سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

امام ابوحنیفہ کا نماز کے مسائل میں اختلاف

  • 375
  • تاریخ اشاعت : 2011-12-07
  • مشاہدات : 382

سوال

سوال: کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کبھی قراۃ خلف امام،رفع الیدین، ٨ رکعت تراویح ،سینے پر ہاتھ باندھنا، وغیرہ جو آج ہمارے  یہاں اختلاف مانے جاتے ہے، کیا کبھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان سب باتوں میں اختلاف کیا ہے یا نہیں؟ آج ہم اہلے حدیث نماز کے جن مسائل پ

جواب: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں فقہاء کے دو مکاتب فکر موجود تھے :
ایک اہل الرائے کہ جن کے نمائندہ خود امام صاحب تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اس منہج و مکتب فکر کو ان کے شاگردوں میں سے امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہما اللہ نے آگے بڑھایا اور اسی بنیاد پر حنفی مکتب فکر کی داغ بیل رکھی گئی ہے۔
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانہ میں دوسرا مکتبہ فکر اہل الحدیث کا تھا کہ جن کے نمائندہ امام مالک رحمہ اللہ تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے بعد اہل الحدیث کے کے مکتب فکر کو ان کے شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگرد امام احمد رحمہ اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگردوں مثلا امام ابو داؤد رحمہ اللہ اور دیگر محدثین نے آگے بڑھایا۔ اہل الحدیث کی اس تحریک کا ایک ثمر برصغیر پاک و ہند کے اہل الحدیث بھی ہیں۔

دونوں مکاتب فکر کے اجتہادی منہج اور اسالیب استدلال میں بنیادی فرق موجود ہیں جس کے سبب سے دونوں کے نتاءج فکر میں بھی کافی کچھ فقہی اختلافات موجود ہیں جسے ہم نے اپنے ایک مفصل مضمون میں قلمبند کیا ہے اور اسے ان شاء اللہ اس فورم پر بھی شیئر کر دیا جائے گا۔ اور اس بات کے ثبوت میں ہمارے خیال میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ فقہ حنفی کے نمایاں اور امتیازی مسائل کی اکثریت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ یا ان کے شاگردوں امام محمد اور قاضی ابو یوسف رحمہا اللہ سے ثابت ہے جیسا کہ ان کی اصول کی کتب میں درج ہے۔ فقہ حنفی کی اصول کی کتب ۶ ہیں جنہیں اصول ستہ بھی کہتے ہیں اور ان کتب کے مصنف امام محمد رحمہ اللہ ہیں جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ کے شاگرد بھی ہے۔ ان چھ کتب کے متن کی شرح امام سرخسی رحمہ اللہ نے اصول سرخسی کے نام سے کی ہے جو متداول اور معروف کتاب ہے۔ پس امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فقہی موقفات تک رہنمائی ان کے پہلے درجہ کے شاگردوں کی براہ راست کتب کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ