سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(96) مذہب اہل حدیث

  • 3653
  • تاریخ اشاعت : 2013-06-06
  • مشاہدات : 2471

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 

مذہب اہل حدیث

ٹھیٹھ اسلام اور مذہب اہل حدیث ہر دو میں فرق ہے یا دونوں لفظ ایک ہی مطلب ادا کرتے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذہب اہل حدیث

جواب۔قرآن میں ہے۔۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے۔جو تم سے ایمان لائے اور اچھے عمل کرے کہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا۔جیسے پہلے لوگوں کو خلیفے بنایا اور ان کےدین کو جگہ دے گا جو ان کے لئے پسند کیا۔

مشکواۃ باب الاعتصام فصل اول میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے۔

قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم  ما من نبي بعثه الله في امته قبلي الا كمان لهفي امته حواريون واصحاب يا خذون بسنة ويقتدون بامره ثم انها تخلف من بعدهم خلوف يقولون ما لا يفعلون ما لا يومرون فمن جاهد هم بيده فهو مومن ومن جاهد هم بلسانه فهو مومن ومن جاهدهم بقلبه فهو مومن وليس وراء ذلك من الايمان حبة خردل

(رواہ مسلم) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے ہر نبی کے دوست اور اصحاب تھے جو اس کے طریقہ کولیتے اور اس کے حکم پر چلتے پھر ان کے بعد نالائق پیدا ہوجاتے جو کہتے وہ بات جو نہ کرتے اور کرتے وہ بات جو نہ حکم دیئے جاتے پس جو شخص جہاد کرے ان سے ساتھ ہاتھ اپنے کے وہ مومن ہے۔ اور جو جہاد کرے۔ساتھ زبان اپنی کے وہ مومن ہے۔اور جو جہاد کرے ساتھ دل اپنے کے یعنی د ل سے برا جانے اور دشمنی رکھے۔وہ مومن ہے۔اور درے اس کے ایک رائی برابر بھی ایمان  نہیں روایتکیا اس کو مسلم نے۔

کتاب رزین اورکتاب المدخل للبہیقی میں ہے۔

قال قال رسو ل الله صلي الله عليه وسلم  يممل هذا العلم من كل خلف عدوله ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتاويل الجاهلين

(مشکواۃ مع مرقاۃ کتاب العلم فصل ثانی) یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس دینی علم کو ہرخلف سے عدول (یعنی ثقہ لوگ) اُٹھائیں گے یعنی دور کرینگے۔ اس سے تحریف حد سے بڑھنے والوں کی اور  جھوت باطل والوں کا اور تاویل جاہلوں کی

صحابہ  رضوان اللہ عنہم اجمین کا طریق

اس آیت اور دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جس طریق پر صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  تھے وہی رسول اللہﷺ دنیا میں چھوڑ کرگئے تھے۔اسی کو اللہ نے پسند کیا اس آیت سے معلوم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے وعدہ کیا ہے کہ تمھیں خلیفہ بنائے گا۔اور تمہارے دین کو جو اللہ کے نزدیک پسندید ہ ہے۔جگہ دے گا۔سو یہ وعدہ پہلے صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے ہی ہاتھ پر پورا ہوا ہے۔اور پہلی حدیث سے معلوم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس حدیث میں زکر ہے کہ ہر نبی کے حواری اور اصحاب تھے۔جو اس کے طریق پر چلتے تھے۔پھر پیچھے نالائق پیدا ہوجاتے ہیں۔اس سے مقصود آپﷺ کا یہ تھا کہ میری امت میں ایسا ہی ہوگا۔ایس واسطے اخیر میں فرمایا کہ جو شخص ان سے تلوار کے ساتھ جہاد کرے وہ مومن ہے۔اور جو زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔اور جو دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔الخ۔اور دوسری حدیث سے معلوم ہونے کی وجہ یہ ہے  کہاس میں علی العموم فرمایا ہے۔کہ ہر خلف میں عدول ہوں گے۔رسول اللہﷺ ا پنے بعد جن لوگوں کو چھوڑ کر دنیا سے رخصست ہوئے۔وہ سب آپ کے خلف تھے۔اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  ان کے عدول تھے۔پس وہ اس حدیث کے اول مصداق ہوں گے۔پس اس آیت اور دونوں حدیثوں سے اور ان جیسی اور آیتوں و حدیثوںسے ثابت ہوا کہ جس طریق پر صحابہرضوان اللہ عنہم اجمعین تھے وہی رسول اللہﷺ لے کر آئے تھے اور وہی اللہ کو پسند تھا۔چونکہ اس پر اتفاق ہے۔اس لئے زیادہ حوالوں کی ضرورت نہیں صرف تنبیہ کے لئے ایک آیت اور دوحدیثیں زکر کر دی ہیں۔اب سنئے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کس طریق پر تھے۔

خلیفہ اول حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا طریق

شاہ والی اللہ صاھب انصاف کے ص 38 لغایت ص 40 میں بحوالہ دارمی لکھتے ہیں۔

كان اة بكر اذا ورد عليه الخصم نظر في كتاب الله فان وجد فيه ما يقضي بينهم قضي به وان لم يكن في الكتاب وعلم من رسو ل الله صلي الله عليه وسلم   سنة قضي به قان اعياه خرج فسال المسلمين فربما اجتمع علي النفر كلهم يذكر من رسو ل الله صلي الله عليه وسلم   فيه قضاء فيقول الحمد لله الذي جعل فينا م يحفظ علي نبينا فان اعياه ان يجد فيه سنة من رسول الله صلي الله عليه وسلم   جمع روس الناس و خيارهم فاستارهم قاذا اجتمع رابهم علي امر قضي به

یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے پاس  جب کوئی جھگڑا آتا تو اللہ کی کتاب میں نظر کرتے اگر اس میں پاتے تو اس کے ساتھ فیصلہ کرتے اگر کتاب اللہ میں نہ پاتے تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث معلوم ہوتی تو اس کے ساتھ فیصلہ کرتے۔اگر حدیث بھی معلوم نہ ہوتی تو باہر نکل کر مسلمانوں سے دریافت کرتے دریافت کرنے سے بعض دفعہ کئی ایسے شخص مل جاتے جو رسول اللہﷺ کا  فیصلہ زکر کرتے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہتے کہ خدا کا شکر ہے کہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جس کو رسول اللہﷺ کے فیصلےمحفوظ ہیں۔اگر رسول اللہﷺ کی حدیث بھی نہ ملتی تو بڑے لوگوں کو اور بہتر ان کے کو جمع کر کے مشورہ لیتے پس جب کسی بات پر ان کی رائے متفق ہوجاتی تو اس کے ساتھ فیصلہ کرتے۔

ٰخلیفہ ثانی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا طریق

وعن شريح ان عمر بن خطاب كتب اليه ان جاءك شئ في كتاب الله فاقض به ولا يلتفتك عنه الرجال فان جاءك ما ليس في كتاب الله فا نظر سنة رسو ل الله صلي الله عليه وسلم  فاقض بها قان جاءك ما ليس في كتاب الله ولم يكن فيه سنة رسو ل الله صلي الله عليه وسلم   قانظر ما اجتمع عليه الناس فخذ به وان جاءك ما ليس في كتاب الله ولم يكن فيه سنة رسو ل الله صلي الله عليه وسلم   ولم يتكلم فيه احد قبلك فا ختراي الا مرين شئت ان شئب ان تناخر فتا خرو لا اري التاخر الا خير الك 

اور شریح سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے میری طرف لکھا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جوکتاب اللہ میں ہو تو اس کے ساتھ فیصلہ کرو اس سے  تمھیں لوگ نہ پھیر دیں اگر کتاب اللہ میں نہ ہوتو سنت رسول اللہﷺ کو دیکھو۔اور اس کے ساتھ فیصلہ کرو۔اگر نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہﷺ میں ہو تو پھر جس پر لوگوں کا اجتماع  ہو اس کو لو۔اگر نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسو ل اللہ ﷺ میں ہو نہ  تجھ سے پہلے اس میں کسی نے کلام کیا ہو تو دو باتوں سے جونسی بات بات چاہو اختیارکرو۔ اگر اپنی رائے کے ساتھ اجتہاد کر کے آگے بڑھنا چاہو تو آگے بڑھو  ۔اگر پیچھے ہٹنا چاہو تو پیچھے ہٹو۔ لیکن پیچھے ہٹنے میں تمہارے لئے بہتری دیکھتاہوں۔

عبد للہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق

وعن عبد الله بن مسعود قال اتي علينا زمان لسنا نقضي ولسنا هنالك وان الله قدر من الامران قد بلغنا ما ترون فمن عرض له قضاء بعد اليومفليقض فيه بما في كتاب الله عزوجل فان جاءه ما ليس في كتاب الله فليقض بما قضي به رسول الله صلي الله عليه وسلم   قان جاء ما ليس في كتاب الله ولم يقض به رسو ل الله صلي الله عليه وسلم    فليقض بما قضي به الصالحون ولا يقل اني اخال واني اري

اور عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ ہم پر ایک زمانہ آیا تھا۔ کہ نہ ہم فیصلہ کرتے تھے۔ نہ فیصلہ کرنے کے لائق تھے۔ اور تقدیر الہٰی میں نہ تھا کہ ہم اس مرتبہ کو پہنچیں۔جو تم آج دیکھ رہے ہو۔پس آج کے بعد جس کو کوئی ایسا فیصلہ پیش آجائے۔جو کتاب اللہ میں ہو تو اس کے ساتھ فیصلہ کرے اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو رسو ل اللہﷺ کے فیصلے کے ساتھ فیصلہ کرے۔اگر نہ کتاب اللہ میں ہو نہ رسول اللہﷺ نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا ہو تو نیک لوگوں کے  فیصلے کے ساتھ فیصلہ کرے اور یوں نہ کہے کہ میرا خیال اسی طرح ہے اور میر ی رائے یہ ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کا طریق

وكان ابن عباس اذا سئل عن الا مروكان في القران اخبر به وان لم يكن في القران وكان عن رسول الله صلي الله عليه وسلم    اخبر به فان لم يكن فعن ابي بكر وعمر فان لم يكن قال فيه برايه

اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جب کوئی مسئلہ پوچھے جاتے جو قرآن مجید میں ہوتا تو اس کے ساتھ خبر دیتے اگر قرآن میں نہ ہوتا اور رسول اللہ ﷺ سے ہوتا تو اس کے ساتھ خبر دیتے اگر رسول اللہﷺ سے بھی نہ ہوتا تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے خبر دیتے اگر ان سے بھی نہ ہوتا تو اپنی رائے سے کہتے۔

مقلد جاہل ہوتا ہے

علامہ شوکانی ؒ القول المفید میں لکھتے ہیں۔

محض  تقلید پر کفایت کرنا اس کو تو کوئی دانا پسندنہیں کرتا اور مقلد بینائی پر نہیں۔اور نہ مقلد حقیقت میں علم سے موصوف ہوسکتا ہے۔کیونکہ تقلید بالاتفاق علم  کا راستہ نہیں اگر کوئی دلیل مانگے تو ہم کہیں گے۔اللہ فرماتا ہے۔حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔اور فرماتا ہے اس شے کے ساتھ فیصلہ کرو جو اللہ تیری رائے میں ڈالے اور فرماتا ہے۔اللہ پر وہ بات نہ کہو جو تم نہیں جانتے اور یہ بات ظاہر ہے کہ علم معرفت معلوم کا نام ہے۔اس حال پر جس حال پر وہ ہو پس مقلد کو ہم کہتے ہیں۔جب اختلاف ہو جائے۔توتجھے اپنے امام کے قول کی صحت اور ایک عبادت کی ددسری عبادت پر ترجیح کس طرح معلوم ہے مقلد آگے سے جواب میں جو کچھ کہے گا وہ اسی پر نوٹ جائے گا کیونکہ جب وہ دلیل دے گا تو اس کو کہا جائے گا کہ جس کے اندر  استدلال کا مادہ ہوتا ہے۔وہ مقلد نہیں ہوسکتا۔پس  تیرا تقلید پر استدلال کرنا ہی تیرے دعوے کو توڑ رہا ہے۔ خصوصا جب کہ ایسی گفتگو مقلد کے امام کی کسی فضیلت میں شروع ہوجائے۔کیونکہ کسی امام کی فضیلت بحیثیت مجتہد ہونے کے مجتہد ہی معلوم کرسکتا ہے۔مقلد کو کیامعلوم میراامام اجتہاد میں زیادہ تھا۔ یاکوئی اور یا کسی عبادت میں گفتگو شروع  ہوجائے جو بعض آئمہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  اس کے مخالف ہوںکیونکہ عبادت کا معاملہ زرا نازک ہے۔تو مقلداس میں نہایت بعید ہے بہرحال تقلید کہتے ہیں۔ کسی کا قول بغیر دلیل کے لینا پس تقلید علم کا ذریعہ کس طرح بن سکتی ہے۔اگرعلم ہوتا تو تقلید کی ضرورت ہی نہ پڑتی اور نہ تقلید کا اعتمادقطع پر ہے بلکہ شبہ پر ہے۔

تقلید بدعت ہے

          وهو ايضا في نفيه بدعة محدثة لا نا نعلم بالقطع انلاصحابة رضوان الله عليهم لم يكن في زما نهم وعصرهم مذهب لرجل معين يدرك اويقلد وانما كانو ا يرجعون في النوازل الي الكتاب والسنة او الي ما يتمحضبينهم من النظر عند فقد الدليل

اور تقلید فی نفسی بھی بدعت ہے۔محدث ہے کیونکہ ہم قطعا جانتے ہیں کہ صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کے زمانہ میں کسی شخص کا مذہب معین نہ تھا جو اس کی حاصل کیا جائے یا اس کی تقلید کی جائے اور سو اس کے نہیںکہ حادثوں میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرتے تھے جب کہ کتاب و سنت میں دلیل نہیں ملتی۔

تابعین کا طریق

وكذالك تابعوهم ايضا يرجعون الي الكتاب والسنة فان لم يجدوا نظر وا ما اجمع عليه الصحابة فان لميجدوا اجتهدوا واختار بعضهم قول صحابي فواه الا قوي في دين الله تعالي

اور اسی طرح تابعین کی حالت تھی وہ بھی کتب و سنت کی طرف رجوع کرتے تھے۔پس اگر کوئی مسئلہ کتاب وسنت کی طرف نہ پاتے تو اس بات کو دیکھتے جس پر صحابہ        کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین  کا اجماع ہے۔اگراجماع نہ بھی ہو پاتے تو اپنے طور پراجتہاد کرتے اور بعض ان کے صحابی کے قول کے لیتے پس اس کو اللہ کے دین میں قوی سمجھتے

آئمہ اربعہ  کا طریق

ثم كان القرن الثالث وفيه كان ابو حنيفة ومالك والشافعي وابن حنبل فان ما لكا توفي سنة تسع وسبعين وما ئة وتوفي ابو حنيفة سنة خمسين وما ئة

وفي هذه السنة ولد الامامالشافعي وولد ابن حنبل سنة اربع وستين مائة وكانو ا علي منهاج من مضي لميكن في عصر هم مذهب رجل معين يتدا رسولهوعلي قري منهم كان اتباعهم فكم من قولة لمالك ونظر ائة خالفه فيها اصحابه ولو نقلنا لك ذلك مخرجنا عن مقصود ذلك الكتاب ما ذاك الالجمعهم الات الاجتهاد وقدر تهم علي ضروت الاستنباطات ولقد صدق الله نبيه في قوله خنر القون قرني ثم الذين يلونهم ثم الذين  يلونهم ذكر بعد قرنه قرنين والحديث في صحيح البخاري

پھر تیسرا قرن ہوا اس میں آئمہ اربعہ تھے۔کیونکہ امام مالک 179ء میں فوت ہوئے اور امام ابو حنیفہ ہوئے یہ سب گزشتہ لوگوں کے طریق پر تھے۔ان کے زمانہ میں کسی شخص کا مذہب معین نہ تھا۔جس کا درس ہو انھیں کی اتباع بھی انھیں کے قریب تھے۔امام مالک کے بہت اقوال اور اجتہادات ایسے ہیں جن میں ان کے اصحاب مخالف ہیں۔اگر ہم سب اقوال نقل کریں تو کتاب کے اصل مقصد سے نکل جایئں اس کا سبب یہی تھا کہ ان کو اسباب اجتہاد حاصل تھے۔اور استنباط کی قسموں پر قادر تھے۔جو لوگ اماموں کے اصحاب کو اماموں کے مقلد کہتے ہیں۔وہ غلط ہیں اوراللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس قول میں سچا کردیا۔ کہ بہتر زمانہ میرا ہے پھر جو ان کے نزدیک ہیں اور پھر جو ان کے نزدیک ہیں اپنے زمانوں کے بعد دو زمانوںکا زکر کیا اور یہ حدیث صحیح بخاری میں ہے۔

اجماع صحابہ رضوان عنہم اجمعین

فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص 630 میں ہے۔

اجمع الصحابة علي ان من استفتي ابا بكر وعمر اميريالمومنين فله ان يستفتي ابا هريرة ومعاذ بن جبل وغير هما ويعمل بقولهم من غير نكير

صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے فتویٰ پوچھے وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور معاذبن جبلرضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے سوا اوروں سے بھی فتویٰ پوچھ کر عمل کرسکتا ہے کسی کو اس سے انکار نہیں۔

شاہ ولی اللہ کا فیصلہ

شاہ ولی اللہ صاحب انصاف کے ص 59 میں لکھتے ہیں۔

قال ابن اهمام في اخر التحرير كانو ا يستفتحون مرة واحد اومرة غيره غير ملتزمين مفتيا واحدا

ابن ہمام فرماتے ہیں کہ کبھی کسی سے فتویٰ پوچھتے تھے کبھی کسی سے ایک مفتی کا الزام نہ تھا۔

تقلید چوتھی صدی کے بعد کی پیداوار ہے۔

شاہ ولی اللہ صاحب حجۃ البالغہ میں لکھتے ہیں۔

جان لیں کہ چوتھی صدی سے پہلے کے لوگ مذہب معین کی تقلید خالص پر جمع نہ تھے۔ابو طالب مکی قوت القولب میں  فرماتے ہیں۔کہ کتب اور مجموعات (مذہبی )بدعت ہیں۔اور لوگوں کے اقوال کا قائل ہونا اور لوگوں سے ایک شخص کے مذہب پر فتویٰ دینا اور اس کے قول کو لینا اور ہرمسئلہ

 میں اس کے قول کی حکایت کرنا اور اس کے مذہب کی فقہ حاصل کرنا قدیم زمانے کے لوگ اس پر نہ تھے۔یعنی قرون اولیٰ و ثانی میں انتھیٰ۔شاہ والی اللہ کہتا ہوں۔کہ قرن اول اور ثانی کے بعد ان میں کچھ تخریج امام کے اقوال سے مسئلہ نکال کر بتلانا یہ بات ان میں قدرے پیدا ہوگئی۔مگر پھر بھی چوتھی صدی کے لوگ اس مذہب کی تقلید خالص پر اور اس کے اندر فقاہت پیدا کرنے پر اور اسی مذہب کے قول کی حکایت کرنے پر جمع نہ تھے جیسا جستجو سے ظاہرہے۔بلکہ  ان میں علماء بھی تھے۔اور عوام بھی مسائل اتفاقیہ اور جمہوریہ میں سوا صاحب شرع کے کسی کا پٹہ گلے میں نہیں ڈالتے تھے وضو غسل نماز ذکواۃ وغیرہ کا طریقہ اپنے ماں باپ سے یا اپنے شہروں کے معلموں سے سے سیکھتے اور جب کوئی واقعہ پیش آتا تو سوا تعین مذہب کے جس مفتی سے اتفاق پڑتا مسئلہ پوچھ لیتے۔

اہل حدیث کا مسلک

اور خواص لوگوںسے جو اہل حدیث تھے۔وہ حدیث کے ساتھ مشٖغول رہتے احادیث نبویہ اور آثار صحابہ ان کو اس قدر پہنچتے کہ کسی مسئلے میں ان کو اور چیز کی احتیا ج نہ رہتی۔حدیث مشہور یا صحیح پہنچتی۔جس پر فقہاء میں سے کسی نے عمل کیاہو۔اور اس کے  تارک کے لئے کوئی عذر نہ رہا ہو۔یا جمہور صحابہ اور تابعین کے اقوال پہنچتے۔جو ایک دوسرے کےموید ہیں۔ جن کی مخالفت اچھی نہیں اگر کسی مسئلہ میں تعارض نقل کی وجہ سے کسی جانب کو ترجیح نہ ہونے کی وجہ  سےاطمنان قلب نہ ہوتا۔تو فقہاء معتقدین میں سے کس کے قول کی طرف رجو ع کرتے۔پس اگر وہ دو قول ہوتے تو زیادہ پختہ قول کو اخیتار کرے خواہ مدینہ والوں کا ہو یا کوفہ والوں کا اہل تخریج جو امام کے اقوال سے مسئلہ نکال کر بتلائے۔وہ جس مسئلہ میں صریح قول نہ پاتے مذہب میں اجتہاد کر کے مسئلہ بتاتے اور یہ لوگ اپنے اماموں کے مذہب کی طرف نسبت کئے جاتے مثلا کہا جاتا کہ فلاں شافعی ہے اور فلاں حنفی ہے اور کبھی اہل حدیث کو بھی بہت  مسائل میں کسی مذہب کے موافق ہونے کی وجہ سے اس مذہب کی طرف نسبت کرتے جیسے نسائی۔نسائی اور بہپقی شافعی کی طرف نسبت کئے جاتے تھے۔پس اس وقت قاضی او ر امفتی مجتہد ہی ہوتا تھا۔اور مجتہد ہی کا نام فقیہ رکھتے تھے۔پھر ان زمانوں کے بعد اور لوگ پیدا ہوگئے۔جو دایئں بایئں جانے لگے۔اور کئی امور ان میں نئے پیدا ہوگئے جن سے جھگڑا اور خلاف بھی ہے جو علم فقہ میں ہے۔

(باب حکایۃ حال الناس قبل المائۃ الرابعہ و بعد ھا ص 157۔158)

حدیث کے مقابلہ میں مفتی کے قول  یا فتویٰ کی کوئی اہمیت نہیں

چونکہ یہ بات بھی مسلم ہے۔ا س لئے انھیں تین چار احوال پر اکتفا کر کے یہ بتلاتے ہیں۔کہ حدیث رسول ﷺ کے مقابلے میں کسی مفتی کے فتویٰ یا کسی کے قول کی رعایت ہوتی تھی۔شاہ ولی اللہ صاحب انصاف کے ص 60 میں لکھتے ہیں۔

وقد تواتر عن الصحابة والتابعين انهم كانوا اذا بلغهم الحديث يعملون به من غنر ان يلاحظوا شرطا

صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  او ر تابعین میں سے یہ بات تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ک جب ان کو حدیث پہنچی تو اس پ عمل کرتے بغیر ا س کے کہ کسی شرط کی رعایت کریں۔دارمی کے صفحہ 44 میں ہے۔

قال ابن عباس اما تخافون ان تعذبوا او يخسف بكم ان تقولوا قال رسو الله صلي الله عليه وسلم و قال فلان

یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے ہیں۔کہ تم ڈرتے نہیں کہ تم عذاب کئے جائو۔یا زمین میں دہنسا دیئے جائو۔اس بات پر کہ تم کہتے ہو۔رسو ل اللہﷺ نے کہا اور فلاں نے کہا اور یعنی رسول اللہﷺ کا بالمقابل فلاں کا زکر کرتے ہو۔

حدیث کے مقابلے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی رائے پرعمل کرنا ہلاکت کا سبب ہے۔

تزکرۃ الحفاظ جلد 3 ص 53 میں محمد بن عبد الملک کے ترجمہ میں ہے۔

عن ابن عباس قال تمتع رسو ل الله صلي الله عليه وسلم  فقال عروة نهي ابو بكر وعمر عن التمتع فقال ابن عباس ما تقول عروةقالنهي ابو بكر و عمر فقال اراهم سيهلكون اقول قال رسول الله صلي الله عليه وسلم ويقولون قال ابو بكر وعمر قال ابن حزم انها لعظيمة ما رضي بها قط ابو بكر وعمر رضي الله عنها

یعنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمتع کیا۔ عروہ نے کہا ابو بکر و عمر رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے تمتع سے منع کیا ابن عباس نے کہا کہاے عروہ تو کیا کہتا ہے کہا ابو بکر و عمر رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے منع کیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہامیں دیکھتا ہوں کہ عنقریب ہلاک ہوجایئں گے۔ میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے کہا اور یہ کہتے ہیں۔ابو بکر اور عم رضوان اللہ عنہم اجمعین  نے کہا ابن حزم کہتے ہیں۔یہ بہت بڑی بات ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اس کو کبھی پسند نہ کرتے۔

عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی غیرت

ترمذی تبع مجتبائی کے ص 101 میں ہے۔

عى ابن شهاب ان سالم بن عبد الله حدثه انه سمع رجلا من اهل الشام وهو يسال عبد الله بن عمر ع التمتع بالعمرة الي الحج فقال عبد الله ابن عمر هي حلال فقال الشامي ان اباك فد نهي عنها فقال عبد الله بن عمو ارايت ان كان ابي نهي عنها وصنعها رسو ل الله صلي الله عليه وسلم امرا بي يتبع ام امر رسو ل الله صلي الله عليه وسلم فقال رجل بل امر رسو الله صلي الله عليه وسلم فقال لقد صنهها رسو ل الله صلي الله عليه وسلم

ابن شہاب سے روایت ہے کہ سالم بن عبد اللہ نے ایک شخص کو اہل شام سے سنا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے تمتع کی بابت سوال کرتا ہے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کہا حلال ہے۔سائل نے کہا تیرے باپ عمر نے تو اس سے منع کیا عبد للہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہا یہ بتلا میرے باپ نے اس سے روکا ہو اور رسول للہﷺ نے کیا ہو تو کیا میرے باپ کا حکم مانا جائے گا۔یا رسول اللہﷺ نے اسکو کیا ہے۔نیز ترمذی طبع مجتبائی کے ص 110 میں ہے۔مین نے ابو سائب سے سنا کہتے تھے۔کہ ہم وکیع کے پاس تھے وکیع نے ایک شخص اہل رئے کو کہا کہ رسول للہﷺ نے اشعار1 کیا ہے۔اور ابو حنیفہ نے کہا ہے کہ یہ مثلہ2 ہے۔اس شخص نے کہا ابراہیم نخعی نے بھی اسی طرح کہا ہے وکیع بڑے جوش میں آگئے۔اور فرمایا کہ میں کہتا ہوں رسول اللہﷺ نے فرمایا تو کہتا ہے ابراہیم نے کہا کہ کس قدر لائق ہے۔کہ تو قید کیاجائے پھر قید سے نہ نکالا جائے یہاں تک کہ اس بات سے توبہ کرے۔

1۔اشعار کہتے ہیں قربانی کے اونٹ کی کوہان میں زخم کر کے خون اوپر مل دینا تاکہ معلوم ہو یہ قربانی کا ہے۔2مثلہ کے معنی ہیں اطراف کا کاٹنا جیسے ناک کان ہاتھ پائوں وغٖیرہ۔

مسلم جلد اول طبع انصاری ص 48 میں ہے۔

ابو قتادہ کہتے ہیں کہ ہم عمران بن حسین کے پاس تھے ایک جماعت میں اور ہم مین بشیر بن کعب بھی تھا۔پس عمران نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے  فرمایا ہے کہ حیا سب خیر ہے۔بشیر نے کہا ہم بعض کتابوں یا حکمت میں پاتے ہیں۔کہ بعض حیاء اطمینان اور اللہ کے لئے عزت ہے۔اور بعض حیاء ضعف ہے عمران غضب 1میں آگئے۔یہاں تک کہ آنکھیں سرخ ہوگئیں اور فرمایاکہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں۔

اور تو اس کا معارضہ کرتا ہے۔ پھر حدیث کو لوٹایا بشیر نے بھی اپنے کلام کو لوٹا یا عمران زیادہ غضب میں آگئے۔ہم ان کا غضب کم کرنے کےلئے یہی کہتے رہے کہ بشیر ہم سے ہے اس کے ساتھ ڈر نہیں یعنی یہ منافق یا بدعتی نہیں۔اس قسم کے تشددات سلف  کی حدیث کی بابت بہت تھے دیکھئے۔ایک مرتبہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے عورتوں کی مسجد میں جانے کی بابت حدیث سنائی تو انہوں نے کہا کہ وہ بہانہ بنا لیتی ہیں۔ہم تو روکیں گے  بس اتنی بات پر ایسے ناراض ہوئے کہ مرتے دم تک ان سے کلام نہیں کیا۔کیونکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ حدیث کے سامنے انسان چون وچرا کرے یا کسی کے قول اورفتویٰ کی رعایت رکھے اسی واسطے

1۔عمران بن حسین کے  غضب میں آنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ حیا سے کبھی نقصان نہیں پنچتا۔کیونکہ یہ ایک ظاہر بات ہے کہ بعض دفعہ انسان زیادہ شرم کی وجہ سے مسئلہ نہیں پوچھتااس واسطے  بخاری کے صفحہ نمبر 24 میں لکھا ہے کہ متکر اور شرم والا علم نہیں سیکھ سکتابلکہ عمران بن حصین کےغصے مین آنے کی وجہ یہ تھی کہ حیاء کا فائدہ زیادہ ہے اورنقصان شازو  نادر ہی۔ایسے شازو نادر کے متعلق حضور ﷺ نے کالعدم قرار دے کر  احیاء کو مطلقا خیر کہا ہے۔جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں۔کہ آپﷺ سارا شعبان کے روزے رکھتے تھے۔حالانکہ چھوڑ بھی دیتے تھے۔چنانچہ  ترمذی کے صفحہ 92 میں تصریح کی ہے۔پس جب اس محاورے پر رسول اللہﷺ نے سب حیاء کو خیر کہا ہے۔تو اب تک اس کی تقسیم کرنا اور   یوں کہنا کہ بعض اس کا اطمینان اور عزت ہے۔اور بعض ضعف ہے۔یہ سراسر حدیث کے خلاف ہے۔کیونکہ تقسیم سے برابری کا شبہ ہوتا ہے۔یعنی اس سے یوں سمجھا جاتا ہے۔ کہ حییا سے  جہاں بہت سے فا ئدے ہیں وہاں نقصان بھی بہت ہیں۔حالانکہ واقع میں ایسا نہیں بس یہ وجہ تھی عمران بن حصین کے غصے میں آنے کی وجہ یہ تھی۔ورنہ شاذو نادر نقصان سے کس کو انکار ہے۔

امام مالک کہتے ہیں کہ ایسا کوئی شخص نہیں جسکی ساری باتیں لی جایئں مگر صاحب اس قبر کایعنی رسول اللہﷺہاں اگر قرآن وحدیث سے واقف نہ ہو تو کسی سے پوچھ لے لیکن التزام ایک کا نہ کرے۔بلکہ جس سے اتفاق پڑے اور پوچھے بھی یوں کہ اس مسئلے میں خدا اور رسولﷺ کا کیا حکم ہے۔نہ یوں کہ فلاں کا کیا مذہب ہے۔کیوں کہ صحابہ کے زمانے میں ایک مذہب کا التزام نہ تھا۔نہ کوئی یہ خیال رکھتا تھا۔نہ قرآن وحدیث میں ایک کی تعین کی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے مطلق فرمایا۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔یعنی اگر تمہیں علم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھو اور رسول اللہﷺ فرماتے ہیں۔انما شفاء العي السوال(مشکواۃ باب التیم)یعنی جہالت کی شفاء پوچھنی ہے ایک مذہب کی  تعین کرنا اس آیت و حدیث کے خلاف ہے۔کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایک کی  تعین کی ہے۔نہ رسول اللہﷺ نے بلکہ آیت و حدیث میں مطلق ہے۔تو اب کسی دوسرے کو کیا اختیار ہے کہ وہ  تعین کرے۔

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ ٹھیٹھ اسلام میں تین باتیں ہیں۔ایک یہ کہ قرآن وحدیث کا صاف فیصلہ ہوتے ہوئے کسی کے قول یا فتویٰ کی رعایت نہ رکھے۔دوسری یہ کہ اگر کسی مسئلہ میں قرآن وحدیث سے فیصلہ نہ ملے تو  وہاں پہلے لوگوں کے فیصلے کو اپنی رائے پر مقدم کرے۔تیسری بات یہ ہے کہ اگر خود قرآن وحدیث سے واقف نہ ہو تو بغیر التزام تعین مذہب  کے کسی سے مسئلہ قرآن وحدیث کا پوچھ لے بس یہی ٹحیٹھ اسلام ہے۔اور یہی رسول اللہ ﷺ اللہ کی طرف سے لے کر آئے تھے۔اسی پر صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کو چھوڑ کر رخصت ہوئے تھے۔اب جتنا کوئی اس ر وش سے ہٹے گا۔ اتنا ہی حق سے دور ہوگا۔اور جتنا اس سے نزدیک ہوگا اتنا ہی حق سے نزدیک ہوگا۔

مسلک اہل حدیث اور ٹھیٹھ اسلام میں کوئی فرق نہیں

اب  ہم       بتلاتے ہیں کہ وہ کونسا فرقہ ہے جو اس ر وش پر  قائم ہے اس کے بتلانے کی ضرورت تو نہ تھی۔کیونکہ ہر ایک طرز عمل ہی اس بات کی شہادت د ے رہا ہے۔کہ  میں اس  روش سے کتنا دور ہوں۔اور کتنا نزدیک ہوں۔لیکن جس فرقہ کو ہم اس  روش پر بتلانا چاہتے ہیں۔اس کے طرز عمل پر کیوں کہ غور نہیں کیا جاتا اور دور دور ہی سے ان کو لامذہب اور آئمہ دین کے حق میں بے ادب اور گستاخ کہہ کر کوسا جاتا ہے۔اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ان کا طرز عمل تحریر میں لایئں۔تاکہ کسی بھولے بھٹکے کو اس تحریر کے دیکھنے  کے اتفاق ہو  تو شاید برا کہنے سے باز آجائے۔ اور اگرزیادہ اسکی  خوش قسمتی ہو تو یہی  طرز عمل اختیار کرے اگر چہ اس طرز عمل کا کچھ زکر حجۃ اللہ کی عبارت میں ص 62 میں بھی گزر چکا ہے۔لیکن یہاں قدرے تفصیل مطلوب ہے۔پس سنیے۔شاہ ولی اللہ صاحب انصاف کے صفحہ 36 نعایت 38 پر اہل حدیث کا طرز عمل بتلاتے ہوئے فرماتے ہیں۔اس کا  ترجمہ یہ ہے کہ اہل حدیث کی یہ رائے نہ ہوئی کہ پہلے لوگوں میں سے کسی ایک کی تقلید نہ کریں۔ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ پہلے لوگوں میں سے ہر ایک کے مذہب کے خلاف کئی احادیث اور آثا ر ہیں۔تو اگر ایک کی تقلید کرتے تو ان احادیث و آثار کو چھوڑنا پڑتا حالانکہ طالب حق ایسا نہیں کرسکتا۔پس انہوں نے ایسے چند قواعد کے ساتھ احادیث اور آثار صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  و تابعین  مجتہدین کی جستجو اختیار کی جو انہوں نے اپنے دلوں میں محکم کر رکھے تھے۔ میں ان قواعد کو مختصر عبارت میں تیرے لئے بیان کرتا ہوں۔وہ یہ ہیں جب کوئی مسئلہ قرآن میں صراحتا ہوتا تو پھر کسی اور طرف نہ جاتے جب قرآن میں کئی معنوں کا احتمال ہوتا۔توحدیث فیصلہ کرنے والی ہوتی پس جب کتاب اللہ میں کوئی مسئلہ نہ پاتے تو حدیث کولیتے خواہ وہ حدیث فقہا ء میں مشہور ہو یا ایک شہر والوں نے یا ایک گھر والوں نے روایت کی ہو یا صرف ایک ہی سند سےمروی ہو اور یا صحابہ اور فقہا نے اس پر عمل کیا ہو یا نہ اور جب کسی مسئلے میں حدیث ہوتی تو پھر اس مسئلے میں حدیث کے خلاف کسی کے قول یا اجتہاد کی تلاش نہ کرتے اور جب کسی مسئلے میں باوجود پوری تلاش کے کوئی حدیث نہ پاتے توجماعت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے اقوال اور جماعت تا بعین کے اقوال لیتے۔لیکن ان میں سے کسی ایک قوم کے پابند نہ رہتے۔جیسے ان سے پہلے لوگ کرتے تھے۔پس جس مسئلہ پر جمہور علماء اور فقہا متفق ہوتے اسی کی اتباع کرتے اور جس مسئلہ میں اختلاف ہوتا تو خلفاء اور فقہاء میں سے جو زیادہ عالم اور پرہیز گار ہوتا اس کی حدیث کو لیتے یا اس حدیث کو لیتے جو حدیث میں ان کے نزدیک زیادہ ضبط والا یا زیادہ مشہور ہوتا پس اگر کوئی ایسا مسئلہ ہوتا جس میں یہ دو قول برابر ہوتےیعنی دلیل کی رو سے ایک دوسرے پرترجیح نہ  ہوتی تو وہ مسئلہ دو قول والا ہوتا۔ پس اگر اقوال صحابہ اور تابعین سے بھی عاجز ہو جاتے ہیں۔ تو قرآن وحدیث کے عمومات اور اشارات میں اور ان معنی میں جن کو عبارت چاہتی ہے غور کرتے یعنی قرآن وحدیث میں اجتہاد اور ایک مسئلہ کو دوسرے پر حمل کرتے۔جب کہ دونوں مسئلے سرسری طور پر ای دوسسرے سے قریب ہوتے۔اور دوسرے فقہا کی طرح اصول کے قواعد پر اعتماد نہ رکھتے بلکہ جو فہم کی طرف پہنچتا۔اور جس سے سینہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔جیسے  کہ تواتر کے لئے کوئی عدد مقرر نہیں نہ نقل کرنے  والوں کے اوصاف کا اعتبار ہے۔بلکہ جتنے عدد سے یقین ہوجائے جیسا کہ صحابہ کے حال میں ہم نے اس پر آگا ہ کیا ہے۔اور یہ اصول اہل حدیث کے پہلے لوگوں کے  طرز عمل اور ان کی تصریحات سے لئے گئے ۔(چنانچہ سلف کے طرز عمل کی تفصیل ہوچکی ہے)

اہل حدیث پر طعن درحقیقت صحابہ پر طعن ہے۔

ناظرین اہل حدیث کے اس  طرز عمل کا مقابلہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کی ر وش سے کر کے بتلایئں کہ اہل حدیث کیسے  صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے قدم بقدم ہیں۔ حریفوں پر بڑا افسوس ہے کہ وہ اہل حدیثوں پر طعن کرت ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم درحقیقت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  پرطعن کر رہے ہیں۔ہاں اگر صحا بہرضوان اللہ عنہم اجمعین  کی روش کسی کو پسند نہ ہو تو اس کی مرضی جتنا وہ چاہے طعن کرے ایسے طعن کرنے والوں پرکچھ افسوس نہیں کیونکہ وہ تو اپنے اسلام کی ہی خیر منائے بیٹھے ہیں۔لیکن جو  صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کو اچھا کہتا ہے وہ خدا جانے کیوں طعن کرتا ہے۔کہ وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ

بر بزرگان بسوئے خود است  تف بسوئے فلک بروئے خود است

طائفہ منصورہ اہل حدیث ہیں

اور سب سے بڑھ کر اس شخص پر افسوس ہے جو مذہب اہل حدیث کو نیا سمجھتا ہے۔حالانکہ جو طرز عمل سلف کے موافق ہو اور عین ٹھیٹھ اسلام ہو اس کے نیا ہونے کی کوئی صورت ہی نہیں خصوصا جب کہ حدیث لا تذال طائفة من امتي ظاهرين علي الحقکے مصداق بھی اہل حدیث ہی ہوں۔اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایک فرقہ کے ہمیشہ حق پر رہنے کی پیشن گوئی فرمائی ہے۔

امام بخاریؒ کی شہادت

امام بخاری ؒ کہتے ہیں اس سے مراد اہل علم یعنی اہل حدیث ہیں کیونکہ محدثین کے نزدیک اصل علم حدیث کا ہی ہے۔اس لئے امام بخاری نے اپنے استاد علی بن مدینی سے نقل کیا ہے۔ہم اصحاب الحدیث یعنی اس سے مراد اہل حدیث ہیں۔

امام احمدؒ کی شہادت

امام احمد کہتے ہیں۔ان لم يكونو اهل الحديث فلا ادري من همیعنی  اگر اس  سے مراد اہل حدیث1 نہ ہوں۔تو پھر میں نہیں جانتا کہ کون ہیں ملاحظہ ہو فتح الباری جز 29 ص 671

1۔بعض لوگ کہتے ہیں مذہب اہل حدیث تو پرانا ہے۔مگر نام اہل حدیث نیا ہے۔تواس کی بابت عرض ہے کہ نام بھی پرانا ہے کہ یہ لقب خیر القرون سے چلا آتا ہے۔اور امام احمد اور علی بن مدینی کے اس قول سے بھی معلوم ہوا کہ یہ لقب بہت پرانا ہے اس کے علاوہ مسلم کے شروع میں

باب الاسناد من الدين میں ہے۔عن ابن سيرين قال بم يكونةا يسئلون عن الاسناد فلما وقعت الفتنة قالوا سمعوالنا رجالكم فينظر الي اهل السنة فيوخذ حديثهم وينظر الي اهل البدع فلا يوخذ حديثهم یعنی محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ پہلے لوگ اسناد کا سوال نہیں کرتے تھے۔جب وہ فتنہ واقعہ ہوگیا۔تو کہتے ہیں کے راویوں کے نا م بتلائو۔پس اہل سنت کو دیکھ کر  ان کی روایات کی ہوئی لی جاتی اور اہل بدعت کو دیکھ کر ان کی روایات کی ہوئی ھدیث ترک کی جاتی۔محمد بن سیرین مشہور تابعی ہیں۔ان کے کلام سے ظاہر ہوا کہ اہل سنت کا لقب ان سے بھی پہلے کا ہے۔کیونکہ ماضی گزشتہ کا حال سنا رہے ہیں۔اور سنت اورحدیث ایک شے ہے۔تو اہل حدیث بعینہ اہل سنت ہوئے۔اسی بناء پر امام احمد نے اپنے رسالے کے شروع میں جو عقائد میں انھوں نے لککھا ہے۔اور ہندوستان میں مترجم ہوکر چھپ چکا ہے فرماتے ہیں۔هذه مذاهب اهل السنة واصحاب الاثر واهل السنة المتمسنين بعر وقها المعروفين المقتدي بهم فيها من لدن اصحاب النبي صلي الله عليه وسلم الي يومنا هذا وادركت عليها من علماء الحجاذ والشام وغيرهم یعنی یہ اہل سنت اور اہل حدیث کے عقائد ہیں۔اور اہل سنت کے جو سنت کے دستاویز سے تمسک کرنے والے ہیں۔جو اس میں مشہور مقتدی ہیں۔اصحاب رسول ﷺ کے زمانے سے آج تک اور جس پر میں نے علماء حجاز اور شام وغیرہ کو پایا۔اسی رسالے کے اخیر پرفرماتے ہیں۔يرحم الله عبد اقال الحق واتبع الا ثر وتمسك بالسنةیعنی رحکم کرے اللہ اس بندے پر جس نے حق کہا اور اثر کی اتباع کی اور سنت سے استدلال کیا۔ان دونوں عبارتوں میں اثر سے مراد روایات صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین ہیں۔اور سنت سے مراد حدیث ہے۔اور اہل حدیث ان دونوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔اس لئے کبھی ان کو سلفی کہتے ہیں اور کبھی اہل حدیث کبھی اصحاب الاثر اور کبھی اصحاب الحدیث وغیرہ پس معلوم ہوا کہ اہل حدیث بعینہ اہل سنت ہیں۔اور یہ لقب اہل حدیث ما انا علیہ واصحابی سے ماخوذ ہے ما انا علیہ احادیث ہیں۔اور اصحابی روایات صحابہ  ہیں۔اس کے بعد اصحاب رائے پیدا ہوگئے۔جن کا زیادہ قصد تحصیل احادیث اور نقل اخبار  کی طرف رہاوہ لقب پورے اہل سنت کے پورے مستحق تو نہ تھے۔مگر چونکہ عقائد کے اعتبار سے وہ قریب قریب صحابہ کے تھے۔اس لئے ان کے حق میں یہ لفظ استعمال ہوتا رہا۔بس اسی طرح سے اہل سنت کا لفظ پھیل گیا۔

اکابر اہل حدیث

اس کے علاوہ اور سنیے شاہ ولی اللہ صاحب انصاف کے ص35 میں لکتے ہیں۔

فكان روس هولاء عبد الرحمان بن مهدي ويحيي بن سعيد القطان ويزيد بن هارون وعبد الرزاق و ابو بكر ابي شيبة ومسدهنا واحمد بن حنبل واسحاق ابن راهوية والفضل بن دكين وعلي بن المديني واقر انهم

یعنی اہل حدیث کے بڑے لوگ یہ ہیں عبد الرحمٰن بن مہدی۔یحیٰ بن سعیدقطان۔یزید بن ہارون۔عبد الرزاق ابو بکر بن ابی شیبہ مسدود۔ہرہناد احمد بن حنبل ؒ۔اسحاق بن راہویہ۔فضل بن وکین علی بن مدینی اور ان کی مثل۔بتلائیے ان لوگوں کا مذہب نیا تھا یا پرانا اصل میں جن لوگوں نے مذہب اہل حدیث کو نیا سمجھا ہے ان کو ہندوستان سے دھوکا لگا ہے کیونکہ ہندوستان میں پچاس کروڑ ساٹھ سال سے کچھ قبل مذہب اہل حدیث کا چنداں چرچا نہ تھا۔اس سے بعض کوہتا نظروں نے یہ سمجھ لیا کہ مذہب اہل حدیث کی عمر ہی کل پچاس ساٹھ سال کی ہے۔حالانکہ اس کی عمر سب مذاہب سے زیادہ ہے۔کیونکہ یہ سب مذاہب سے پہلے موجود تھا۔اورجب نئے مذاہب پیدا ہوگئے۔تو بھی ہر زمانہ میں موجود رہا ہے اور آئندہ بھی ہے گا۔ کیونکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں۔لا تذال طائفة من امتي ظاهرين علي الحق

مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور تقلید شخصی

مولوی اشرف علی تھانوی اپنے مرشد مولوی رشید احمد گنگوہی کو ایک خط لکھا جس کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ میلاد مروجہ میں زکر کے علاوہ بہت سی تخصیصات اورقیودات ہیں جیسے خاص دنوں میں ہونا مجمع میں ہونا۔اس کے فرش فروش اورروشنی کا انتظام ہونا زکر کے لئے خاص  طریق مقرر ہونا اور  پھر ایک موقعہ پر پہنچ کر سب مجمع کا کھڑا ہوجانا اس قسم کی ت تخصیصات اور قیودات  کی وجہ سے مولوی اشرف علی تھانوی کو کچھ اشتباہ ہوگیا۔اور اس اشتباہ کو دور کرنے لئے انہوں نے مولوی رشید احمد کو یہ خط لکھا جس کے ضمن میں میں تقلید کا زکر بھی آگیا۔یہ خط بہت طویل ہے۔ہم بقدر ضرورت نقل کرتے ہیں۔اس کے بعد مولوی رشید احمد صاحب کا جواب نقل کریں گے۔ان شاء اللہ

''مولوی اشرف علی کے خط کی نقل۔''

ا ب اس وقت دو امر قابل عرض ہیں۔کہ تقلید مطلق آیا مطلقا ممنوع ہے۔یاجب کہ اس قید کو  مرتبہ مطلق میں سمجھا جاوے۔یعنی اگر مطلق واجب تھا تو قید کو بھی واجب سمجھا جائے۔اور اگر مندوب و موجب قرب تھا تو قید کو بھی مندوب و موجب قرب سمجھا جاوے در صورت اولیٰ تقیدات عادیہ میں شبہ ہوگا اور صورت ثانیہ میں جب مطلق کو عبادت سمجھا او ر قید کو بنااعلیٰ مصلحتا تا عادت سمجھا جاوے۔تو فی نفسی اس میں قباحت نہ ہوگا۔اگرمودی بہ فساد عقیدہ عوام ہو اس میں قبح بغیرہ ہوگا لیکن اس کا فاعل زبان سے اصلاح عقیدہ عوام با اعلان کرتا رہے۔اس وقت بھی رہے گا یا نہیں۔اگر نہ رہے گا فبہا اوراگررہے گاتواسصورت میں بعض اعمال میں جو اعوام میںشامل ہو رہےھ ہیں۔اورظاہر ان کی عقیدت میں ان کی نسبت ٖغلو و افراط بھی ہے۔اور خواص کے فعل بلکہ حکم سے اور قول سے بھی  اس کی  تایئد ہوتی ہے۔اوراس کا وجوب شرعی بھی کسی دلیل سے ثابت نہہیں۔اور عوام بلکہ خا ص میں اس پر مفاسد مرتب ہو رہے ہیں۔ایسے اعمال میں شبہ واقع ہوگا۔مثلا تقلید شخصی عوام میں شائع ہو رہی ہے۔اور وہ اس کو علما و عملا اس قدر ضروری سمجھتے ہیں۔کہ تارک تقلید سے گو کہ اس کے تمام عقائد موافق کتاب وسنت کے ہوں اس قدر بضض و نفرت رکھتے ہیں۔ کہ تارکین صلواۃ فساق و فجار سے بھی نہیں رکھتے۔اور خواص کا عمل و فتویٰ وجوب اس کا موید ہے۔گوخود ان کو علیٰ سبیل الفرض اس قدر غلو نہ ہو اور دلیل ثبوت اس کی یہ مشہور ہے کہ ترک تلقید سے مخاصمت و مازعت ہوتی ہے  کہ جو ممنوع ہے ۔سو مودی الی الممنوع ہوگا پس کی ضد واجب ہوگی مگر دیکھا جاتا ہے کہ بوجہ اختلاف آرائ علماء  وکثرت روایات مذہب واحد معین کے مقلدین میں بھی عوام کیا خواص میں مخاصمت و منازعت واقع ہے اور غیر مقلدین میں بھی اتفاق و اتحاد پایا جاتا ہے غرض اتفاق و اختلاف دونوں جگہ ہے۔ اور مفاسد کا مترتب یہ کہ اکثر مقلدین عوام بلکہ خواص اس قدر جامد ہوتے ہیں کہ اگر قول مجتہد کے خلاف کوئی آیت یا حدیث کان میں پڑتی ہے۔ان کے قلب میں پیدا ہوتا ہے۔پھر تاویل کی فکر ہوتی ہے۔خواہ کتنی ہی بعید ہو خواہ دوسی دلیل قوی اس کے معارض ہو بلکہ مجتہد کی دلیل اس مسئلہ میں بجز قیاس کے کچھ بھی نہ ہو بلکہ کود اپنے دل میں اس تاویل کی وقعت نہ ہو مگرنصرف مذہب کے لئے  تاویل ضروری سمجھتے ہیں۔دل یہ نہیں مانتا کہ قول مجتہد کو چھوڑ کر حدیث صریح پر عمل کریں۔بعض سنن مختلف آمین بالجہر وغیرہ پر چرب و ضرب کی نوبت آجاتی ہے۔اور قرون ثلاثہ میں اس کو شیوع بھی نہ ہوا تھا۔ بلکہ کیف ما انفق جس سے چاہا مسئلہ دریافت کرلیا۔اگر اس امر پر اجماع نقل کیا گیا ہے۔کہ مذاہب اربعہ چھوڑ کر مذہب خامس مستحدث کرنا جائز نہیں یعنی جو مسئلہ چاروں مذہبوں کے خلاف ہو اس پر عمل جائز نہیں کہ حق داریہ منحصر ان چاروں میں ہے مگر اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ اہل ظاہر ہر امانہ میں رہے اور یہ بھی نہیں کہ سب اہل ہوا ہی ہوں وہ اس اتفاق سے علیحدہ رہے دوسرے اگراجماع ثابت بھی ہوجائے مگرتقلید شخصی پر تو کبھی اجماع بھی نہ ہوا البتہ ایک واقع میں تلفیق کرنے کو منع لکھا ہے تاکہ اجماع مرکب کے خلاف نہ ہوجائے۔باوجود ان سب امور  کے تقلید شخصی کا استحساان وجوب مشہور و معمول ے سو اس کا قبح کس طرح مرفوع ہوگا انتھیٰ عبارۃ (تذکرہ الرشید حصہ اول صفحۃ 130۔131)

مولوی رشید احمد صاحب کا جواب

از بندہ رشید بعدسلام مسنون مطالعہ فرمایندہ خط آپ کا آیا بظاہر آپ نے جملہ مقدمات محررہ بندہ کو تسلیم کر لیا اور قبول فرما لیا البتہ تقلید شخصی کی نسبت کچھ تردد آپ کو باقی ہے لہذا اس کو جواب لکھواتا ہوں مقید باامر مباح میں اگر مباح حد سے نہ گزرے یا عوام کو خرابی میں نہ ڈالے تو جائز ہے۔اور دونوں سے اگرکوئی امر واقع ہوجائے تو ناجائز ہوگا۔ اس مقدمے کو خود تسلیم کرتے ہو اب تقلید کو سنو مطلق تقلید مامور بہ ہے۔لقولہ تعالیٰ ۔۔۔قرآن۔۔۔۔۔۔اور بوجہ دیگر نصوص مگر بعد ایک مدت کے تقلید غیر شخصی کے سبب مفاسد پیدا ہوئے کہ آدمی بہ سبب اس کے لا ابالی اپنے دین سے ہوجاتے ہیں۔اوراپنی ہوائے نفسانی  کا اتباع گویا اس  لازم ہے۔کہ طعن علماء مجتہدین و صحابہ کرام اس کا ثمرہ ہے ان امور کے سبب باہم نزاع بھی پیدا ہوتا ہے اگرتم بغور دیکھو گے تو یہ سب امور تقلید غیر شخصی کے ثمرات نظر آیئں گے اور اس پر ان کا مرتکب ہونا آپ پر واضح ہوجائے گا۔لہذا تقلید غیر شخصی  اس بدنظمی کے سبب گویا ممنوع من اللہ ہوگئی پس ایسی حالت میں تقلید شخصی گویا فرض ہوگئی۔اس واسطے کے تقلید مامور بہ کی دو نوع ہیں۔ شخصی و غیرشخصی بنمزالہ جنس ہے۔اور مطلق کا وجود کارج میں بدوں اپنے کسی فرد کے محال ہے۔پس جب غیرشخصی حرام ہوئی بوجہ لزوم مفاسد تو اب شخصی معین مامور بہ ہوگئی۔اور جو چیز کے اللہ کی طرف سے فرض ہو اگر اس میں کوئی مفاسد پیدا ہوں۔ اور اس کا حصول بدون اسی ایک فردکے ناممکن ہو۔تو وہ فردحرام نہ ہوگا۔بلکہ ازالہ ان مفاسد کا ان سے واجب ہوگا اور اگر کسی ماموع کی ایک نوع میں نقصان ہو اور دوسری نوع اس نقصان سے ہو تو وہی فرد خاصۃ مامور بن جاتا ہے۔اور اس کے عوارض میں اگر کوئی نقصان ہو تو اس نقصان کو ترک کرنا واجب ہوگا نہ اس فرد کا یہ حال وجوب تقلید شخصی کا ہے اسی واسطے تقلید غیر شخصی کو فقہاء نے کتابوں میں منع لکھا ہے۔مگر جو عالم غیرشخصی کے سبب مبتلا ان مفاسد مذکورہ کا نہ ہو اور نہ اس کے سبب سے عوام میں رجحان ہو اس کی تقلید غیر شخصی اب بھی جائز ہوگی مگر اتنا دیکھنا چا ہیے کہ کہ تقلید شخصی وغیر شخصی دو نوع ہیں۔کہ شخصیت و غیرشخصیت دونوں فصل ہیں جنس تقلید کی کہ تقلید کا وجود بغیر ان فصول کے محال ہے کیونکہ یہ فصول ذاتیات میں داخل ہیں۔پس اس کا حال قیود مجلس میلاد سے جدا ہے بادی النظر میں یہ دونوں یکساں معلوم ہوتے ہیں ورنہ اگر غور کیا جائے تو واضح ہے  کہ زکر ولادت جداشے ہے۔اور فرش فروش روشنی وغیرہ قیود مبحوثہ کوئی فصل زکر کی نہیں بلکہ امور منضمہ ہیں کہ بدوں ان کے زکر ولادت حاصل ہوسکتا ہے سو ایک کو دوسرے پ قیاس کرنا درست نہیں لہذا اوپر  کے کلیہ سے مباح منضم کا حال  معلوم ہوچکا ک جب تک اپنی ھد پر ہوگا تو جائز اور جب اپنی سحد سے خارج ہوا تو ناجائز اورامور مرکبہ میں اگر کوئی ایک جزر بھی ناجائز ہو جاوے تو مجموعہ پر حکم عدم جواز کا ہوجاتا ہے۔آپ کو معلوم ہے کہ مرکب حلال سےحلال اور حرام سے حرام ہوتا ہے۔یہ کلیہ فقہ کا ہے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ اس تقریر سے آپ کی اس طویل تقریر کا  جواب حاصل ہوگیا۔ہوگا جو آپ نے دربارہ تقلید لکھی ہے لہذا زیادہ بسط کی حاجت نہیں ہے۔کیونکہ  تم خودفہیم ہو انتھیٰ کلامبہ و تذکرہ الرشید حصہ اول صفحہ 132۔133)محدث روپڑی صاحب فرماتے ہیں۔

مولوی رشید احمد صاحب کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت کریمہ ۔۔۔قرآن۔۔۔میں مطلق تقلید کا حکم ہے۔اور اس کی دو نوع ہیں۔شخصی اور غیر شخصی ۔غیر شخصی اگرچہ کچھ مدت تک جاری رہی مگر بعد ایک مدت کے اس میں مفاسد پیدا ہوگئے اس لئے یہ ممنوع ہوگئی اور تقلید شخصی واجب ہوگئی کہ کوینکہ مطلق تقلید کے ادا کرنے کی یہی ایک صورت باقی رہ گئی ہے اور اس میں بھی کچھ مفاسد پیدا ہوں تو ان مفاسد کو دور کرنا چاہیے نہ کہ تقلید شخصی کو حرام کیا جائے۔ناضرین خیال فرمادیں کہ اس جواب میں مولوی رشید احمد نے کیسے آنسو پونچھے ہیں اتنا خیال نیں کیا کہ جب تقلید غیر شخصی مفاسد کیوجہ سے ممنوع ہوگئی تو تقلید شخصی کیوں ممنوع نہ ہوگی اور جیسے تقلیدشخصی سے پیدا شدہ مفاسد دور  ہوسکتے ہیں تو تقلید غیرشخصی سے مفاسد کیوں دور نہیں ہوسکتے اگر یہ خیال ہو کہ تقلید غیر شخصی میں مفاسد زیادہ ہیں تو یہ بھی خلاف واقعہ ہے چنانچہ ہم نے  تعریف اہل حدیث حصہ دوم میں صفحہ 83 سے صفحہ 45 تک اس کی کافی تفصیل کی ہے۔اور مولوی اشرف علی صاحب کا مذکورہ بالاخط بھی اس کا شاہد عدل ےہ بلکہ تقلید غیر شخصی میں قطعا مفاسد نہیں کیونکہ خیر قرون کی روش ہے اور جو مفاسد مولوی رشید احمد صاحب نے زکر کئے ہیں۔وہ درحقیقت خیر  قرون کی روش  کی مخالفت کی ہو کہ تقلید شخصی شروع کردی۔ہو یا اس طرح سے مخالفت کی ہو۔کہ قرآن وحدیث کا مطلب سلف کے خلاف سمجھا ہو اسی طرح سے مخالفت  کی ہوکہ اپنی پیدائش وفات بیاہ شادی وغیرہ میں افراط و تفریط سے کام لیا ہو بہر صورت سب مفاسد کا منبع مخالفت سلف ہے موافقب سلف اگر مفاسد کا منبع ہو تو ان کو خیرقرون کہنا ہی صحیح نہیں کیونکہ خیر قرون کے معنی یہ ہیں کہ ان کی روش سب روشوں سے بہتر ہے۔پھر اخیر میں مولوی رشید احمد صاحب نے میلاد مروجہ اور تقلید میں جو  فرق بتلایا ہے کہ زکر ولادت ان قیود کے بغیر ہوسکتا ہے۔اور تقلید کا وجود بدوں ان فصول (شخصیت اور ٖغیر شخصیت کے محال ہے یہ بھی ٖغلط ہے کیونکہ خیر قرون میں حسب  زعم ان کے تقلید تھی اورشخصیت نہ تھی اور مقلدیں میں  تقلید ہے۔اور غیر شخصیت نہیں پس دونوں کے بغیر تقلید کا وجود پایا گیا۔

اگر کہا جائے کہ دونوں اسمیں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔یعنی یہ نہیں ہوسکتا تھاکہ تقلید کا وجود ہو اور وہاں نہ شخسیت ہو نہ غیر شخصیت تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے شخصیت کے ساتھ غیرشخصیت کولیاہے۔اسی طرح میلاد میں قیود کے ساتھ غیرقیود کو لیا جائے تو تقلید میں اور میلاد میں کچھ فرق نہیں رہے گا۔یعنی جیسے تقلید میں شخصیت اور ٖغیرشخصیت سے ایک کام کا  ہونا ضروری ہے۔اس طرح زکر ولادت میں قیود اورغیرقیود سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ پس جیسے شخصیت اور غیرشخصیت فصل ہیں اسی طرح قیود غیر قیود بھی فصل ہوں گے۔یہ جواب تو مولوی رشید احمد صاحب کی روش کے موافق تھا اب اصل تحقیق سنیے۔

اصل تحقیق

مولوی رشیداحمد صاحب نے یہاں ڈبل غلطی کی ہے۔اور تقلید کی خاصیت ہی ایسی ہے کہ اس کے مرتکب کو سیدھی بات نہیں سوجھتی کیونکہ تقلید خود ایک ٹیڑھا رستہ ہے تفصیل اس کی یہ ہے کہ شخصیت کے دو معنے ہیں ایک ی کہ جب مسئلہ پوچھنے کی ضرورت ہو تو کسی شخص سے پوچھے غیر شخص سے نہ پوچھے اور یہ بات ظاہر ہے کہ یہ شخصیت محل نزاع نہیں اور نہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ دنیا میں جو ہے شکص ہی ہے۔نہ کہ غیر شخص تو غیرشخص سے پوچھنے کی کوئی صورت نہیں۔دوسرے معنی یہ ین کہ پوچھنے کے لئے ایک شخص کو معین کرلے یعنی دل میں اس بات کا التزام کرے کہ ہرمسئلہ فلاں شخص سے پوچھوں گا۔یہ شخصیت محل نزاع ہوسکتی ہے۔اور ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں غیرشخصیت ہے جس کی صورت یہ ہے کہ اس قسم کا التزام نہ کرے خواہ ایک سے پوچھنے کا اتفاق ہو یا کسی ایک سے اتفاق ہو تواس کا غیرشخصیت ہونا ظاہر ہے اگر ایک سے اتفاق ہو تو اس کے غیر شخصیت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے التزام نہیں کیا مثلا وہ ایک جگہ رہتا ہے اور وہاں ایک ہی عالم ہے تو اس سے ہمیشہ مسئلہ پوچھ کر عمل کرلیتا ہے۔مگردل میں یہ التزام نہیں کہ اگر کوئی درد سر عالم یہاں آجائے یا مجھے دوسری جگہ جانے کا اتفاق ہو۔ تو پھر بھی اسی کا مسئلہ مانوں گا۔تویہ صورت غیرشخصیت ہی ہوگی۔کیونکہ اس نے شخص معین کا التزام نہیں کیا بلکہ اتفاق ایسا ہوگیا کہ وہ ایک ہی سے پوچھا رہا۔جب شخصیت کے دونوں معنی معلوم ہوچکے اور یہ بھی معلوم ہوچکا کہ دوسرا محل نزاع ہے نہ کہ پہلا تو اب بتلائیے۔ کہ اس التزام کو مسئلہ پوچھنے میں کیا دخل ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی دخل نہیں جیسے میلاد مروج میں زکر ولادت کے ساتھ قیود زائد لگے ہوئے ہیں جن کو مولوی رشید احمد صاحب نے امور منظمہ کہا ہے۔اسی طرح کسی سے مسئلہ پوچھنے کے ساتھ اسی قسم کا التزام ایک قید زائد یا امرمنضم ہے پس کوئی وجہ نہیں کہ میلاد مروج کو تو بدعت کہا جائے اور تقلید شخصی متنازعہ فیہ کو بدعت نہ کہا جائے۔

منطقی اصلاحات میں ڈبل غلطی

مولوی رشید احمد صاحب نے اس جگہ منطقی اصلاحات میں بڑی ڈبل غلطی کی ہے خدا جانے مہارت نہ تھی یا تقلید کے اثر سے ایسا ہوا دیکھیے۔شخصیت کے معنی میں دھوکہ کھا کر اس کو فصل قرار دینا تو الگ رہا ہے اس کے مقابلہ میں غیر شخصیت کو بھی فصل قرار دے رہے ہیں۔حالانکہ غیر شخصیت مفہوم عدی ہے جو کسی صورت وجود ی شے تقلید کا فصل بننے کے قابل نہیں۔پھر اس سے بڑھ کردیکھئے۔یہ کسی قدر غلطی کی ہے کہ فرماتے ہیں۔مطلق تقلید مامور ہے لقولہ تعالیٰ ۔۔۔قرآن۔۔۔۔

اور اس ک دو نوع شخصی اور غیر شخصی قرار دی ہیں۔اور یہ خیال نہیں کیا کہ جس مطلق تقلید  کا امر اس آیت میں ہے۔وہ غیر شخصی ہے کیونکہ التزام کی  قید نہیں اور قرآن وحدیث میں جو قید نہ ہو۔اس قید کا اضافہ کرنا قرآن وحدیث کی مخالفت ہے تو پھر شخصی اس کا نوع کیسے بنی۔اگر اس کو اصولی طور پر سمجھنا ہو تو یوں سمجھے۔کہ نور النواز وغیرہ میں لکھا ہے۔کہ خبر واحد کے ساتھ کتاب اللہ پر زیادتی درست نہیں جسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔اس آیت میں مطلق قرات کا حکم ہے  تو حدیث کے ساتھ اگر فاتحہ کی تعین کی جائے   تو یہ کتاب اللہ پرزیادتی ہے۔جو نسخ ہے پس اسی طرح تقلید شخصی  کو ۔۔۔قرآن۔۔۔کے خلاف سمجھنا چاہیے نہ کہ مامور بہ میں داخل ہیں۔بلکہ زیادہ خلاف  سمجھنا چاہیے کیوں کہ تقلید کی بابت تو کوئی حدیث بھی  نہیں آئی۔اگر او ر وضاحت تو سنیے!

عام بول کر خاص من حیث الخاص کا ارادہ کرنا مجاز ہے۔کیونکہ اس کی حیثیت سے یہ خاص لفظ کا موجوع نہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ لفظ کو مجازی معنی پر حمل کرنا اس لفظ کی  مخالفت ہے اسی لئے مجازی معنی کے لئے کوئی قرینہ قائم کرنا پڑتا ہے۔جب خاص کر یہ حالت ہوتو بتلائیے۔ کہ تقلید شخصی جس کی حقیقت میلاد مروج کی طرح امر منضم سے پیدا ہوئی ہے۔اس آیت مین نوع مامور بہ کسی طرح بنی۔

جو کہنا ہے سو کہہ لیکن سمجھ کر مرد نعمانی

چوں کفر از کعبہ برخیز و کجا ماند مسلمانی

اس لئے تعریف اہل حدیث حصہ دوم میں صفھۃ 83 سے صفحہ 145 تک ہم نے بڑے زور شور سے لکھا ہے۔کہ تقلید شخصی قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے۔اور اجماع صحابہ رجوان اللہ عنہم اجمعین  بلکہ خیر قرون کی روش کے بھی خلاف ہے۔اور آیت کریمہ میں ۔۔۔۔۔قرآن۔۔۔وغیرہ میں جس سوال کا زکر ہے۔اول تو وہ تقلید ہی نہیں بلکہ قرآن وھدیث کی اتباع ہے۔اگر کوئی زورا زوری اس کا نام تقلید رکھ لے تو اس کی خوشی وہ خواہ مجتہد کو بھی مقلد کہہ دے کیونکہ مجتہد بھی قرآن وحدیث کی اتباع کرتا ہے۔سچ ہے۔

جنوں کا نام خردرکھ دیا خرد کا جنوں

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

ایک بات یہاں اور سنیے!جس تقلید کی نسبت اصل نزاع ہے وہ چار اماموں کی تقلید ہے جس کی صورت یہ ہے کہ کسی امام سے مسئلہ پوچھنے کے وقت یوں کیا جائے کہ اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ صاحب کا یا فلاں امام کا کیا ارشاد ہے۔اور آیت کریمہ ۔۔۔قرآن۔۔۔۔میں جس سوال کا زکر ہے۔اس کی صورت  یہ ہے کہ علم نہ ہو تو کسی علم والے کو کہےکہ اس مسئلے میں خدا اور رسولﷺ کا کیا ارشاد ہے۔کہ معصوم کی جگہ غیر معصوم امام ابو حنیفہ کو یا کسی اور امام کو دیکر یوں کہے کہ اس مسئلے میں امام ابو حنیفہ کا یا فلاں امام کا کیا ارشاد ہے۔اب بتلائے کہ اس آیت کو تقلید متنازع فیہ سے کیا تعلق اگر امام صاحب زندہ ہوتے تو ان سے یہی سوال ہوتا  کہ اس مسئلے میں خدا اور رسولﷺ کا کیا  ارشاد ہے۔اور اہل زکر سے مراد کتاب اللہ ہے یہ بھی اس پر دلالت کرتاہے۔ کہ خدا اور رسولﷺ کا ارشاد پوچھے بلکہ ۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔کے بعد۔۔۔قران۔۔۔۔۔۔ہے وہ بھی اسی طرف ارشاد ہے اور مسلمان کی شان بھی یہی ہے ۔کےاللہ اور رسولﷺ کا ارشاد پوچھے نہ یہ کسی امام کے مذہب کا التزام کر کے یوں سوال کرے کہ امام کا کیا ارشاد  ہے۔پھر اللہ جانے اس آیت کو متنازعہ فیہ میں کیوں پیش کیا جاتا ہے۔اس آیت میں نہ اس التزام کا کوئی زکر ہے نہ اسی طرح سوالکرنے کا کوئی ارشاد ہے ان باتوں پر اس آیتسے استدلال کرنا الفاظ آیتسے نہایت بعید ہے تعجب  ہے کہ اصول فقہ میں تو خبر واحد سے مطلق کو مقید کرنے کی اجازت نہیں دی یہاں اپنی طرف سے ہی سب تصرفات ہو رہے ہیں۔

جہاں ہمارازوالجلال                 گدھا خچر سبھی حلال

واللہ ہمیں رہ رہ کرتعجب آتا ہے۔کہ ایک کام رسول اللہﷺ دو طرح سے کرتے ہیں۔جیسے نماز سے سلام پھیرکر کبھی دایئں طرف بیٹھنا کبھی بایئں طرف اس میں ایک جانب کا التزام تو شیطانی کام ہوجیسا کہ عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے۔اور ایک دوسرا  کام جس پر عمل ہونا توکجا قرآن وحدیث کے بھی خلاف ہے۔اور اجماع صحابہرجوان اللہ عنہم اجمعین  بلکہ خیر قرون  کی روش کے بھی خلاف  ہے۔بلکہ اصول فقہ کے بھی خلاف ہے۔اس کوآج رحمانی کام کہا جاتاا ہے۔بلکہ اعلیٰ سے بھی اعلیٰ درجے تک پہنچایا جاتا ہے۔یعنی فرض خیال کیا جاتا ہے۔

بہ بیں تفاوت رہ ازف کجا است تا بکجا

ناضرین خیال فرمایئں کہ افتاء کے گدی نشینوں کی بے خبری آج کہاں تک نوبت پہنچا رہی ہے خیر اور علوم خاص کہ قرآن وحدیث سے ان کی بے خبری تو کوکوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ تقلید کی اندھیری کوٹھری میں پڑے ہیں مگر جب ہم ان کے اصول فقہ میں جو ان کے تقلیدی مذہب کی روح رواں ہے کمزور پاتے ہیں تو بے ساختہ زبان سے نکل جاتا ہے۔

نہ خدا ملا نہ وصال صنم        نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

مولوی مرتضی حسن دیو بندی

شیطان غیر مقلد ہے۔

سوال۔مولوی مرتضی حسن نے العدل مجریہ 7 ستمبر  1927ء؁ میں لکھا ہے کہ۔قول خدا اور حدیث  رسولﷺ حکم ہے اور حکم اور ہوتا ہے اور دلیل اور آدم کو سجدہ کرو یہ حکم اپنے نفس کے لئے دلیل نہیں ہوسکتا۔جو اس کے حکم واجب التعمیل ہونے کے لئے دلیل ہے وہ یہاں مذکور نہیں ہے۔اس وجہ سے اس قول کو جس کے ساتھ واجب التسلیم ہونے کی  دلیل زکر نہیں کی گئی۔بلا دلیل تسلیم کرنا تقلید ہے اور شیطان نے اس حکم کو  بلادلیل نہ مانا غیر مقلد ہو کر کافر و مرتد ہوگیا ان کا یہ لکھنا کس حد تک درست ہے ؟(ایک سائل)

جواب۔شیطان چونکہ بحکم آیت کریمہ ۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔۔۔اپنی ہوا کا مقلد ہے۔اور مولوی مرتضیٰ حسن کو شیطان کامقلدین کے ساتھ ہونا گوارا نہیں تھا اس لئے انھوں نے اس کے غیرمقلد بنانے کی کوشش کی۔جس کی صورت انہوں نے یہ اختیار کی۔کہ تقلید کا معنی بدل دیا۔یعنی یوں کہا کہ اس قول کو جس کے ساتھ واجب التسلیم ہونے کی دلیلیں زکر نہیں کی گئی۔بلادلیل تسلیم کرنا تقلید ہے۔حالانکہ تقلید کا یہ معنی آج تک کسی نے نہیں کیا یعنی تقلید کی تعریف میں یہ کسی نے شرط نہیں کی کہ قول  کے ساتھ اس کے واجب التسلیم ہونے کی دلیل زکر نہ ہو بلکہ اگر قول کے ساتھ دلیل زکر ہو مگر وہ سمجھ نہ آوے اور اس حالت میں اس قول کو بغیر معرفت دلیل کے تسلیم کر لیا جائئے تو فقہاکی تعریف کے مطابق یہ تقلید ہوگی کیونکہ فقہا کے نزدیک تقلید یہ ہے کہ معرفت دلیل کے کسی قول کا لینا اور اگر دلیل کے تسلیم کرلیا جائے۔تو فقہا سنتے ہی دلیل کی طرف ذہن منتقل ہو جائے تو ایسی حالت میں اس قول کا رتسلیم کرنا فقہاء کے نزدیک تقلید نہ ہوگی۔کیونکہ قول کو بغیر معرفت دلیل کے نہیں لیا غرض دلیل کے زکر عدم زکر کو تقلید کی تعریف میں کوئی دخل نہیں قول خدا کے واجب التسلیم ہونے کی دلیل چونکہ قائل کا خدا ہوتا ہے جس کی طرف ہر یک کا ذہب فورا منتقل ہوجاتا ہے۔اس لئے شیطان اگر اس کو  تسلیم کرتا تو مقلد نہ ہوتا بلکہ نہ تسلیم کرنے کی صورت میں مقلد ہونا لازم آتا ہے۔چنانچہ نہ تسلیم کرکے بحکم آیت کریمہ ۔۔۔قرآن۔۔۔۔کا مقلد ہوگیا۔

سوال۔مولوی مرتضی حسن نے لکھا ہے کہ۔

شیطان یعنی یا تو خداوند کے قول اور اس کی حکومت کی وجہ سے اس کے قول کو مطلقا واجب التسلیم نہیں جانتا تھا یا جانتا تھا مگر یہ شرط تھی کہوہ قول موجہ اور حکمت کے موافق ہو اس کے قول کو عین حکمت نہیں جانتا تھا۔اور نہ انکارنہ کرتا اور تعمیل بھی کرتا اور نہ اگر تعمیل نہ ہوتی تو انکار تو ضرور نہ ہوتا اب ارشاد خداوندی اسجدو الآدم اس کے نزدیک بے دلیل تھا اب وہ سجدہ کرتا تو تقلید ہوتی او ر تقلید اس کے نزدیک ناجائز تھی۔لہذا وہ ترک تقلید کی وجہ سے کافر مرتد سب کچھ ہواگر اس نے اس قول کو بلا دلیل تسلیم نہ کیا۔العدل 7 سمتبر 1927ء؁مولوی مرتضی حسن کی اس  تحریر کا متعلق وضاحت فرمایئں۔

جواب۔مولوی مرتضیٰ حسن کے خیال میں شیطا ن باوجود خدا کو  خدا ماننے کے او باوجود فرشتوں کا استاد ہونے کے یہ نہیں جانتاتھا۔ کہ خدا عبث اور بیہودہ سے پاک ہے غلطی سے مبرا  ہے جس کا قول عین حکمت ہے۔دلیل اس کی یہ دیتے ہیں۔کہ شیطان نے انکار کیا اگر خدا کا قول عین حکمت سمجھتا تو انکار نہ کرتا اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جس نے سرکشی پر کمر باندھ لی ہو وہ باجود علم کے بھی انکار   پر تلا رہتا ہے۔کیاضد اور ہٹ دھرمی کا بھی کوئی علاج ہے۔میرے خیال میں مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے نزدیک شیطان انصاف  پرست تھا۔معاذاللہ

یہ تو ایسا ہوا جیسے آجکل کے بناوٹی صوفی کہتے ہیں کہ شیطان بڑا موحد تھا۔اسی لئے اس نے غیر کو یعنی (آدم ؑ) کو سجدہ نہیں کیا گویا خدا نے غلطی کی۔نعوذ باللہ من ذالک

مولوی مرتضیٰ حسن  بھلا یہ تو بتایئے۔کہ شیطان خدا کو خدا جانتا تھا۔یانہ اگر نہیں جانتا تھا تو مدت تک اس کی عبادت کیوں کرتا تھا۔اگر جانتا تھا تو کیا خدا کی خدائی اس کے نزدیک اطاعت کے لئے کافی نہ تھی۔بڑے تعجب کی بات ہے۔ کہ خدا کی خدائی کو عبادت کے لئے کافی سمجھے اور اطاعت کےلئے کافی نہ سمجھے حالانکہ اطاعت کا درجہ عبادت سے بہت کم ہے۔کیونکہ اطاعت تو غیر نبی کی بھی جائز ہے عبادت غیر کی جائز نہیں۔اس کے علاوہ اگر فرضی طور پر مان لیں کہ شیطان قول خدا کو حکمت کے موافق نہ جانتا تھا تو اس  سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مدلل بھی نہ جانتا ہو۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ  محکوم کو حاکم کی اطاعت ضروری ہے۔اور دلیل اس کی اس کا حکم ماننا ہے۔اگر باوجود محکوم ہونے کے کوئی بات حاکم کی مانے دوسری کو نہ مانے مثلا جو اس کے خیال میں معقول اور اس کی سمجھ میں حکمت کے موافق ہو وہ مانے دوسری کو نہ مانے تو وہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔اس کو محکوم نہ کہنا چاہیے۔کیونکہ محکوم کے معنی میں داخل ہے کہ حاکم کے سامنے سر جھکا دے۔اور اپنا دخل نہ رکھے۔اب شیطان کا خدا کے حکم کو تسلیم نہ کرنا اس  کی یا تو یہ وجہ ہوگی کہ اس کے خیال میں خدا حاکم نہیں ہوگا۔اور ہدایہۃ باطل ہے۔کہ شیطان کو خدا کے حاکم ہونے کی خبر نہ ہو یا یہ وجہ ہوگی کہ شیطان کو محکوم کے معنی  کا پتہ نہ ہوگا اور اس کا بطلان پہلے سے بھی زیادہ واضح ہے اب سرکشی اور تکبر کے سوا اور کون سی وجہ عدم تسلیم ہوسکتی ہے۔پھر معاذ اللہ خدا کی شان ایسی نہ تھی کہ شیطان کو واقعی خدا کے حاکم ہونے کا علم نہ ہوتا یا وہ  محکوم کے معنی نہ جانتا تو وہ ارحم الراحمین اس کو انا خیر منہ کا عذر کرنے پر یہ نہ فرماتا کہ فاخرج منھایعنی اس جگہ سے نکل جا بلکہ  پہلے اس کو اس بات سے واقف کرتا جس سے بے علم تھا۔ پھر اگر اس کے بعد اگر وہ نہ مانتا تو جو چاہتا اس کے ساتھ سلوک کرتا خدا کی ذات اس سے برتر ہے کہ وہ ناواقف کو راند دے اس سے بھی معلوم ہوا کہ شیطان بے خبری میں ہلاک نہیں ہوا بلکہ اس کو سب کچھ پتہ تھا۔اورآیت کریمہ ۔۔۔قرآن۔۔۔مین بھی اس طرف اشارہ ہے۔کہ محکوم کو حاکم کی فورا تعمیل کرنی چاہییے تھی تجھے اس تعمیل سے کس نے روکا اگر کوئی اورحکم دیتا تو اس میں شبہ بھی ہوسکتاتھا۔حکم تو خود میں نے دیا ہے۔پھر تعمیل کیوں نہ کی۔اور یہی وجہ ہے کہ اس حکم کی تعمیل نہ کرنے کا اور اسے انا خیر منہ کہہ کر ٹال دینے کا نام خدا نے سرکشی تکبر فسق وغیرہ رکھا ہے۔جیسے ایک آیت میں فرمایا ۔۔۔۔قرآن۔۔۔۔یعنی انکار کیا اور تکبر  کیا اور کافر ہوگیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ قول خداشیطان کے نزدیک مطلقا (بغیر شرط) واجب التسلیم تھا کیونکہ اس کی دلیل اس کے ذہن میں تھی۔یعنی قائل کا حاکم بلکہ خد ا ہونا مگر تکبر کی وجہ سے اس کو تسلیم نہ کیا اور خواہش کے پیچھے لگ گیا اورآیت کریمہ ۔۔۔قرآن۔۔۔۔وغیرہ بھی اسی مطلب کو ادا کر رہی ہے۔جس کا خلاصہ شیخ سعدی کے الفاظ میں یہ ہے۔

تکبر ٖعزا زیل را خوار کرو     بہ زندان لغت گرفتار کرو۔

مولوی مرتضیٰ حسن پر تقلیدی اثر ہے۔کہ اندھا دھند لکھتے چلے جاتے ہیں۔اور نتائج پرغور نہیں کرتےاس سے بڑھ کر اور سنیے۔مولوی مرتضیٰ حسن لکھتے ہیں۔جس طرح رسول اللہﷺ کی بات کو تسلیم کرنا امت کے حق میں تقلید ہے اسی طرح انبیاء ؑ کا باری تعالیٰ کے قول کو بلا دلیل تسلیم کرنا یہ بھی تقلید ہوگا۔(العدل مارچ 1929ءص3)

گویا مولوی مرتضیٰ حسن صاحب کے اعتقاد میں شیطان کی طرح انبیاء ؑ بھی خدا کے قول کو عین حکمت یاحکمت کے موافق نہیں جانتے فرق صرف اتنا ہے۔کہ شیطان تسلیم نہ کرنے سے غیر مقلد ہوگیا اور انبیاء  ؑ  تسلیم کر کے مقلد ہوگئے۔

ناضرین خیال فرمایئں۔کہ یہ انبیاء ؑ کے حق میں کس قدر گستاخی ہے کہ معاذاللہ ان کا اعتقاد شیطان کا اعتقاد بتایا جاتا ہے۔سچ ہے۔

تاوک نے تیرے صید نہ چھوڑ زمانہ میں تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانہ میں

تعجب

مولوی مرتضی حسن پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس محل میں اصول فقہ کی بھی کچھ پرواہ نہ کی اصول فقہ میں صاف لکھا ہے کہ قرآن وحدیث کا ماننا تقلید نہیں چنانچہ تحریمہ ابن الہام کے اخیر میں ہے۔ليس الرجوع الي النبي صلي الله عليه وسلم والا جماع منه

''یعنی  رسول اللہﷺ کی طرف اور اجماع کی طرف رجوع کرنا تقلید  نہیں۔''

خدا جانے یہ لوگ تقلید کی محبت میں کیوں ایسے سرشار ہیں۔ کہ اپنا اصول بھی بھول جاتے ہیں۔یکے برسر شاخ دبن مے برید والا مضمون ہے۔یعنی مذہب کے خیر خواہ بن کر مذہب کی بیخ کنی کررہے ہیں۔

اے چشم اشکبار !ذرا دیکھنے تو دے     ہوتا ہے جو خراب وہ میرا ہی گھر نہ ہو۔

بلکہ خود مولوی مرتضیٰ حسن نے بھی اس کی تصریح کی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اطاعت تقلید کے معنی سے عام ہے۔خدائے قدوس اورسرور عالم ﷺ کی اطاعت کو تقلید نہیں کہا۔(العدل 18 فروری 1929ء؁ص3)

مجتہد کا قول فی نفسہ حجت شرعیہ نہیں۔اورخدا وند عالم جل مجدہ اور سرور عالم ﷺ کا قول فی نفسہ حجت شرعیہ ہے ۔(العدل 18 فروری 1929ء؁

پس مولوی مرتضیٰ حسن نے اپنی تقریر پر پانی پھر دیا اور صاف غیر مقلد ہوگئے۔نتیجہ یہ کہ تقلید ایک ایسا ٹیڑھا راستہ ہے۔جس پر چل کر مقلد کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔اس وجہ سے دنیا کی مشہور ہستیوں نے تقلید کو گمراہی اورخود کشی سے تعبیر کیا مثلا مولانا جلال الدین رومی اپنی مثنوی میں فرماتے ہیں۔

آں مقلد ہست چوں طفل علیل       گرچہ وارد بحث باریک ودلیل

حضرت شیخ سعدی مرحوم فرماتے ہیں۔

عبادت بہ تقلید گمراہی است خنک راہردے راکہ آگاہی است

عصر حاضر کے مشہور شاعر سر اقبال مرحوم فرماتے ہیں۔

تقلید کی  روش سے تو بہتر ہے خود کشی   رستہ بھی ڈھونڈخضر کا سودا بھی چھوڑدے۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تقلید کے پھندے سے محفوظ رکھے ۔آمین

(عبد اللہ امرتسری روپڑی 24 ربیع الاول 1364ء؁ ۔فتاویٰ اہل حدیث جلد اول)

ترک تقلید اور اہل حدیث

(از مولانا محمد اسماعیل شیخ الحدیث گوجرانوالہ )

مدت سے یہ دونوں لفظ عوام کی زبان پر استعمال ہورہے ہیں۔اورانہیں عموما ً مترادف سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں دونوں لفظ آئمہ اربعہ اور ان کی طرف منسوب مسالک کی پابندی کے خلاف استعمال کئے گئے ہیں۔حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جمود کی مخالفت ان آئمہ کرم اور ان کے اتباع نے بھی کی ہے اس کے بعد محقق اہل علم آئمہ اربعہ کے ساتھ عقیدت اور ان کے علوم سے استفادہ کے باوجود بعض فروعی مسائل میں آئمہ اربعہ اجتہاد سے اختلاف کا اظہار بھی فرماتے رہے۔امام جعفر طھاوی 321 ہجری۔امام ابو براہیم اسماعیل بن یحیٰ المزنی ؒ 364 ہجری۔شیخ الاسلام محمد بن قدامہ الحنبلی 607 ہجری۔حافظ ابن تمیمیہؒ 728 ہجری۔وغیرہم آئمہ اربعہ سے بعض کی طرف انتساب کے باوجود ان سے اختلاف فرماتے ہیں۔اور اس سے ان بزرگوں اور ان کے متوسلین میں کوئی زہنی تکدر نہیں پیدا ہوتا۔اور ان کے علم اور دین میں کوئی حرف آتا۔علامہ ابو زید عبد اللہ بن عمر بن عیسیٰ البوسی 430 ہجری کی کتاب تاسیس النظر میں حضرات آئمہ اجتہاد کے اختلافات کی معتدد صورتیں مرقوم ہیں۔

1۔حضرت ابو حنیفہ اور صاحبین میں اختلاف

2۔حضرات امام صاحب امام ابو یوسف اورامام محمد میں اختلاف

3۔امام صاحب امام محمد اور امام یوسف میں اختلاف

4۔امام ابو یوسف اورامام محمد میں اختلاف

5۔امام ابو یوسف اور امام محمد اور حسن بن زیاد اور امام زفر میں اختلاف

6۔احناف اور امام مالک میں اختلاف

7۔احناف اور امام ابن ابی لیلیٰ میں اختلاف

8۔احناف اور امام شافعی میں اختلاف

علامہ دبوسی نے ان کے اصول کا بھی زکر فرمایا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ آئمہ مجتہدین میں باہم اصولی اختلاف تھے۔پھر یہ خیال کہ امام شافعی ۔امام ابو حنفیہ۔امام احمد۔ امام مالک۔وغیرہم میں تواصولی اختلاف ہے۔لیکن ان کے تلامذہ میں اصولی اختلاف نہیں۔سطحی معلوم ہوتا ہے۔کسی تحقیق پر مبنی نہیں محض خوش فہمی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ تلامذۃ اپنے اساتذہ سے اسی طرح اختلاف فرماتے جس طرح اساتذہ میں باہم اختلاف تھا۔حضرات آئمہ اور ان کے تلامذۃ کے اختلافات بھی اسی طرح اصولی ہیں جیسے خود آئمہ مجتہدین میں کمی بیشی ہوسکتی ہے نوعیت میں فرق نہیں۔

لفظ غیر مقلد کی ایجاد

معلوم ہوتا ہے اس وقت غیر مقلد کالفظ یا تو ایجاد ہی نہیں ہوا ہوگا یا پھر بطور طعن اس کا استعامل نہیں کیا گیا۔آئمہ اسلام علماء امت میں مروج نہیں ہوا تھا یا کوئی سیاسی ضرورت ہی نہ تھی جس کے لئے یہ لفظ ایجاد کیا جاتا۔اسی طرح تقلید بھی کوئی قابل فخر لقب نہیں تھا۔جس کے ترک کوعیب سمجھا جائے یا اس کے ترک پر کم از کم افسوس کا اظہار کیا جائے۔بلکہ آئمہ معقول فلاسفہ و متکلمین کے نزدیک چونکہ منقولات کا مقام کسی طرح بھی ظن سے اونچا نہیں۔اس لئے وہ اہل سنت ہو فقیہ ہو یا غی فقیہ مجتہد ہو یا غی مجتہد مقلد کہتے ہیں۔اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ان کے ہاں دلیل کا انحصار صرف عقلیات پر ہے۔ امام غزالی فیصل التفرقہ میں الاسلام ولذنادقہ میں معتزلہ اور اشاعرہ کے خیالات میں الزامی تقابل اور باہم اکفار وتکفیر کے تذکرہ میں فرماتے ہیں۔

''اگر کوئی ان الزامات  کے جواب سے عاجز آجائے تو وہ مقلد ہے۔اور مقلد سے گفتگو کی بجائے خاموشی بہتر ہے۔(ص18)''

قرون کے بعد عمل و اعتقاد کی دنیا میں عجیب اضطراب معلوم ہوتا ہے۔تقلید یا جمود تو کیا ہوگا۔اعتقاداور فروع کے معاملہ میں فکر ونظر اور فقہ واجتہاد کئی مختلف گوشوں میں نظر آتے ہیں۔مثلا غسان ابن ابان کوفی۔اور فرقہ غسانیہ کے پیشوا اور امام ہیں اور امام محمد بن حسن شیبانی کے شاگرد ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے منکر ہیں۔(الخطط للمقریزی ج4 ص 171)

اور اہمان کی زیادت اور نقصان کئے مسئلے میں حضرت امام ابو حنیفہ کے ہم نوا ہیں۔یعنی ایمان کی زیادتی اور نقصان کے قائل ہیں۔

''فرقہ مریسیہ کے امام بشر بن غیاث مریسی کے متعلق مقریزی  لکھتے ہیں۔

كان عراقي المذهب في الفقه تلميذ للقاضي ابي يوسف يعقوب الحضرمي

امام شافعی ؒ سے اس کا مناظرہ ہوا امام نے اس کے خیالات کا مذاق اُڑایا ۔فرمایا۔

نصفك كافر لقولك بخلق القران ونفي الصفات ونصفك مومن لقولك بالقضاء والقدر وخلق اكتاب

(مقریزی ج4 ص171)امام شافعی ؒ نے بشر مریسی سے کہا کہ تم آدھے کافر ہو کہ تم قرآن کو مخلوق سمجھتے ہو اور صفات باری کی نفی کرتے ہو۔اورآدھے مومن ہو کیونکہ تم قضاء قدر کو مانتے ہو۔اور انسانی اعمال کا خالق اللہ تعالیٰ کو سمجھتے ہو۔

مقلد اور غیر مقلد کی اصطلاح

عقیدت کی اس تقسیم اور عقائد فروع میں عقیدت کے اس قضا کے باوجود غیرمقلد یا مقلد کی اصطلاح اس وقت استعمال نہین ہوئی۔اور مائل کی بنا پ ایک دوسرے کے خلاف فتوے بھی استعمال ہوئے۔لیکن اشخاص سے عقیدت اور اس کے تغیر کی بنا پرنہ ی نفرت پیدا ہوئی۔اور نہ ہی ان جوہری اختلافات کے باوجود تنا بز بالالقاب کا شیوہ اختیار کیا گیا۔

حکومت اور مذاہب کی ترویج

تقلید کا رواج پا جانے کے بعد مروجہ مذاہب محض علم و  تفقہ یا تعلیم و تلمیذ کی بنا پر ہی اخیتار نہیں کئے گئے۔بلکہ اس میں حکومت کے ریحان اور وقت کے سیاسی عوامل کو بھی کافی دخل رہا۔عہدہ قضاء کی بھی ان عقائد و خیالات کی ترویج میں کافی حصہ ہے۔افریقہ میں عموماً سنت اور آثار کی پابندی کارواج تھا۔عام لوگ مسلک اہل حدیث کے پابند تھے۔لیکن خلیفہ مرتضیٰ بن ہشام بن عبد الرحمٰن 180ہجری میں افریقہ کے حاکم مقرر  ہوئےتو انہوں نے یحیٰ بن کثیر کو افریقہ کا قاضی مقرر کیا یہ امام مالک کے شاگرد ابن وہب 197ہجری میں اور ابن قاسم  سے بھی ان کو تلمذ حاصل تھا اندلس میں ان کا بے حد احترام کیا جاتا تھا۔ان کے حکم کے بغیر کوئی قاضی مقرر نہیں کیا جاتا تھا۔اور یہ انہیں علماء کو منتخب فرماتے جو امام مالک کے عقیدت مند ہوتے مقریز ی فرماتے ہیں۔فتویٰ کا مدار یحیٰ بن یحییٰ پر تھا۔سلطان اور  عوام ان کے محتاج تھے ان کے خلاف منشا کوئی قاضٰ مقرر نہ ہوتا تھا اس سے پہلے لوگ امام اوزاعی کے عقیدت مند تھے اب سب مالکی ہو گئے۔اسی طرھ جب ہارون رشید بغداد میں مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو انہوں نے عقیدت امام ابو یوسف کو 170 ہجری میں پوری فلیم رو کا قاضی مقرر کیا۔

فلم يقلد ببلاد العراق وخراسان والشام ومصر الا من اشاربه القاضي ابو يوسف

(مقریزی ص 144 ج 14)یعنی ہاروں رشید نے 170 ہجری میں محکمہ فقہا کے تمام  کے اختیارات قاضی ابو یوسف کے سپرد کر دیئے۔ان  کی اجازت کے بٖغیرکوئی قاضی نہیں بن سکتا تھا۔اس کا اثر یہ ہوا کہ عراق اور اس طرف سے آنے والے تمام فارتح اور مبلغ امام فقیہ الصداق سے متاثر ہوگئے اور فقہی مسائل میں امام ابو یوسف وغیرہم سے وابستہ رہے۔یہ سیاسی  اور معاشی اثرات ہیں جو دلائل کے علاوہ ان مذاہب کی اشاعت میں موثر رے اور عوام کا تاثر علی العموم انہی وجوہات کا مرحوں ہے ورنہ عوام فہم و بصیرت اور دلائل کی قوت و ضعف سے چنداں آشنا نہیں ہوئے۔نہ ہی وہ مختلف فیہ امور میں ترجیح  دے سکتے ہیں۔نہ ہی دلائل میں توازن قائم رکھ سکتے ہیں۔علماء گو دلائل کی قوت اورضعف کو سمجھتے ہیں لیکن بیرونی اثرات سے وہ بھی بے نیاز نہیں ہوسکتے۔مدارس اور مساجد کی  تاسیس امراء اور ملوک کی کوششوں سے ہوتی اور علماء کو ہاں کام کرنے کےلئے ارباب اقتدار سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوتا ۔مقریزی فرماتے ہیں۔

''سلطان صلاح الدین ایوبی نے سرزمین مصر سے شیعی مذاہب کو ختم کر کے وہاں شوافع اور مالکی مکتب فکر کے مدرارس جاری کر دیئے جس طرح نور دین محمود زنگی نے دمشق اور حلب میں شافعی اور حنفی مدارس قائم کردیئے تھے۔(اخطط ج4 ص92)

اس تاریخی پس منظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقہی مکاتب فکر اور عقائد کے  اختلافات  میں جو فرقے نمودار ہوئے۔ان میں مختلف موثرات کار فرما تھے بعض اوقات ان کی تبدیلیاں علم نظر استدلال اور  حجت کی وجہ سے ہوئیں کبھی ان تبدیلیوں کی محرک معاشی مشکلات تھیں کبھی اقتدار ور ارباب اقتدار کے ساتھ تعلق نے مسلک اور خیالات میں تبدیلی کی صورت اختیار کر لی۔اور ابتدائی زمانوں میں یہ تبدیلیاں اس کثرت اور اس عجلت سے ہوتی رہیں کہ ان سے کوئی ہنگامہ بپانہیں ہوا بلکہ قدرتی یا طبعی معمول تصور ہوتا رہا عقائد کی تبدیلیاں بعض اوقات غیر معمولی صورت اختیار کرتی رہیں۔خصوصا  جب حکومت نے کسی فرقہ کی سرپرستی اور حکومتی سطح پر اس فرقہ کی حمایت کی جیسے مامون الرشید کا طبعی رجحان تشیع اور اعتزال کی طرف ہوگیا۔اس کے بعد واثق باللہ۔اور معتصم باللہ نے بھی ائمہ سنت او ر علمائے حدیث پر زندگی کی راہیں تنگ کردیں۔کچھ لوگ تو خاموش ہوگئئے۔اور بعض نے ظاہرآہاں میں ہاں ملانی شروع کر دی اور بعض کھل کر سامنے آگئے۔اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حکومت سے مقابلہ کیا۔اور قید وبند کے لئے اپنے آپ کوپیش کردیا۔آئمہ حدیث پر یہ مصیبت متوکل علی اللہ کے وقت تک قائم رہی۔متوکل پہلا آدمی ہے۔جس نے آئمہ حدیث اورداعیان سنت سے پابندیاں اُٹھائیں۔اپنا رجحان بھی بظاہر آئمہ حدیث کی طرف رکھا۔لیکن اس کے باوجود کسی کو مجبور نہیں کیا۔کہ ان رجحانات کو ضرور قبول کرے۔اس اضطراب میں بھی ترک تقلید کے الفاظ کو محبت اوربغض کا معیار نہیں قرار  دیا گیا۔نہ اسے اہمیت دی جو آجکل کے اہم علمی حلقوں میں اسے دی جارہی ہے۔

صداقت کا معیار

عقول کی طغیانیوں اور درایت کی ان بے قراریوں میں صداقت کا معیار آئمہ سنت اور علماء حدیث ہی تھے۔جس قدر یہ  گروہ حدیث اور علماء حدیث سے قریب ہوسکتا اسی قدر وہ اپنی صداقات پر ناز کرتے اور نقل روایت میں ان سرفن پر پورا پورا اعتماد فرماتے۔جاحظ معتربی معتربی اور آئمہ اعترال کے امام ہیں لیکن اس وقت کے کے حوادث میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے حامی اورا پنے کو حق پر سمجھتے ہیں۔حضرت  عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حمایت میں انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام العثمانیہ ہے اس کتاب میں علمائے اہل حدیث کے متعلق فرماتے ہیں۔

واصحاب الاثر من شانهم روواكل ما صح عندهم عليهم كان اولهم

(العثمانیہ ص 152)یعن اہل حدیث ہرصحیح چیز کو بیان کردیتے ہیں۔ان کے حق میں ہو یا ان کے خلاف ''

عقائد اور فروع کے اختلاف اور آرا و افکار کی تبدیلیوں کے باوجود مقلد یا غیر مقلد ایسے القاب کا استعمال بطور واقع تو ہوتا رہا ہے۔لیکن بطور عیب اور طعن یا تعریف و توصیف بالکل  نہیں ہوا۔غالبا اسی لئے کہ اس وقت وہ سیاسی وجوہ موجود نہ تھے۔جو آج کل اس بالالقاب کا سبب بن رہے ہیں۔عوام توعوام ہیں۔اچھے علماء اور اصحاب التدریس بھی ان القاب کا ستعمال مدح اور روم کی نیت سے فرماتے ہیں قد ما اہل علم میں یہ انتساب بھی ہوتا رہا۔اور ایسے لوگ بھی ہر زمانے میں رہے۔جو کتاب و سنت سے براہ راست اپنی بساط کے مطابق استدلال فرماتے اور نسبتوں سے بالکل بے نیاز ہوتے اامام ابو جعفر منصور نے امام مالک کے سامنے تجویز پیش کی کہ موطا کو پوری قلیم رو میں دستوری حیثیت دے دی جائے۔امام مالک نے یہ تجویز مسترد کردی اور فرمایا۔

ان اصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم  تفرقوا في البلاد فافتي كل في مصره بماراي فلا هل المدينة قول ولا هل العراق قول تعدو فيه طور همراه

یعنی صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  مختلف شہروں میں پھیل گئے ہرایک نے ہرشہر میں اپنی صوابدید کے مطابق اہل حدیث کا بھی قول ہے۔اوراہل عراق کی بھی ایک رائےجو ان کے حالات کے مطابق نافذ ہورہا ہے۔امام مالک نے شخصی آراء و افکار کی قانونی پابندی کا انکار فرمادیا اور مختلف اقوال کی مختلف ممالک میں اجازت دی اور جموداور شخصی پابندی کو پسند نہیں فرمایا خلیفہ ابو جعفر نے اسے معقول سمجھ کر  اپنا ارادہ بدل لیا۔شیخ ابو اسحاق ابراہیم بن حسین بن خالد  245ء؁ بڑے عالم اورفقیہ تھے۔

وكان يذهب الي النظر وترا ء التقليد

(دیباج  ص 84)شیخ اسماعیل بن اسحاق بن ابراہیم (384ہجری) کے متعلق مرقوم ہے۔

كان من اهل الفقه والحديث وغلب عليه الحديث وكان فتياه بما ظهر من الحديث

(دیباج ص95)یعنی شیخ اسماعیل بن اسحاق فقہ تھے حدیث کی طرف ان کا زیادہ رجھان تھا۔اورظاہر الفاظ حدیث کے مطابق فتویٰ دیاکرتے تھے۔

شیخ قاسم بن محمد قاسم(207 ہجری) کے متعلق مرقوم ہے۔كان مذهب الحجة والنظرایعنی دلیل کے پابند تھے۔وقت ک بعض مشاہیر کے خلاف کتاب لکھی اس کا نام رد علی المقلد رکھا دیباج ص222 یعنی ابو عبد اللہ بن بشکوال پہلے شافعی تھے پھر اسے ترک کردیا ان کے متعلق مشہور ہے۔كانت له مذالهباخذ بها في خاصة نفبسه خالففيها اهل قطره(دیباج ص272) ان کے کچھ تفردات تھے جن میں وہ اپنے ہم وطن علماء کے خلاف فتویٰ دیتے تھے۔شیخ ابو محمد عبد اللہ الاصیلی 393 امام دارقطنی کے استاد تھے امام مالک کے مذہب کے حافظ تھے۔ترك التقليد وكان من ا علم الناس بالحديث وابصرهم(دیباج ص139)
یعنی آخر میں تقلید ترک کر دی تھی۔حدیث ک بہت بڑے ماہر تھے۔''

طبقات کی کتابوں کو غورسے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے۔کہ ہرزمانے میں ایسے لوگ کثرت سے ملتے ہیں جو مروجہ تقلید کے پابند نہ تھے۔دلائل سے تمسک کرتے تھے۔اوراپنے وقت میں قیادت اور امامت کے مقام پر فائر تھے علماء اورعوام میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔آج کی طرھ تنضر تبابز بالاالقاب کا رواج اس وقت موجود نہ تھا اہل حدیث اصحاب الحدیث اصحاب الاآثار وغیرہ ناموں سے بوقت ضرور ان  زکر ہوتا تھا۔جمود اور تقلید کے متعلق اجماع کا دوعویٰ جس کازکر عاسطحی قسم کے لوگ بلاتحقیق کردیتے ہیں۔درست نہیں یہ درست ہے کہ دونوں رجحان موجود رہے۔اور علم و نٖظر کی کثرت یا قلت کے سبب ان میں کمی بیشی ہوتی رہی۔طعن و تشنیع کے بٖغیر لوگ اپنے اپنے حالات کے مطابق عمل کرتے ہے علماء تحقیق بحث و نظر سے  سائل پر گفتگو فرماتے رہے۔اور ان پ اعتما د کرتے ہوئے اسلام پرعمل کرتے رہے۔

اس طرز عمل کے سبب

اس طرز عمل کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے۔کہ قرون خیر میں کوئی اعتقادی فرقہ نہ تھا۔باہمی رنجشوں سے بعض اوقات اختلافات ہوئے لڑائی اور نزاع تک بھی نوبت آئی لیکن اعتقاد میں کوئی اختلاف نہ تھا۔شیعہ سنی نزاع میں تفصیل یا طبعیت کے رجحان کے ہوا کچھ نہ تھا بعض واقوات سے مختلف طبائع نے مکتلف اثر لئے اور ان اثرات کی وجہ سے کوئی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی مظلومیت اور ایسے وقت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی خاموشی سے کسی نتیجے پر پہنچا کوئی حادثہ کربلا اور اس میں صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے طرز عمل سے متاثر ہوا اسلام یا کفر یا اعتقاد کے بگاڑ کی حد تک معاملہ نہیں پہنچا۔ان مجادلات کی جو اس وقت ہوئے ہر ایک نے اپنی معلومات سے اور اپنے نقطعہ نظر سے توجیہ کی۔

دوسری صدی میں جب یونانی علوم سے مسلمان واقف ہوئے ان سے صفات باری اس کی وحدانیت میں شبہات پیدا ہوئے آئمہ سنت نے ان پر کڑی تنقید تقلید فرمائی مصائب میں مبتلا ہوئے حکومت اور بعض ارباب اقتدار بھی اس دور میں بعد نکلے آئمہ سنت نے بھی اپنی ذمہ داری کو محسوس کیا اور قید وبند اور کوڑوں کی  سزا سے بھی نہ گھبرائے۔ہر ایک نے فکر منظر کی اب بدعات سے بچ نکلنے کی کوشش کی آئمہ حدیث اور ارباب سنت کے پاس و قرآن وسنت موجود تھے۔وہ ان اضطرابات سے بہت کم گھبرائے بلکہ مقابلے کے لئے یہ ان میں آگئے۔او ر قرآن وسنت کی ہدایت کے مطابق ر،ہنمائی فرمائی آئمہ بدعت کے خلاف مجاہدانہ اقدامات فرمائے ذات اور صفات جاری ک متعلق جو ہنگامہ بپا کیا  گیا تھا۔کتاب وسنت کی ہدایت کے مطابق اہل بدعت پر تنقید فرمائی۔عوام کو بھی سمجھایا کہ وہ ان غلط کار لوگوں سے بچیں۔

جولوگ کتاب وسنت پرصحیح عبور نہیں رکھتے تھے۔انہوں نے ان بدعات سے آئمہ سنت اور بعض مخصوص علماء کے ساتھ اپنا تعلق پیدا کیا اور ان کے ساتھ اخلاص و محبت کی بنا پر ان کے خیالات کو اپنا ر ہنما بنایا۔اورعجیب اتفاق ہے۔کہ اعتقادی مسائل میں یہ سب حضرات آئمہ متفق تھے اصول عقائد کے سبب سے ان بزرگوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔لیکن فروع میں یہ حضرات مختلف تھے۔عوام ان اختلافات سے متاثر ہوئے اپنے اپنے بزرگوں سے عقیدت کی بنا پر ان فروعی مسائل کا اتباع کرتے رہے۔بتدریج اس محبت نے جمود اور تقلید کیصورت اخیار کرلی۔جس کے نتیجے مین ایک دوسرے کے خلاف تلح اور تیز الفاظ کا استعمال ہونے لگا۔اورنوبت سوئے ادب تک پہنچ گئی۔مقلدین آئمہ سے متاخرین کی کتابیں اگرآپ مطالعہ فرمایئں گے۔توآپ کو اس بے ادبی کی بڑی مثالیںملیں گی۔اور یہ تمام حوالے آپ کو آئمہ کی اتباع میں ملیں گے۔امام شافعی ۔اور امام ظاہری کو جاہل تک کہا گیا۔(نور الانوار)اس تقلید سے اسف قدر توفائدہ ہوا کہ لوگ علماء بدعت معتزلہ ۔جہمیہ۔خوارج۔اور روافض  وغیرہ سے بچ گئے۔لیکن آپس مین جس محبت کی ضرورت تھی وہ ن رہی۔اتباع آئمہ آخری ادوار میں اس طرح الجھ گئے۔متاخرین کے جمود کو اگرنظر انداز کردیا جائے۔تو ابتداء میں آئمہ کی اقتدا سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا۔اس دوور میں عقیدت کے باوجود ان آئمہ سے اختلاف بھی ہوتا تھا۔اس دور کے اہل علم تفرد سے گھبراتے تھے۔نہ تلقین کی آراء میں جمود کی دعو ت دیتے تھے۔نہ اس تفرد اور تھقیق کو تنابز بالالقاب کا موجب بنائے تھے۔اس تقلید سے اس وقت کے آئمہ تحقیق کوچنداں اعتراض نہ تھا۔آئمہ حدیث اس وقت بھی اپنی روش پر قائم تھے اور اس نوع کی تقلید کو بھی اپنے لئے پسند نہیں فرماتے تھے۔وہ ان بدعات سے بچنے کے لے آئمہ سلف کی روش کو کافی سمجتے تھے اشخاص سے عقیدت ان کے اجتہادات کی انفراد آور شخصا پابندی کی بجائے انہوں نے دو صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  کے فکر اور انداز فکر کو اپنے لئے مشعل راہ بنایا اور اس کھلی فضا میں رہ کر وہ وقت کی بدعت عقیدہ اورعمل کی محدثات سے محفوظ رہے۔اور جمود کی مقرندوں سے بھی انھٰں کوئی دکھ نہ پہنچا۔یہ لوگ حدیث سے براہ راست وابستہ رہے۔نصوص کے فہم میں صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  اور تابعین کے مقدس دورپر  اعتماد فرماکر  متاخرین کی فقہی موشگافیوں سےمستغنی ہوگئے۔ اس روش کو نہ ان کے مخالفین نے غیرمقلدیت کہا نہ انہون نے اس عنوان کے ایثار میں کوئی فخر ہی مھسوس فرمایا۔دونوں اسے اہل حدیث اصحاب الحدیث اہل  الاثر وغیرہ عنوانات سے تعبیر فرماتے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو عزت کی نظر سے دیکھتے درس کی مجالس میں اپنی تحقیق سے طلبہ کو متاثر فرماتے۔

بنا بر دلائل خود مسلک بدلنے میں تامل نہ فرماتے اس تبدیلی کے باوجود  نہ ایک دودسرے کے متعلق آنکھیں بدلتیں نہ دلوں میں بغض پیدا ہوتے اور اختلافات قائم بھی اپنے گوارا بھی ہوتے اختلاف میں بھی اعتدال قائم رہتا۔

اہل حدیث اورغیر مقلدین میں ترادف نہیں

اس وقت عموما مخالف حلقوں میں اہل حدیث اورٖغیر مقلد دو اہم اہل حدیث اور غیر مقلد دو اہم معنی لفظ سمجھے جاتے ہیں۔اوراہل حدیث حضرات بھی اسے گواراکرتے ہیں۔لیکن واقعتاً یہ درست نہیں اعتقادی  بدعات کے دور میں ایسے لوگ ملتے ہیں۔کہ وہ حنفی بھی ہیں۔معتزلی بھی شافعی بھی مالکی بھی حتیٰ کہ حنابلہ بھی کلام اور فلسفہ سے متاثر ہونے کے باوجود فروع میں اپنے آئمہ سے وابستہ رہے۔اشعریت ماتریدیت کا بھی ان فرعی مسائل سے بنیادی فرق تھا۔لیکن اس وق بھی اہل حدیث مروج تقلید سے انحراف کے باوجود کلام کی جدید راہوں سے چنداں متاثرنہیں ہوئے بلکہ یہ لوگ ان جدید اعتقادات اور نئی نئی الحادی تعبیرات سے برسر پیکار ہے۔عقائد اور فروع میں ان کی راہ قدیم اورجدید تشریھات او تصریھات سے مختلف رہی وہ مثبت طور پر اصول اور فروع میں آئمہ سلف کی روش ان کے ارشادات اور ان کی تصریحات کے پابند رہے اور منفی طور رپر وہ کسی خاص فرد امام ہو یا مجتہد اس کی آراء کی جامد اور کلی پابندی نہیں فرماتے تھے۔اس لئے ہر غیر مقلد کو اہل حدیث نہیں کہا جاسکتاالبتہ ہر اہل حدیث کے لئے ضروری ہے کہ جمود او تقللید سے الگ رہے۔ہمارے قریبی دور کے کچھ ایسے افراد  طبقات میں جن کو ترک تلقید کے باوجود اہل حدیث نہیں کہا جاسکتا۔بلکہ اہل حدیث نے ان کے خلاف تنقید میں قیادت فرمائی اس لئے ان کا تعلق آئمہ سلف سے قائم نہ رہ سکا اور فہم دین میں خیرالقرون کے طریقہ کو ضروری نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی آراء کو بعض دفعہ ترجیح دیتے تھے مثلا

1۔سرسید احمدخاں بانی جامعہ علی گڑھ بڑے آذادخیال تھے۔رفع الیدین اورآمین بالجہر بھی سناہے بڑے التزام سے کرتے تھے۔لیکن یورپ کے مستشرقین اورغیر مسلم مشنریوں اور سماجوں سے مرعوب تھے وہ اسلامی حقائق کی وضاحت مین تقلیدی افکار و نظریات کے پابند تو نہ تھے۔لیکن معجزات اور بعض دوسرے مسائل میں ان کی آذادی آوارگی کی حد تک تھی۔اس لئے وہ غیر مقلد تو ہوں گے۔لیکن وہ اور ان کے ہم خیال ساتھی اہل حدیث نہیں تھے۔غالبا وہ بھی اس لقب کو پسند نہیں کرتے تھے۔اور اہل حدیث نے بھی ان کو کبھی نہیں اپنایا بلکہ اشاعت السنۃ اخبار اہل حدیث میں ان کے خیالات پر مسلسل تنقید ہوتی رہی۔اس سے پہلے حضرت مولانا سید محمدصدیق حسن خاں نے اپنی متعدد تالیفات میں بھی موصوف کی گمراہیوں اورکج رویوں پر آگاہ کر دیا تھا۔

2۔مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بریلوی حنفی ظاہر کرتے تھے۔لیکن حقیقت میں وہ حنفی بھی نہیں تھے اہل حدیث تو کیاہوئے۔البتہ غیر مقلد ہوسکتے ہیں۔کیونکہ وہ نہ فقہ حنفی کے پابند ہیں نہ صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین  اورتابعین آئمہ سلف کی روش پر چلنا پسند کرتے ہیں۔تنقید حدیث کے متعلق وہ آئمہ حدیث کی بجائے اپنی ذات کو معیادسمجھتے ہیں۔اس لئے ترک تقلید کے باوجود اہل حدیث نہیں ہیں۔

3۔مولوی عبد اللہ چکڑالوی سنا ہے پہلے رسمی حنفی تھے پھر ترک تقکید کے ساتھ حدیث کی طرف جھکے لیکن انہیں جلدی معلوم ہوا کہ ان کا مزاج ھدیث پر مطمئین نہیں ہوگا سنا ہے طبعیت میں غلو اور تقشف تھا۔ایسے آدمی کےلئے اہل حدیث ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔چنانچہ وہ اور مولوی حشمت علی رمضان گوجرنوالہ رشید الدولہ وغیرہم گجرات ملتان اورڈیرہ غاذی خان کے منکرین حدیث اور ہمارے ہم عصر غلام احمد پرویز۔یہ حضرات آوارہ مزاجی کے لہاظ سے صرف غیر مقلد ہوسکتے ہیں بلکہ نفس اسلام کی پابندیوں سے بھی کافی حد تک آذاد ہیں۔اس لئے وہ احادیث اورآئمہ سلف کی پابندیوں خود ہی پسند نہیں کرتے تھے۔بلکہ قرآن کی ترمیم بھی اپنی خواہش اوررائے سے فرماتے ہیں۔ہم بھی انہیں غیرمقلد سمجھنے کے باوجود اہل حدیث نہیں سمجھتے۔انکار حدیث کے بعد اہل حدیث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

4۔ہمارے پرانے ساتھی حکیم عبد لرحیم اشرف لائل پوری جماعت اسلامی سے علحیدگی کے بعد جماعت اہل حدیث سے بھی الگ ہورہے ہیں۔اور مروجہ تقلیدی مسالک سے بھی ان کا کچھ نمایاں تعلق معلوم ہوتا ہے۔وہ آجکل تقریبا ملا اعلیٰ کے قریب تشریف رکھتے ہیں۔وہ کسی ہائی قسم کے اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔یا دیناچاہتے ہیں۔جوموجودہ اسلام پسند اور دین پر ور جماعتوں میں نظر نہیں آرہا اس  لیے وہ اصل اسلام کے لئے آجکل کافی پریشان نہیں اللہ تعالیٰ ان کی راہمنائی فرمائے۔ان کے انداز سےمعلوم ہوتا ہے۔وہ اہل حدیث سے کافی چڑے ہوئے ہیں۔اور اس غریب جماعت سے آجکل ناراض ہیں۔لیکن ہمیں اس سے کوئی بحث نہین البتہ خطرہ ضرور ہے۔ان کی اس تلقین سے نہ مقلد پیدا ہوں گے نہ اہل حدیث البتہ غیر مقلد شاید پیدا ہوجایئں ہماری دانست میں وہ اب بھی اہل حدیث ہیں۔لیکن وہ فرماتے ہیں۔ہم انہیں مجبورنہیں کرتے۔البتہ اتنا عرض کرنا  چاہتے ہیں۔کہ تفریق عنوان سے نہیں ہوتی۔معنون سے ہوئی ہے اوریہ تفریق غالبا آپ کی موجودہ دعوت میں بھی موجود ہے۔ہمارے ایک مخلص اور پرانے رفیق گجرات میں تشریف رکھتے ہیں۔وہ اپنے اسم گرامی کے ساتھ ہمیشہ اثری لکھا کرتے ہیں۔وہ کتاب وسنت کی حمایت میں بڑی موثر تقریر فرماتے ہیں۔اہل حدیث مجالس میں بڑے شوق سے شامل ہوتے ہیں۔تو کچھ عرصہ سے انہیں جدت پسندی کا عارضہ ہوا ہے۔بعض غیر معروف مسائل میں انہوں نے تفرد ظاہر فرمایا عوام نے ان پر خاموشی کا اظہار کیا۔اب انہوں نے بعض متواتر اور اور منصوص مسائل میں جمہور آئمہ اہل حدیث اوراکابر اہل سنت کے خلاف راہ اجتہاد اختیار فرمائی اور محنت کر کے حضرت مسیح کا باپ تلاش کرلیا۔احباب نے کئی دفعہ مطالبہ کیا کہ جماعت اس کے متعلق رائے کا اظہار کرے۔میں سمجھتا ہوں یہ شخصی تفردات کتنے ہی گمراہ کیوں نہ ہوں۔اس سے کوئی جماعتی مسئلہ نہیں ہوسکتا۔متعارف اور مسلمہ مسائل سے اگر انحراف کی کبھی ضرورت محسوس ہو تو اس  کے لئے ضروری ہے کہ کتاب وسنت سے تمسک کیاجائےاور اس کے لئے طریقہ بھی سلف یعنی صحابہرضوان اللہ عنہم اجمعین  و تابعین کا اخیتا ر کیا جائے۔جیسا کہ حضرت امام احمد نے اپنے ایک شاگرد کو لکھا تھا۔

اصول السنة عندنا التمسك بما كان عليه اصحاب رسو ل الله صلي الله عليه وسلم والاقتدا ءبخم وترك البدع وترك الجلوس مع اهل الاهواء والسنة تفسير القران وهي دلا القران ومن لم يعرف تفسير الحديث ويبلغه عقله فقد كفي ذلك واحكم له فعليه بالايمان به والتسليم له

(طبقات الحنابلہ ج1 ص 24)اور شاہ والی اللہ نے اس جماعت کا تعارف ان لفظون سے کیا ہے۔

هم الاخذون في العقيدة والعمل جميعا بما ظهر من الكتاب والسنة وجاوي عليه جمهور الصحابة والتابعين الخ

ہر آدمی جو چاہے اس کا نام  رتحقیق رکھے۔تو ساری دنیا کے اہل بدعت اور ملاھدہ ارباب تحقئق قرار  پایئں گے اپنے رفقاء اور مخالفین دونوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ترک تقلید دوسری چیز ہے۔اور اہل حدیث دوسری چیز انہیں مرادف اور ہم معنی نہیں سمجھنا چاہیے۔ (الاعتصام جلد نمبر 16 ش 47۔48۔49)

 

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 11 ص 272-318

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ