی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اے محمد! ان کو نہیں جانتا ہم جانتے ہیں ۔‘‘

پہلی آیت میں پہچان کا ذکر ہے ،دوسری میں ذکر ہے کہ تو ان کے جتے دیکھ کر ان کو شریف سمجھ کر ان کی بات توجہ سے سنتا ہے حالانکہ وہ نکمے ہیں۔ جیسے دیوار سے کھڑی ہوئی لکڑیاں بے کار ہیں ۔تیسری آیت میں صاف ہے کہ کئی منافقوں کا تجھے علم نہیں ۔حالانکہ وہ مدینے میں رہتے ہیں ان سب آیتوں کو ملا کر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وحی کے سوا عام حالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی انسانوں کی طرح ہیں صرف کمی بیشی کا فرق ہے کسی کی فراست زیادہ تیز ہے ،عقلوں اور بنیائیوں وغیرہ میں فرق ہے مومن کی فراست نور ایمانی کی وجہ سے نسبتاً زیادہ تیز ہے اللہ کے نور سے نور ایمانی مراد ہے مگر اس کمی بیشی سے کوئی بشریت سے متجاوز نہیں ہو سکتا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لینا چاہئے اگر چہ آپ کی فراست نسبتاً تیز ہے مگر بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا چنانچہ اوپر آیات سے واضح ہے۔

خلاصہ یہ کہ ایک تو یہ علم محدود ہے ہر شے کا علم نہیں دوم علم غیب کی قسم سے نہیں بلکہ اسباب عادیہ سے حاصل ہے ، سوم اس میں غلطی بھی ہو جاتی ہے ۔ کیونکہ فراست ضروری نہیں کہ صائب ہو ۔ چنانچہ یہ مشاہدہ ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے بہت واقعات ہیں چنانچہ سورہ حشر کے شان نزول کا واقعہ اس قسم کا ہے جس میں ذکر ہے کہ یہود نے آپ کو ایک دیوار کے نیچے بٹھایا، اور اوپر سے پتھر پھینک کر آپ کا کام تمام کرنا چاہا۔ مگر جبرائیل نے آکر اطلاع کردی۔ اس موقعہ پر بجزوحی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست اور آپ کے ساتھیوں کی فراست کچھ نہ کر سکی، غرض اس قسم کے بہت واقعات ہیں پس اس کو علم غیب سے کوئی تعلق نہیں۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والسلام علی رسوله الکریم وعلی اله واصحابه اجمعین

( عبداللہ امرتسری ۱۶ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ فتاویٰ اہلحدیث روپڑی: جلد اول، صفحہ ۲۲۲)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاوی علمائے حدیث

جلد 09 ص 389

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ