سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(90) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین ان مسائل میں

  • 3872
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-11
  • مشاہدات : 1155

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین ان مسائل میں:

(۱) قرآن شریف کلام الٰہی جو صفت قدیم اور قائم بالذات غیر مخلوق ہے یا نہیں اور جو شخص اس کو مخلوق کہے وہ کافر ہے یا نہیں؟

(۲) اور کلام الٰہٰی جو صفت قدیم اور قائم بالذات ہے، اور رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے۔ آیا یہ کلام مجازی ہے یا حقیقی؟

(۳) اور رسالہ استواء میں جو نواب صدیق حسن صاحب نے بنایا ہے، وہ حق ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: واضح ہو، کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے:

(وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرُّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَاتَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَہَنَّمَ وَ سَآءَ ت مَصِیْرًا)

’’جو شخص مخالفت کرے رسول کی، پیچھے اس کے کہ ظاہر ہو جائے واسطے اس کے ہدایت، اور تابعداری کرے سوائے راستہ مومنوں کے پھیر دیتے ہیں ہم اس کو جدھر پھرا، اور داخل کریں گے، ہم اس جو جہنم میں، اور وہ برا ٹھکانا ہے ۔‘‘

اور رسول خداﷺ فرماتے ہیں:

((مَنْ اَحْدَثَ فِیْ اَمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ))

’’یعنی جو شخص ہمارے دینی امر میں کوئی نئی بات نکالے جو پہلے اس میں نہیں تھی، سو وہ مردود ہے۔‘‘

لہٰذا اب ہم قرآن و حدیث و اجماع و قیاس سے اس بات کو ثابت کرتے ہیں، کہ جو شخص کہے کہ قرآن اللہ کا کلام حقیقی نہیں، بلکہ اللہ کا کلام نفسی ہے، یا کہے کہ قرآن مخلوق ہے یا کہے، کہ اللہ کا کلام کلمات اور حروف اور آواز سے پاک ہے، تو ایسے شخص کو علماء نے کافر بھی لکھا ہے۔

قرآن شریف:

(تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ )

’’یہ رسول فضیلت دی ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر، بعض ان میں سے ایسے ہیں کہ کلام کیا ان سے اللہ نے۔‘‘

اور فرمایا:

(وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِِنْ ہُوَ اِِلَّا وَحْیٌ یُّوحٰی)

’’یہ نبی(ﷺ) خود اپنی خواہش سے بنا کر نہیں بولتا، نہیں یہ مگر وحی جو بھیجی جاتی ہے اس کی طرف۔‘‘

اور فرمایا:

(اِِنْ ہٰذَآ اِِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ سَاُصْلِیْہِ سَقَرَ)

’’یعنی وہ کافر کہتا ہے کہ نہیں یہ قرآن مگر کہاوت اور کلام آدمی کا سو ضرور داخل کروں گا میں اس کو جہنم میں۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا)

’’اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کی۔‘‘ ۱۲

اور فرمایا:

(فَتَلَقَّیٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ)

’’سو آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے، پھر اس نے آدم کی توبہ قبول کر لی۔‘‘ ۱۲

اور فرمایا:

(قُلْ لَّوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِءْنَا بِمِثْلِہٖ مَدَدًا)

’’آپ کہہ دیں کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لیے سیاہی بن جائیں تو میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے پہلے سمندر ختم ہو جائیں، اگرچہ ان کی مدد کے لیے اتنے سمندر اور بھی آ جائیں۔‘‘ ۱۲

اور فرماتا ہے:

(بِرِسَالَتِیْ وَبِکَلَامِیْ)

’’میں نے تجھ کو اپنی پیغمبری اور اپنی کلام سے سرفراز کیا۔‘‘ ۱۲

اور فرمایا:

(وَ نَادَیْنٰہُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰہُ نَجِیًّا)

’’ہم نے اس کو طور کی دائیں جانب سے آواز دی، اور اسے مشورہ کے لیے اپنے قریب کر لیا۔‘‘ ۱۲

اور ایک کلام ہے، اور ایک صفت کلام، یعنی کلام کرنے کی قدرت، سو جیسے اللہ کی ذات پاک قدیم ہے، اس کی قدرت بھی قدیم ہے اور کلام حادث ہے، اللہ فرماتا ہے:

(مَا یَاْتِیْھِمْ مِنْ ذِکْرٍ مِنْ رِبِّھمْ مُحْدَثٍ)

’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جب بھی کوئی نیا ذکر آتا ہے۔‘‘ ۱۲

یعنی نیا اور جان لینا چاہیے کہ ہر مخلوق حادث ہے، اور ہر حادیث مخلوق نہیں، امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ کتاب الرد علی الجہمیہ میں (جو کہ مطبع فاروقی میں تفسیر جامع البیان کے آخر میں چھپی ہے) فرماتے ہیں:

((قولہ مَا یَاْتِیْھِمْ مِنْ ذِکْرٍ مِنْ رِبِّھمْ مُحْدَثٍ انما ھو محدث الی النبی ﷺ لان النبی ﷺ کان لا یعلم فعلمہ اللّٰہ تَعَالیٰ فلما علمہ اللّٰہ تعالیٰ کان ذلک محدثا الی النبی ﷺ))

’’اللہ تعالیٰ کا قول کہ نہیں آتا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نیا ذکر ، بات صرف یہ ہے کہ وہ نیا تو نبی ﷺ کی نسبت سے ہے، کیونکہ آپ اس کو اس سے پہلے نہیں جانتے تھے، سو اللہ تعالیٰ نے ان کو معلوم کر ایا، تو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرایا، تو وہ آنحضرت ﷺ کے لیے نیا ہوا۔‘‘

حدیث شریف: آنحضرتﷺ فرماتے ہیں:

((من قرأ حرفا من کتاب اللّٰہ فلہ بہ حسنۃ والحسنہ بعشر امثالھا لا اقول الم حرف الف حرف و لام حرف ومیم حرف))

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ترمذی اور دارمی میں روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے، کہ جو شخص کتاب اللہ سے ایک حرف پڑھے، اس کو ایک نیکی ہے اور نیکی کرنے کا ثواب دس گنا تک دیا جاتا ہے، میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ الف ایک حرف ہے، اور لام دوسرا حرف ہے، اور میم تیسرا حرف ہے۔‘‘

پس نَادَیْنَااور بِجَنَبًا میں تو آواز ثابت ہوئی اور اس حدیث سے حرف ثابت ہوئے، اور حضرت نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی جگہ اترے اور کہے:

((اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہ التَّامَاتِ مِنْ شِرّ مَا خَلَقَ))

’’میں ہر اس چیز کی برائی سے جو اللہ نے پیدا کی ہے، خدا کے پورے کلمات سے پناہ لیتا ہوں۔‘‘

تو وہاں سے کوچ کرنے تک امن میں رہے گا، اس حدیث سے کلمات ثابت ہوئے۔

قیاس:

جب اللہ تعالیٰ قدیم ہوا، تو اس کی صفات بھی قدیم ہوں گی، اور بالاتفاق کلام اللہ اللہ کی صفت ہے، اس کے ساتھ قائم ہے، تو کلام قدیم ٹھہرا، اور جب اللہ کے ساتھ قائم ہے، اور اللہ غیر مخلوق ہے تو اس کا کلام بھی غیر مخلوق ہے، اور قرآن اللہ کا کلام ہے، غیر کا کلام نہیں، اور قائم بھی اللہ کے ساتھ ہے، غیر کے ساتھ نہیں، کئی وجہ سے:

((احدھا انہ یلزم الجھمیۃ علی قولھم ان یکون کل کلام خلقہ اللّٰہ کلاما لہ اذ لا معنی لکون القرّن کلام اللّٰہ الا کونہ خلقہ وکل من فعل کلاما ولو فی غیرہ کان متکلما بہ عند ھم ولیس للکلام عند ھم مدلول یقوم بذات الرب تعالیٰ لو کان مدلول قائما یدل لکونہ خلق صوتا فی محل والدلیل یجب طردہ فیجب ان یکون کل صوت یخلقہ لہ کذلک وھم یجوزون ان یکون الصوت المخلق علی جمیع الصفات فلا یبقی فرق بین الصوت الذی ھو کلام اللّیہ علی قولھم والصوت الذی لیس ھو بکلام۔

الثانی ان الصفۃ اذ اقامت بمحل کالعلم والقدرۃ والکلام والحرکۃ حکمہ الی ذلک المحل ولا یعود حکمہ الی غیرہ

الثالث ان مشتق المصدر منہ اسم الفاعیل والصفۃ المشبھۃ بہ ونحو ذلک ولا یشتق ذلک لغیرہ وھذا کلہ بین ظاہر وھو ما یبین قول السلف والائمۃ ان من قال ان اللّٰہ خلق کلاما فی غیرہ لزمہ ان یکون حکم التکلم عائدا الی ذلک المحل لا الی اللّٰہ.

الرابع ان اللّٰہ وکد تکلیم موسی بالمصدر فقال تکلیما قال غیر واحد من العلماء التوکید بالمصدر ینفی المجاز لئلا یظن انہ ارسل الیہ رسولا او کتب الیہ کتا بابل کلمہ منہ الیہ

الخامس ان اللّٰہ فضل موسی بتکلیمہ أیاہ کی غیرہ ممن لم یکلمہ وقال:

(وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَاءِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا الآیۃ)

فکان تکلیم موسیٰ من وراء الحجاب وقال:

(قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلَامِیْ)

وقال:

(اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْ بَعْدِہٖ)

الی قولہ:

(وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا)

والوحی ما نزلہ اللّٰہ علی قلوب الانبیاء بلا واسطہ فلو کان تکلیمہ لموسی انما ھو صوت خلقہ فی الھواء لکان وحی الانبیاء افضل منہ لان اولئک عرفوا المعنی المقصود بلا واسطۃ وموسی انما عرفہ بواسطۃ))

اور حضرتﷺ اور صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ اربعہ وغیرہ سب مجتہدین متقدمین میں سے کسی شخص نے نہیں کیا، کہ اللہ کی کلام کلام نفی ہے، لہٰذا اللہ کے کلام کو کلام نفسی کہنا تکییف ہے، اور تکییف بالاتفاق باطل ہے۔

اجماع سلف: امام ابو حنیفہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں:

((لم یزل متکلما بکلامہ والکلام صفتہ فی الازل وخالقا بتخلیقہ والتخلیق صفۃ فی الازل وفاعلا بفعلہ والفعل صفتہ فی الازل والفاعل ھو اللّٰہ تعالیٰ والفعل صفتہ فی الاول والمفعول مخلوق وفعل اللّٰہ تعالیٰ غیر مخلوق وصفاتہ فی الازل غیر محدثۃ ولا مخلوقۃ فمن قال انہا مخلوقۃ او محدثۃ او وقف فیھا او شک فیھا فھو کافر باللّٰہ تعالیٰ والقرآن فی المصاحف مکتوب وفی القلوب وعلی الالس مقروؤ علی النبی ﷺ منزل ولفظنا بالقرآن مخلوق وکتابتنا و قرأتنا لہ مخلوق والقرآن غیر مخلوق))

پھر کہا:

((وکلام اللّٰہ تعالیٰ غیر مخلوق موسی وغیرہ من المخلوقین مخلوق والقرآن کلام اللّٰہ تعالیٰ فھو قدیم لا کلامھم وسمع موسی کلام اللّٰہ تعالیٰ کما قال اللّٰہ تعالیٰ وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا وَقَدْ کَانَ اللّٰہُ تَعَالیٰ مُتَکَلِّمًا وَلَمْ یَکُنْ کَلَّمَ مُوْسیٰ واما مالک بن انس رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ فنقل عنہ من غیر وجہ الرد علی من یقول القرآن مخلوق واستتابہ وھذا المشہور عنہ متفق علیہ بین اصحابہ واما احمد بن حنبل فکلامہ فی مثل ھٰذا مشہور متواتر وھو الذی اشتھر بمجنۃ ھؤلاء الجھمیۃ وکذلک قال الشافعی لحفص الفرد وکان من اصحاب ضرور بن عمرو ممن یقول القراٰن مخلوق فلما ناظر الشافعی وقال لہ القرآن مخلوق قال لہ الشافعی کفرت باللّٰہ العظیم ذکرہ ابن ابی حاتم فی الرد علی الجھمیۃ وروی عن علی بن ابی طالب من وجھین انھم قالو الہ یوم صفین حکمت رجلین فقال ما حکمت مخلوقا ما حکمت الا القراٰن وعن عکرمۃ قال کان ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ فی جنازۃ فلما وضع المیت فی لحدہ قام رجل وقال اللھم رب القراٰن اغفرلہ فوثب الیہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ قال مہ القراٰن وعن عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ من حلف بالقراٰن فعلیہ بکل اٰیۃ یمین وھٰذا ثابت عن ابن مسعود و عن سفیان بن عینیۃ قال سمعت عمرو بن دینار یقول ادرکت مشائخنا والناس منذ سبعین سنۃ یقولون القراٰن کلام اللّٰہ منہ بدأ والیہ یعودو فی لفظ یقولون القراٰن کلام اللّٰہ غیر مخلوق وقال حرب الکرمانی حدثنا اسحٰق بن ابراہیم یعنی ابن راھویہ عن سفیان بن عیینۃ عن عمرو بن دینار قال ادرکت الناس منذ سبعین سنۃ من اصحاب النبی ﷺ فمن دونھم یقولون اللّٰہ الخالق وما سواہ مخلوق الا القراٰن فانہ کلام اللّٰہ من ہخرج والیہ یعود وعن جعفر بن محمد الصادق و ھو مشہور عنہ انھم سألوہ عن القراٰن خالق ھو ام مخلوق فقال لیس بخالق ولا مخلوق ولکنہ کلام اللّٰہ وھکذا روی عن الحسن البصری وایوب سختیانی وسلیمان التیمی وخلق من التابعین وعن مالک بن انس واللیث بن سعد و سفیان الثوری وابن ابی حنیفۃ والشافعی واحمد بن حنبل واسحٰق بن راھویہ وامثال ھؤلاء من الائمۃ وکلام ھٰؤلاء، الائمۃ واتباعھم فی ذٰلک کثیر مشہور بل اشتھر عن ائمۃ السلف تکفیر من قال القراٰن مخلوق وانہ یستتاب فان تاب والاقتل کما ذکر واذلک عن مالک بن انس وغیرہ ونقل ذلک ابو جعفر الطحاوی الحنفی فی الاعتقاد عن ابی حنیفۃ النعمان بن ثابت الکوفی وابی یوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری وابی عبد اللّٰہ محمد بن حسن الشیبانی فی رحمھم اللّٰہ تعالیٰ))

سو یہ بات صحابہ اور تابعین اور جمیع ائمہ سے ثابت ہو چکی ہے، کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور کلام اس کی صفت قدیمہ ہے اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے، اور غیر مخلوق ہے اور جو شخص اس کو مخلوق کہے، سو وہ کافر ہے، اور جس شخص کو زیادہ تحقیق منظور ہو وہ کتاب العلو امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور خلق افعال العباد وامام بخاری کا اور متن فقہ اکبر کا اور کتاب الرد علی الجہمیۃ للامام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھ لے۔ واللہ اعلم بالصواب، اور اللہ کلام لفظی کے ساتھ کلام کرتا ہے، کلام نفسی کا سلف صالحین میں کہیں پتہ نہیں۔

(۲) اور جو حضرت ﷺ پر اللہ کا کلام اترا ہے،حقیقی ہے، مجازی نہیں، اس واسطے کہ حقیقت اصل ہے، اور مجاز فرع، جب تک کوئی قرینہ تو یہ صارفہ نہ پایا جائے حقیقت نہیں چھوڑی جا سکتی۔

(۳) اور نواب صاحب مرحوم کو جو رسالہ استواء کے بارے میں موسوم باحتواء ہے حق ہے، اور سب موافق سلف صالحین کے ہے۔واللّٰہ اعلم۔ حررہ ابو اسمٰعیل یوسف حسین عفی عنہ۔ ھٰذا ھو الصواب واللّٰہ دومن اجاب محمد اوسط عفی عنہ بھاری رحمہ اللّٰہ فقد اجاب جوابا شافیا لا شک فی صحتہ وکونہ صوابا ابو تراب عبد التواب الملتانی غفرلہ۔(سید محمد نذیر حسین)

جہمیہ کہتے ہیں کہ ہر وہ کلام جس کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، وہ حقیقت میں اسی کا کلام ہے، اور قرآن کے کلام اللہ ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کیا ہوا ہے، اور جو بھی کلام کا قاعل ہے، اگرچہ غیر میں ہی کیوں نہ ہو، وہ ان کے نزدیک اس کا متکلم ہے، اور ان کے نزدیک کلام کا کوئی مدلول ایسا نہیں ہے جو رب تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم ہو اور اگر کوئی مدلول ہے بھی تو وہ صرف ہی دلالت کرے گا کہ اس نے آواز کو کسی جگہ میں پیدا کیا، اور دلیل کا بیان کرنا ضروری ہے، تو جہمیہ پر الزام قائم ہو گا، کہ اگر ہر مخلوق آواز اسی کی ہے اور آواز اپنی ہر صفت کے لحاظ سے مخلوق ہے، تو پھر اس آواز میں جو اللہ کا کلام ہے، اور اس آواز میں جو اس کا کلام نہیں ہے کیا فرق ہو گا؟

دوسرا الزام ان پر یہ ہے کہ جب کوئی صفت کسی محل کے ساتھ قائم ہو جیسے علم یا قدرت اور کلام وغیرہ تو اس کا حکم اسی محل کی طرف منسوب ہو گا، نہ کہ غیر کی طرف۔

تیسرا یہ کہ مصدر سے جب اسم فاعل یا صفت شبہ مشتق ہو، ت ووہ اسی فاعیل کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ غیر کے لیے اور یہ سب باتیں بالکل واضح ہیں اور یہ سلف اور ائمہ کے اقوال کی تائید کرتی ہیں، جو کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کلام کو غیر میں پیدا کریں، تو وہ کلام اسی کی طرف منسوب ہو گی، نہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف۔

چوتھا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام کرنے کو مصدر سے مؤکد کیا ہے، اور علماء کا مذہب ہے کہ جب مصدر تاکید ہو تو مجاز کی نفی ہوتی ہے، تاکہ کوئی یہ خیال نہ کرے، کہ شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف کوئی فرشتہ بھیجا ہو، یا آپ کو کوئی کتاب لکھ کر دے دی ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بول کر کلام کیا۔

پانچویں بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو فضیلت بخشی ہے اور فرمایا ہے کہ کسی آدمی کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہ یا پردے کے پیچھے اور یا پھر کوئی فرشتہ بھیج دے الآیۃ اور موسیٰ علیہ السلام سے یہ گفتگو پردے کے پیچھے ہوئی اور فرمایا: اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں پر اپنی رسالت اور کلام سے فضیلت عطا فرمائی اور فرمایا: ہم نے تیری طرف اسی طرح سے وحی کی ہے، جیسے کہ نوح کی طرف وحی کی تھی اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف یہاں تک کہ فرمایا: اللہ نے موسیٰ سے بول کر کلام کیا، وحی تو وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نبیوں کے دلوں پر بلاواسطہ القا کرتے ہیں، اگر موسی علیہ السلام سے کلام کرنے کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو ہوا میں پیدا کیا ہو تو دوسرے نبیوں سے آپ کی وحی بہتر ہو گی، کیونکہ انہوں نے معنی مقصود کو بلاواسطہ معلوم کیا ہے، اور موسیٰ علیہ السلام نے ہوا کے واسطہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے کلام کے ساتھ متکلم رہا ہے، اور کلام اس کی ازلی صفت ہے، اور وہ اپنی تخلیق کے ساتھ خالق ہے اور تخلیق اس کی ازلی صفت ہے اور اپنے فعل کے ساتھ فاعل ہے اور فعل اس کی ازلی صفت ہے اور فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اور فعل اس کی ازلی صفت ہے، اور مفعول مخلوق ہے، اور اللہ کا فعل غیر مخلوق ہے اور اس کی تمام صفتیں ازلی ہیں، حادث اور مخلوق نہیں ہیں، جو شخص صفات کو مخلوق یا حادث کہے یا اس کے متعلق اسے شک ہو وہ اللہ کا منکر ہے اور قرآن کتاب کی صورت میں لکھا گیا ہے، دلوں میں محفوظ ہے، زبانوں سے پڑھا جاتا ہے آنحضرتﷺ پر اتارا گیا ہے قرآن پڑھتے وقت ہمارے اپنے الفاظ مخلوق ہیں اور ہماری کتابت اور تلاوت مخلوق ہے، اور قرآن غیر مخلوق ہے۔

اللہ کا کلام غیر مخلوق ہے، اور موسیٰ علیہ السلام اور دوسری مخلوقات کی کلام مخلوق ہے ، اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور قدیمی ہے نہ کہ لوگوں کا کلام اور موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کا کلام سنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ نے موسیٰ سے بول کر کلام کیا، اور اللہ تعالیٰ ہی متکلم تھے اور موسیٰ علیہ السلام متکلم نہیں تھے۔

اور امام مالک بن انس رحمۃ اللہ تعالیٰ کئی طرق سے ان لوگوں کی تردید منقول ہے، جو قرآن کو مخلوق کہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل سے توبہ کرانی چاہیے، امام مالک کا مشہور مذہب ہے، اسی پر آپ کے پیروؤں کا اتفاق ہے۔

اور امام احمد بن حنبل سو ان کا کلام قرآن مجید کے متعلق مشہور اور متواتر ہے، آپ کی تکالیف جو آپ نے قرآن کے بارے میں جہمیہ سے اٹھائیں مشہور ہیں، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے حفص بن عمرو کو جو کہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائلین میں سے تھا، کہا تھا جب کہ اس نے امام شافعی سے مناظرہ کرتے ہوئے کہا، کہ قرآن مخلوق ہے، تو نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا، اس کو ابن ابی حاتم نے الرد علی الجہمیہ میں روایت کیا ہے اور علی بن ابی طالب سے دو سندوں سے مروی ہے کہ خوارج نے جب ان کو صفین کے دن دو آدمیوں کو حکم تسلیم کرنے پر الزام دیا، تو آپ نے فرمایا: میں نے کسی مخلوق کو حکم تسلیم نہیں کیا، میں نے قرآن کو حکم تسلیم کیا ہے۔

عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایک جنازہ میں تھے جب میت لحد میں رکھی گئی تو ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا: اسے قرآن کے رب اس کو بخش دے تو عبد اللہ بن عباس اس پر جھپٹے اور فرمایا: ارے ٹھہر، قرآن اسی میں سے ہے،

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جو قرآن کی قسم اٹھائے اس پر ہر آیت کے بدلے ایک قسم ہے اور سفیان بن عیینہ نے کہا میں نے عمرو بن دنیار سے سنا آپ کہتے تھے میں ستر سال سے اپنے مشائخ اور دوسرے لوگوں سے سنتا آرہا ہوں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اسی سے شروع ہوا اسی کی طرف لوٹے گا اور ایک روایت کے یہ لفظ ہیں قرآن اللہ کا کلام ہے اور غیر مخلوق ہے حرب کرمانی نے سنداً عمرو بن دینار سے روایت کیا کہ میں ستر سال سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور بعد کے لوگوں سے سنتا آرہا ہوں کہ اللہ خالق ہے اور قرآں کے سوا باقی ہر شئی مخلوق ہے وہ اللہ کا کلام ہے اسی سے نکلا اور اسی کی طرف لوٹے کا امام جعفر صادق سے مشہور ہے کہ لوگوں نے ان سے قرآن کے متعلق سوال کیا کہ وہ خالق ہے یا مخلوق تو آپ نے فرمایا: نہ وہ خالق ہے نہ مخلوق بلکہ وہ اللہ کا کلام ہے اور حسن بصری ، ایوب سختیانی سلیمان تیمی اور تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے اور احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ اور ان جیسے دیگر ائمہ اور ان کے متبعین کے اقوال قرآن کے متعلق مشہور ہیں بلکہ ائمہ سلف سے تو ان لوگوں پر کفر کا فتویٰ اور ان سے توبہ کرانے کے اقوال بھی شہرت تک پہنچ چکے ہیں اگر وہ توبہ کرے تو فبہا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے یہ فتویٰ امام مالک بن انس اور طحاوی کے قول کے مطابق امام ابو حنیفہ، ابو یوسف اور امام حسن بن شیبانی رحمہم اللہ سے منقول ہے۔‘‘

سو یہ بات صحابہ اور تابعین اور جمیع ائمہ مجتہدین سے ثابت ہو چکی ہے کہ قرآن شریف اللہ کا کلام ہے اور کلام اس کی صفت قدیمہ ہے اور اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور غیر مخلوق ہے اور جو شخص اس کو مخلوق کہے سو وہ کاف رہے اور جس شخص کو زیادہ تحقیق منظور ہو وہ کتاب العلوا مام ذہبی رحمہ اللہ اور خلق افعال العباد امام بخاری کا اور تین فقہ اکبر کا اور کتاب الرد علی الجہمیۃ للامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو دیکھ لے واللہ اعلم بالصواب اور اللہ کلام لفظی کے ساتھ کلام کرتا ہے کلام نفسی کا سلف صالحین میں کہیں پتہ نہیں۔

(۲)۔ اور جو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کا کلام اترا ہے حقیقی ہے ،مجازی نہیں اس واسطے کہ حقیقت نہیں چھوڑی جا سکتی۔

(۳)۔ اور نواب صاحب مرحوم کا جو رسالہ استواء کے بارے میں موسوم باحتوا ہے حق ہے اور سب موافق سلف صالحین کے ہے۔ واللہ اعلم! حررہ ابو اسماعیل یوسف حسین عفی عنہ، ہذا اہو االصواب وللہ درمن اجاب محمد اوسط عفی عنہ، بہاری رحم اللہ المجیب فقد اجاب جوابا شافیالاشک فی صحتہ وکونہ صوابا ابو تراب عبدالتواب الملتانی غفرلہ۔( سید محمد نذیر حسین)

سید محمد عبدالسلام غفرلہ، سید محمد ابو الحسن، فتاویٰ نذیریہ جلد اول: ص ۷۶،۷۷)


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 09 ص 202-211

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ