سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(212) قرب ومعیت واحاطہ جو صفات باری تعالیٰ ہیں آیا یہ بالذات ہیں۔ یا بالعلم ہیں؟

  • 3899
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-11
  • مشاہدات : 433

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرب ومعیت واحاطہ وغیرہ جو صفات باری تعالیٰ ہیں آیا یہ بالذات ہیں۔ یا بالعلم ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرب ومعیت وغیرہ صفات میں بہت اختلاف ہے ۔بعض بالذات مراد لے کر تاویلات کرتے ہیں اور بعض بالعلم لیتے ہیں لیکن تحقیق مذہب جمہور کا یہ کہ جملہ صفات باری کا ایمان بغیر سوال کیف ، وبلاتشبیہ لانا چاہئے:

قال اللہ تعالیٰ:

(((لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ ) وقال اہل العلم قد ثبت الدوایات فی ہذا ونومن بہاولا یتوہم ولا یقال کیف وہکذا رولی عن مالک ابن انس وسفیان بن عیینۃ وعبداللہ بن المبارک انہم قالو فی ہذا الاحادیث امروہا بلا کیف وہکذا قول اہل العلم من اہل السنۃ والجماعۃ کذا فی الترمذی

’’اس کی کوئی مثل نہیں ہے۔ اہل علم نے کہا اس میں جو رویات وارد ہوئی ہیں ہم ان پر ایمان لاتے ہیں اس میں شک نہ کیا جائے کیفیت نہ پوچھی جائے مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، عبدابن مبارک کا یہی قول ہے کہ ان اوصاف کو بلا کیف تسلیم کیا جائے اہل علم اہل سنت کا یہ مذہب ہے۔‘‘

یہ تحقیق مطابق مذہب اہل سنت ہے گو علماء نے اس میں سے بہت طوالت کی ہے اور قسم قسم کے رسائل تالیف کیے ہیں۔ لیکن خلاصہ تحقیق محققین یہی ہے اور اسی پر اعتقاد رکھنا چاہئے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمائب حرہ العبد الضعیف راجی رحمۃ ربہ القوی ابو حریز عبدالعزیز المتانی غفرا للہ لہ ولوالد یہ واحسن الہیما والیۃ ۔ الجواب صحیح والد ای نیجح ۔( محمد نذیر حسین ۱۲۹۹ ھجری محمد عبدالسلام محمد ابو الحسن ۱۲۰۵۰) ابو سعید محمد حسین ۱۳۰۵ھ فتاویٰ نذیریہ ، جلد اول شمارہ نمبر ۴)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 287

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ