سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(142) محرم رشتہ داروں کے سامنے عورت کا شرعی لباس

  • 38
  • تاریخ اشاعت : 2011-09-20
  • مشاہدات : 951

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 محرم رشتہ داروں کے سامنے عورتوں کا شرعی لباس کیسا ہونا چاہئے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ارشاد باری تعالی ہے:

’’  اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں ‘‘

ابن كثير رحمہ اللہ تعالى اس كى تفسير ميں كہتے ہيں:

" يعنى دوپٹے اور چادر اس قسم كى بنائے كہ اسے اپنے سينہ پر لٹكا كر ركھے، تا كہ اس كے نيچے سينہ اور پسلياں وغيرہ كو چھپا كر اہل جاہليت كى عورتوں كى مخالفت كريں، كيونكہ جاہليت كى عورتيں ايسا نہيں كرتى تھيں، بلكہ ان كى عورتيں مردوں ميں اپنا سينہ كھول كر چلتى تھيں، اور كچھ نہ چھپاتيى، اور بعض اوقات تو اپنى گردن اور بال اور كانوں كى بالياں تك ننگى كر كے ركھتى تھيں، تو اللہ سبحانہ و تعالى نے مومن عورتوں كو حكم ديا كہ وہ اپنى حالتوں اور ہيئت چھپا كر ركھيں.

جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے حكم ديتے ہوئے فرمايا:

’’  اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ‘‘

اس آيت كريمہ ميں اللہ سبحانہ و تعالى نے فرمايا ہے:

’’  اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں ‘‘

الخمر خمار كى جمع ہے، اور ڈھانپنے والے يعنى سر ڈھانپنے والى چادر كو كہتے ہيں جسے لوگ اوڑھنى يا دوپٹہ كا نام ديتے ہيں.

سعيد بن جبير رحمہ اللہ كہتے ہيں:

و ليضربن كا معنى وليشددن ہے، يعنى وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر باندھ كر ركھيں، يعنى سينہ اور حلقوم ميں سے كچھ نظر نہيں آنا چاہيے.

اور امام بخارى رحمہ اللہ تعالى بيان كرتے ہيں كہ ہميں ابو يونس نے ابن شہاب سے بيان كيا انہوں نے عروۃ سے اور وہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كرتے ہيں كہ:

" اللہ تعالى مہاجر عورتو پر رحم فرمائے جب اللہ تعالى نے يہ آيت

’’  اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈالے رہيں  ‘‘

نازل ہوئى تو انہوں نے اپنى چادريں پھاڑ كر اوڑھ ليں "

اور امام بخارى ايك دوسرى روايت كچھ اس طرح بيان كرتے ہيں:

ہميں ابو نعيم نے حديث بيان كى وہ كہتے ہيں انہيں ابراہيم بن نافع نے حسن بن مسلم سے بيان كيا كہ صفيہ بنت شيبہ بيان كرتى ہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہا كرتى تھيں:

" جب يہ آيت نازل ہوئى :

’’  اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈال كر ركھيں ‘‘

تو ان عورتوں نے اپنى نيچے باندھنے والى چادروں كو كناروں سے دو حصوں ميں پھاڑ ليا اور اس سے اپنے سروں اور چہروں كو ڈھانپ ليا " (صحيح بخارى حديث نمبر: 4759 )

اور ابن ابى حاتم بيان كرتے ہيں كہ مجھے ميرے باپ نے حديث بيان كى وہ كہتے ہيں مجھے احمد بن عبد اللہ بن يونس نے حديث سنائى وہ كہتے ہيں مجھے زنجى بن خالد نے حديث بيان كى، وہ كہتے ہيں ہميں عبد اللہ بن عثمان بن خثيم نے صفيہ بنت شيبہ سے حديث بيان كى وہ كہتى ہيں كہ ہم عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے پاس بيٹھى ہوئى تھيں تو ہم نے قريش كى عورتوں اور انكى فضيلت كا ذكر كيا تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہنے لگيں:

" بلا شبہ قريش كى عورتوں كا بہت مقام و مرتبہ ہے، ليكن اللہ كى قسم ميں نے انہيں انصار كى عورتوں سے افضل نہيں ديكھا: وہ اللہ كى كتاب كى بہت زيادہ تصديق كرنے والى تھيں، اور اللہ كى طرف سے نازل كردہ پر بہت زيادہ ايمان ركھنے والى تھيں، سورۃ النور نازل ہوئى اور اس ميں يہ آيت تھى:

’’  اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈال كر ركھيں ‘‘

تو انصارى مرد واپس آكر اپنى عورتوں كے سامنے اللہ تعالى كى جانب سے نازل كردہ تلاوت كرتا، اور مرد اپنى بيوى اور اپنى بيٹى اور اپنى بہن، اور اپنے ہر رشتہ دار كے سامنے نازل شدہ يہ آيت تلاوت كر رہے تھے، چنانچہ انصارى عورتوں ميں سے كوئى بھى عورت نہ بچى الا يہ كہ اس نے اللہ تعالى كى كتاب ميں نازل كردہ حكم كى تصديق اور اس پر ايمان ركھتے ہوئے اپنى چادر كو اپنے اوپر اس طرح لپيٹ كر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پيچھے نماز ادا كرنے لگيں گويا كہ ان كے سروں پر كوے ہيں "

اور اسے ابو داود رحمہ اللہ نے بھى حديث نمبر ( 4100 ) ميں دوسرے طريق سے صفيہ بنت شيبہ سے بھى بيان كيا ہے.

اور ابن جرير ( 18120 ) ميں كہتے ہيں:

حدثنا يونس اخبرنا ابن وھب ان قرقرۃ بن عبد الرحمن اخبرہ عن ابن شھاب عن عروۃ عن عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا قالت:

 " اللہ تعالى پہلى مہاجر عورتو پر رحم فرمائے جب اللہ تعالى نے يہ آيت

’’  اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈالے رہيں  ‘‘

نازل ہوئى تو انہوں نے اپنى چادريں پھاڑ كر اوڑھ ليں "

اور ابو داود نے اسے ابن وھب سے حديث نمبر ( 4102 ) ميں بيان كيا ہے. (ديكھيں: تفسير ابن كثير ( 3 / 283 )

اور آپ نے جو كچھ كتابوں سے يہ نقل كيا ہے كہ: عورت اپنے بھائيوں اور اپنے والد سے بھى پردہ كرے، تو يہ بات حد سے بڑھى ہوئى اور غلط ہے صحيح نہيں.

حالانكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان تو يہ ہے:

’’  اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ  ‘‘ النور ( 31 )

ھذا   ما عندی  واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ