سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(100) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیاں اس مسئلہ میں کہ سالگرہ کرنا..الخ

  • 3657
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 580

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیاں اس مسئلہ میں کہ سالگرہ کرنا اس ہیت سے  کہ اس میں گرہ وغیرہ نہ ڈالی جاوے۔جیسا کہ دستور ہے بلکہ فقط لڑکے کو نہلا کر نئے کپڑے پہنادیں اور کچھ شیئر فی مثل بتاشے وغیرہ بلادینے فاتحہ وغیرہ کے تقسیم کردیں جائز ہے کہ نہیں اگر جائز ہے تو کس دلیل سے اور اگر ناجائز ہے تو کس دلیل سے دلیل قرآن و حدیث سے ہو۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری شریعت محمدیہ میں سالگرہ کرنا پایا نہیں جاتا نہ ہمارے رسول کریمﷺ کے زمانے میں کسی کی سالگرہ کی گئی اور نہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے زمانہ میں کئ گئی لہذا ممنوع ہے ۔فرعون مردود وسال گرہ کیا کرتا تھا فرعونی رسم ہے۔

(کتبہ محمد  عبد الرحمٰن پنجابی سید نزیر حسین فتاوی نزیریہ ص 199)

سوال ۔کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ جو کھانا اولیاء اللہ کی قبروں پر لے جا کر خواہ ایک یا دس یا بیس مساکین کو کھلادے۔اور مساکین وہاں پر موجودنہ ہوں یعنی وہاں نہیں رہتے ہیں۔محض اس غرض سے دوسری جگہ سے مساکین طلب کر کے قبور مذکورہ پر کھانا کھلانا کہ زیادہ ثواب کا موجب ہوگا درست ہے یا نہیں۔اگر منع ہے تو کہاں تک منع ہے۔

 


فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 344

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ